کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس دلیل کا بیان کہ قضاء (فیصلہ کرنا) اور حاکموں کے دیگر امور جو نیکی کا حکم دینے یا برائی سے روکنے پر مشتمل ہوں، فرض کفایہ ہیں۔
حدیث نمبر: 20177
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْجَهْمِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا، أَوْ مَظْلُومًا " قَالُوا: " يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَا نَنْصُرُهُ مَظْلُومًا، فَكَيْفَ نَنْصُرُهُ ظَالِمًا؟ "، قَالَ: " تَمْنَعُهُ مِنَ الظُّلْمِ ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهَيْنِ آخَرَيْنِ عَنْ حُمَيْدٍ. وُرُوِّينَا عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ " فَذَكَّرَهُنَّ، وَفِيهِنَّ: " نَصْرِ الْمَظْلُومِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے بھائی کی مدد کرو، چاہے وہ ظالم ہو یا مظلوم ہو۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! مظلوم کی مدد تو کریں لیکن ظالم کی؟ فرمایا: ”اس کو ظلم سے روک دو۔“
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا، ان میں مظلوم کی مدد کرنا بھی ہے۔
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا، ان میں مظلوم کی مدد کرنا بھی ہے۔
حدیث نمبر: 20178
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنَ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا تَمْتَامٌ، ⦗١٥٤⦘ ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ الْحَارِثِ، يَعْنِي: ابْنَ فُضَيْلٍ الْخَطْمِيِّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمِسْوَرِ عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ نَبِيٍّ بَعَثَهُ اللهُ فِي أُمَّةٍ قَبْلِي، إِلَّا كَانَ لَهُ مِنْ أُمَّتِهِ حَوَارِيُّونَ وَأَصْحَابٌ، يَأْخُذُونَ بِسُنَنِهِ، وَيَقْتَدُونَ بِهَا، ثُمَّ يَخْلُفُ مِنْ بَعْدِهِمْ خُلُوفٌ، يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ، وَيَفْعَلُونَ مَا لَا يُؤْمَرُونَ، فَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِيَدِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِلِسَانِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِقَلْبِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَلَيْسَ وَرَاءَ ذَلِكَ مِنَ الْإِيمَانِ حَبَّةُ خَرْدَلٍ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ وَحَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فِي مَعْنَاهُ، قَدْ مَضَى بِتَمَامِهِ فِي كِتَابِ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو بھی نبی اللہ رب العزت نے مجھ سے پہلے مبعوث کیا، اس کی امت میں سے اس کے حواری اور ساتھی ہوتے تھے، جو اس کی سنت کو لیتے اور اس کی پیروی کرتے تھے۔ پھر ان کے بعد ایسے ناخلف ہوئے جو وہ کہتے تھے جو کرتے نہیں تھے اور وہ کرتے تھے جس کا انہیں حکم نہیں دیا گیا تھا۔ پس جس نے ان سے اپنے ہاتھ سے جہاد کیا وہ مومن ہے، جس نے ان سے اپنی زبان سے جہاد کیا وہ مومن ہے اور جس نے ان سے اپنے دل سے جہاد کیا وہ مومن ہے، اس کے بعد ذرہ برابر بھی ایمان نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 20179
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْفَضْلِ الْفَحَّامُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ رَجَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا، فَإِنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يُغَيِّرَهُ بِيَدِهِ فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ، فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ، فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ.
حافظ ثناء اللہ
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو برائی کو دیکھے اگر طاقت ہو تو ہاتھ سے روکے، اگر طاقت نہ ہو تو زبان سے منع کرے، وگرنہ دل میں برا جانے، یہ کمزور ترین ایمان ہے۔“
حدیث نمبر: 20180
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْفَحَّامُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ، قَالَا: ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ مَخَافَةُ النَّاسِ أَنْ يَتَكَلَّمَ بِحَقٍّ إِذَا عَلِمَهُ " قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: " فَمَا زَالَ بِنَا الْبَلَاءُ حَتَّى قَصَّرْنَا، وَإِنَّا لَنُبَلِّغُ فِي السِّرِّ "..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں کا ڈر تمہیں حق بات کہنے سے نہ روکے جب تمہیں اس کا علم ہو۔“ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمارے اوپر مصائب ہی رہے یہاں تک کہ انتہا کر دی اور ہم پوشیدہ طور پر تبلیغ کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 20181
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَهُ. قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَذَاكَ الَّذِي حَمَلَنِي عَلَى أَنْ رَحَلْتُ إِلَى مُعَاوِيَةَ، فَمَلَأْتُ مَسَامِعَهُ، ثُمَّ رَجَعْتُ.
