السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: كراهية الإمارة، وكراهية تولي أعمالها لمن رأى من نفسه ضعفا، أو رأى فرضها عنه بغيره ساقطا باب: امارت (حکمرانی) کی کراہت، اور جو شخص اپنے اندر کمزوری محسوس کرے یا دیکھے کہ کسی دوسرے کے ذریعے اس پر سے یہ فرض ساقط ہو رہا ہے، تو اس کے لیے اس کی ذمہ داریاں سنبھالنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 20243
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ خَلَفَ بْنَ مُحَمَّدٍ الْبُخَارِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو أَحْمَدَ بْنَ نَصْرٍ رَئِيسَ نَيْسَابُورَ بِبُخَارَى يَقُولُ: ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ النَّيْسَابُورِيُّ، وَعُرِضَ عَلَيْهِ قَضَاءُ نَيْسَابُورَ فَاخْتَفَى ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، وَدَعَا اللهَ فَمَاتَ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ.حافظ ثناء اللہ
حسین بن منصور رحمہ اللہ پر نیساپور میں قضا کا عہدہ پیش کیا گیا، وہ تین دن تک چھپے رہے، انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور تیسرے دن فوت ہو گئے۔