السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: كراهية الإمارة، وكراهية تولي أعمالها لمن رأى من نفسه ضعفا، أو رأى فرضها عنه بغيره ساقطا باب: امارت (حکمرانی) کی کراہت، اور جو شخص اپنے اندر کمزوری محسوس کرے یا دیکھے کہ کسی دوسرے کے ذریعے اس پر سے یہ فرض ساقط ہو رہا ہے، تو اس کے لیے اس کی ذمہ داریاں سنبھالنے کی کراہت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي خَلَفُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبُخَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أَحْمَدَ وَهُوَ الْحَافِظُ الْبُخَارِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي عَمْرٍو الطَّوَاوِيسِيَّ يَقُولُ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْأَزْهَرِ: بَلَغَنِي عَنْ أَبِي يُوسُفَ قَالَ: " لَمَّا مَاتَ سَوَّارٌ قَاضِي أَهْلِ الْبَصْرَةِ دَعَا أَبُو جَعْفَرٍ - يَعْنِي الْمَنْصُورَ أَبَا حَنِيفَةَ، فَقَالَ لَهُ: " إِنَّ سَوَّارًا قَدْ مَاتَ، وَإِنَّهُ لَا بُدَّ لِهَذَا الْمِصْرِ "، يَعْنِي مِنْ قَاضٍ، " فَاقْبَلِ الْقَضَاءَ، فَقَدْ وَلَّيْتُكَ قَضَاءَ الْبَصْرَةِ "، فَقَالَ أَبُو حَنِيفَةَ: " وَاللهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ إِنِّي لَا أَصْلِحُ لِلْقَضَاءِ، وَوَاللهِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، لَئِنْ كُنْتُ صَادِقًا فَمَا يَسَعُكَ أَنْ تَسْتَقْضِيَ رَجُلًا لَا يَصْلُحُ لِلْقَضَاءِ، وَلَئِنْ كُنْتُ كَاذِبًا فَمَا يَسَعُكُ أَنْ تَسْتَقْضِيَ رَجُلًا كَذَّابًا، وَإِنَّهُ لَا يَصْلُحُ لِهَذَا الْأَمْرِ إِلَّا رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ، وَقَدْ أَصْبَحْتُ مُخَالِفًا لَكَ "، قَالَ: " فَقَالَ لَهُ أَبُو جَعْفَرٍ: " صَدَقْتَ، إِنَّكَ قُلْتَ: لَا يَصْلُحُ لِهَذَا الْأَمْرِ إِلَّا مِثْلُ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ، فَـ {تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ} [البقرة: ١٣٤]، الْآيَةُ، وَأَمَّا قَوْلُكَ: إِنَّهُ لَا يَصْلُحَ لِهَذَا الْأَمْرِ إِلَّا رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ، ⦗١٦٩⦘ فَإِنَّا نَأْخُذُ بِمَا قَالَ اللهُ تَعَالَى فِي كِتَابِهِ {إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَاكُمْ} [الحجرات: ١٣] وَلَيْسَ عَلَيْنَا إِلَّا الْجَهْدُ فِي أَهْلِ زَمَانِنِا، وَأَمَّا قَوْلُكُ: إِنَّكَ أَصْبَحْتَ مُخَالِفًا لِي، فَإِنَّ الرَّأْيَ يُخَالِفُ الرَّأْيَ، فَاقْبَلْ هَذَا الْأَمْرَ "، فَقَالَ أَبُو حَنِيفَةَ: " يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، لَئِنْ خَلَّيْتَ عَنِّي وَإِلَّا لَبَّيْتُ مَكَانِيَ السَّاعَةَ، فَمَا يَسَعُكَ أَنْ تَحْبِسَ مُلَبِّيًا "، قَالَ: فَخَلَّى عَنْهُ بَعْدَ ذَلِكَ.ابویوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بصرہ کے قاضی سوار فوت ہو گئے تو ابوجعفر منصور نے ابوحنیفہ رحمہ اللہ کو بلایا اور کہا: بصرہ کے قاضی سوار فوت ہو گئے، اس شہر کے لیے قاضی کی ضرورت ہے، میں آپ کو عہدہ قضا سونپ دیتا ہوں، اسے قبول کیجیے۔ ابوحنیفہ رحمہ اللہ کہنے لگے: اللہ کی قسم! میں عہدہ قضا کے لائق نہیں ہوں، اے امیر المؤمنین! اگر میں سچ بولتا ہوں تو پھر ایسے آدمی کو قضا کا عہدہ دینا مناسب نہیں جو اس کا لائق نہیں ہے، اور اگر میں جھوٹا ہوں تو کذاب آدمی کو عہدہ قضا نہ دیں۔ کسی عرب آدمی کے لیے یہ عہدہ مناسب ہے، میں آپ کی مخالفت کروں گا۔ راوی کہتے ہیں کہ منصور نے کہا: تو نے سچ کہا کہ اس عہدہ کے مناسب ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی طرح کے لوگ تھے۔ ﴿أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ﴾ [سورة البقرة: 134] ”یہ ایک امت تھی جو گزر گئی، ان کے لیے وہ ہے جو انہوں نے کمایا۔“ آپ کا یہ کہنا کہ عرب کے لوگ اس کے لائق ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ﴾ [سورة الحجرات: 13] ”اللہ کے ہاں تم میں سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ متقی ہے۔“ اپنے زمانے میں کوشش کرنا ہے اور آپ کا یہ کہنا کہ تو نے میری مخالفت مول لی، رائے تو ایک دوسرے کے مخالف ہو سکتی ہے، اس امر کو قبول کیجیے۔ ابوحنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اے امیر المؤمنین! میرا راستہ چھوڑ دیں، وگرنہ میں اپنی اسی جگہ سے قیامت تک تلبیہ کہنا شروع کر دوں گا، پھر کیا آپ تلبیہ کہنے والے کو روک سکیں گے؟ راوی کہتے ہیں: اس نے راستہ چھوڑ دیا۔