السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: كراهية الإمارة، وكراهية تولي أعمالها لمن رأى من نفسه ضعفا، أو رأى فرضها عنه بغيره ساقطا باب: امارت (حکمرانی) کی کراہت، اور جو شخص اپنے اندر کمزوری محسوس کرے یا دیکھے کہ کسی دوسرے کے ذریعے اس پر سے یہ فرض ساقط ہو رہا ہے، تو اس کے لیے اس کی ذمہ داریاں سنبھالنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 20235
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، قَالَ: " كَانَ قَعْنَبٌ التَّمِيمِيُّ قَدْ دَعَاهُ وَالٍ، فَوَلَّاهُ الْقَضَاءَ فَأَبَى عَلَيْهِ، فَلَمْ يَزَلْ بِهِ حَتَّى قَبِلَ، فَلَمَّا خَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ بِعَهْدِهِ، رَمَى بِهِ وَتَوَارَى، قَالَ: " فَأَرْسَلَ الْوَالِي فِي طَلَبِهِ، فَبَيْنَمَا هُمْ يَطْلُبُونَهُ، إِذْ سَقَطَ عَلَيْهِ الْبَيْتُ الَّذِي كَانَ فِيهِ مُتَوَارِيًا فَلَمْ يَشْعُرُوا إِلَّا وَقَدْ خُرِجَ عَلَيْهِمْ بِجِنَازَتِهِ ".حافظ ثناء اللہ
سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قعنب تیمی رحمہ اللہ کو والی نے بلایا اور ان کو عہدۂ قضا دینے لگے تو انہوں نے انکار کر دیا۔ بار بار اصرار کے بعد عہدہ دے دیا گیا۔ جب وہ ان کے پاس سے نکلے تو عہدہ چھوڑ دیا اور چھپ گئے، تو امیر نے ان کی تلاش میں آدمی روانہ کیے۔ وہ تلاش کر رہے تھے کہ اس گھر کی چھت گر پڑی جس کے اندر وہ چھپے ہوئے تھے، ان کو پتا بھی نہ تھا۔ اس وقت پتا چلا جب ان کا جنازہ لایا گیا۔