حدیث نمبر: 20229
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي زَكَرِيَّا، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، قَالَ: " كَانَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ رَجُلًا يَصُومُ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ وَهُوَ يَأْكُلُ خُبْزًا وَسِلْقًا، فَقَالَ ⦗١٦٧⦘ لَهُ: " تَعَالَ فَكُلْ "، قَالَ: فَسَأَلَهُ الرَّجُلُ عَنْ شَيْءٍ، قَالَ: " مَا لَكَ ظَنَنْتَ أَنَّهُ مِنْ أَمْرِ الْقَضَاءِ " فَقَالَ لَهُ سَعِيدٌ: أَرَاكَ أَحْمَقَ، اذْهَبْ إِلَى الْقَاضِي الَّذِي أُجْلِسَ لِهَذَا، أَتُرَانِي أَنِّي كُنْتُ أَشْغَلُ نَفْسِي بِهَذَا؟ " أَوْ قَالَ: " بِكَ ".
حافظ ثناء اللہ

امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ روزہ رکھتے تھے، ان کے پاس ایک آدمی آیا جو روٹی اور حلوہ کھا رہا تھا، اس نے کہا: آؤ کھاؤ۔ کہتے ہیں: آدمی نے کسی چیز کا سوال کیا، میرا خیال ہے قضاۃ کے امور میں سے کسی کا سوال کیا تو سعید رحمہ اللہ نے فرمایا: بیوقوف! قاضی کے پاس جاؤ جو اس کام کے لیے بٹھائے گئے ہیں، کیا میں اپنے آپ کو اس کام میں مصروف کر دوں یا تجھے بھی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20229
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»