السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: كراهية الإمارة، وكراهية تولي أعمالها لمن رأى من نفسه ضعفا، أو رأى فرضها عنه بغيره ساقطا باب: امارت (حکمرانی) کی کراہت، اور جو شخص اپنے اندر کمزوری محسوس کرے یا دیکھے کہ کسی دوسرے کے ذریعے اس پر سے یہ فرض ساقط ہو رہا ہے، تو اس کے لیے اس کی ذمہ داریاں سنبھالنے کی کراہت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، فِي قِصَّةِ مَقْتَلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ وَجَاءَ النَّاسُ يُثْنُونَ عَلَيْهِ، وَجَاءَ رَجُلٌ شَابٌّ، فَقَالَ: " أَبْشِرْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ بِبُشْرَى اللهِ لَكَ، مِنْ صُحْبَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدَمٍ فِي الْإِسْلَامِ مَا قَدْ عَلِمْتَ، ثُمَّ وُلِّيتَ فَعَدَلْتَ، ثُمَّ الشَّهَادَةُ "، قَالَ: " يَا ابْنَ أَخِي وَدِدْتُ أَنَّ ذَلِكَ كَفَافٌ، لَا عَلَيَّ وَلَا لِيَ "، فَلَمَّا أَدْبَرَ إِذَا إِزَارُهُ يَمَسُّ الْأَرْضَ، فَقَالَ: " رُدُّوا عَلَيَّ الْغُلَامَ "، قَالَ: " يَا ابْنَ أَخِي، ارْفَعْ ثَوْبَكَ، فَإِنَّهُ أَنْقَى لِثَوْبِكَ، وَأَتْقَى لِرَبِّكَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ.سیدنا عمرو بن میمون رحمہ اللہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے قتل کے قصے کے بارے میں بیان کیا کہ ہم ان کے پاس آئے تو لوگ ان کی تعریف کر رہے تھے۔ ایک نوجوان آدمی آیا، اس نے کہا: اے امیر المومنین! آپ کو اللہ کی طرف سے خوشخبری ہو، آپ کو رسول اللہ ﷺ کی صحبت حاصل ہوئی اور اسلام میں آپ کو وہ سبقت حاصل ہے جو آپ جانتے ہیں، پھر آپ امیر بنائے گئے تو آپ نے انصاف کیا، پھر (آپ کو) شہادت (نصیب ہوئی)۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے بھتیجے! یہ برابر ہی ہو جائے، نہ ثواب ہو اور نہ عذاب، اتنا ہی کافی ہے۔ جب وہ واپس مڑا تو اس کی چادر زمین کو چھو رہی تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس نوجوان کو واپس لاؤ۔ اے بھتیجے! اپنا کپڑا اوپر اٹھاؤ، یہ تمہارے کپڑے کی صفائی کے لیے زیادہ مناسب ہے اور تمہارے رب کی رضا کا باعث بھی ہے۔