حدیث نمبر: 20241
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ، ثنا أَبُو يَحْيَى زَكَرِيَّا بْنُ دَاوُدَ قَالَ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ يُوسُفَ السُّلَمِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ يَحْيَى يُعَاتِبُ الْحُسَيْنَ بْنَ مَنْصُورٍ عَلَى دُخُولِهِ فِي الْعَدَالَةِ، ثُمَّ قَالَ لَهُ: " أَلَيْسَ حَكَيْتَ أَنْتَ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، قَالَ: " لَا تَكُنْ مُعَدِّلًا، وَلَا مَنْ يَعْرِفُهُ مُعَدِّلٌ "، ثُمَّ قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى: " إِنَّمَا الْعَدَالَةُ طُبَيْقٌ يُبْعَثُ إِلَى أَحَدِهِمْ ".
حافظ ثناء اللہ

یحییٰ بن یحییٰ رحمہ اللہ، حسین بن منصور کو عدالت میں دخول کی وجہ سے ڈانٹ رہے تھے، پھر فرمایا: کیا تو نے سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کی حکایت نہیں سنی؟ فرماتے ہیں: نہ تو عادل کے ساتھ ہو اور نہ ہی اس کے ساتھ ہو جس کو قاضی جانتا ہو۔ عدالت ایک ذمہ داری ہے جو کسی ایک کے سپرد کی جاتی ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب آداب القاضي / حدیث: 20241
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»