السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: كراهية الإمارة، وكراهية تولي أعمالها لمن رأى من نفسه ضعفا، أو رأى فرضها عنه بغيره ساقطا باب: امارت (حکمرانی) کی کراہت، اور جو شخص اپنے اندر کمزوری محسوس کرے یا دیکھے کہ کسی دوسرے کے ذریعے اس پر سے یہ فرض ساقط ہو رہا ہے، تو اس کے لیے اس کی ذمہ داریاں سنبھالنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 20217
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الطِّيبِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ زِيَادَ بْنَ الْحَارِثِ الصُّدَائِيَّ، صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَايَعْتُهُ عَلَى الْإِسْلَامِ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، قَالَ فِيهِ: فَنَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا، فَأَتَاهُ أَهْلُ ذَلِكَ الْمَنْزِلِ يَشْكُونَ عَامِلَهُمْ وَيَقُولُونَ: أَخَذَنَا بِشَيْءٍ كَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوَ فَعَلَ ذَلِكَ؟ "، فَقَالُوا: نَعَمْ، فَالْتَفَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَصْحَابِهِ، وَأَنَا فِيهِمْ، فَقَالَ: " لَا خَيْرَ فِي الْإِمَارَةِ لِرَجُلٍ مُؤْمِنٍ ".حافظ ثناء اللہ
زیاد بن نعیم حضرمی کہتے ہیں: زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ ﷺ کے صحابی ہیں، فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اسلام پر بیعت کی۔ ہمیں حدیث ذکر کی، اس میں ہے کہ آپ ﷺ نے ایک جگہ پڑاؤ ڈالا وہاں کے لوگ اپنے عامل کی شکایت کر رہے تھے۔ وہ کہہ رہے تھے: اس نے ہم سے ایسی چیزیں بھی لی ہیں جو ہمارے اور قریشیوں کے درمیان جاہلیت میں معاہدہ میں تھیں تو نبی ﷺ نے پوچھا: ”کیا اس نے ایسا کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ نبی ﷺ نے اپنے صحابہ کی طرف دیکھا، میں بھی ان میں شامل تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”مومن آدمی کے لیے امارت میں بھلائی نہیں ہے۔“