السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: كراهية الإمارة، وكراهية تولي أعمالها لمن رأى من نفسه ضعفا، أو رأى فرضها عنه بغيره ساقطا باب: امارت (حکمرانی) کی کراہت، اور جو شخص اپنے اندر کمزوری محسوس کرے یا دیکھے کہ کسی دوسرے کے ذریعے اس پر سے یہ فرض ساقط ہو رہا ہے، تو اس کے لیے اس کی ذمہ داریاں سنبھالنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 20231
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، ثنا يَعْقُوبُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنبأ الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ: " إِنَّمَا مَثَلُ الْقَاضِي كَمَثَلِ رَجُلٍ يَسْبَحُ فِي الْبَحْرِ، فَكَمْ عَسَى يَسْبَحُ حَتَّى يَغْرَقَ " قَالَ: " وَطُلِبَ أَبُو قِلَابَةَ لِلْقَضَاءِ، فَهَرَبَ.حافظ ثناء اللہ
ایوب، ابو قلابہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ قاضی کی مثال ایسے آدمی کی طرح ہے جو سمندر میں تیرتا ہے، وہ کتنی دیر تیرتا رہے گا یہاں تک کہ غرق ہو جائے۔ ابو قلابہ رحمہ اللہ کو قاضی کے عہدے کے لیے طلب کیا گیا تو وہ بھاگ گئے۔