حافظ ثناء اللہ
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، پھر اس بات کا تذکرہ کیا۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ وہ بات ہے جس نے مجھے ابھارا کہ میں کوچ کر کے معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا۔ میں نے تبادلہ خیال کیا، پھر میں واپس پلٹا۔
حدیث نمبر: 20182
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْفَحَّامُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " كَانَ الْجِهَادُ ثَلَاثَةً، فَأَوَّلُ مَا يَغْلِبُ عَلَيْهِ الْيَدُ، ثُمَّ اللِّسَانُ، ثُمَّ الْقَلْبُ، فَإِذَا كَانَ الْقَلْبُ لَا يَعْرِفُ حَقًّا، وَلَا يُنْكِرُ مُنْكَرًا نُكِّسَ، فَجُعِلَ أَعْلَاهُ أَسْفَلَهُ ". هَذَا مَوْقُوفٌ.
حافظ ثناء اللہ
ابو جحیفہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جہاد کی تین اقسام ہیں: اول جس پر ہاتھ غالب ہو، پھر زبان، پھر دل؛ جب دل حق اور منکر کی پہچان نہ کر سکے تو اس کے اوپر والے حصے کو نیچے کر دیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 20183
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي طُوَالَةَ، عَنْ نَهَارٍ الْعَبْدِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللهَ لِيَسْأَلُ الْعَبْدَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَنْ كُلِّ شَيْءٍ، حَتَّى يَسْأَلَ: مَا مَنَعَكَ إِذْ رَأَيْتَ مُنْكَرًا أَنْ تُنْكِرَهُ؟ فَإِذَا لَقَّنَ اللهُ الْعَبْدَ حُجَّتَهُ، قَالَ: " يَا رَبِّ، رَجَوْتُكَ، وَخِفْتُ النَّاسَ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ رب العزت قیامت کے دن اپنے بندے سے پوچھے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ پوچھیں گے: ”جب تو نے برائی کو دیکھا تو تو نے (اس سے) منع کیوں نہ کیا؟“ جب اللہ رب العزت اپنے دلائل کو بندے پر ڈالیں گے تو بندہ کہے گا: ”میں تجھ سے امید رکھتا تھا اور لوگوں سے ڈرتا تھا۔““
حدیث نمبر: 20184
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْفَحَّامُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، إِجَازَةً، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَحْقِرَنَّ أَحَدُكُمْ نَفْسَهُ أَنْ يَرَى أَمْرَ اللهِ عَلَيْهِ فِيهِ مَقَالٌ، لَا يَقُومُ بِهِ، فَيَلْقَى اللهَ فَيَقُولَ: " مَا مَنَعَكَ أَنْ تَقُولَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا "؟ قَالَ: قَالَ: يَا رَبِّ، إِنِّي خَشِيتُ النَّاسَ، قَالَ: قَالَ: " إِيَّايَ أَحَقُّ أَنْ تَخْشَى ". وَتَابَعَهُ زُبَيْدٌ وَشُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی اپنے آپ کو حقیر نہ سمجھے کہ اللہ کا جو حکم ہے اس کے لیے اس میں کوئی بات ہو کہ وہ اسے نہ کرے۔ وہ اللہ سے ملاقات کرے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نے فلاں دن فلاں کام کیوں نہ کیا؟ وہ عرض کرے گا: اے اللہ! میں لوگوں سے ڈر گیا تھا، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ زیادہ حق اس بات کا تھا کہ تو مجھ سے ڈرتا۔“
حدیث نمبر: 20185
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْفَحَّامُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ مُطَهَّرٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْمُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي غَالِبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَمَى الْجَمْرَةَ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أِيُّ الْجِهَادِ أَحَبُّ إِلَى اللهِ؟ قَالَ: " كَلِمَةُ حَقٍّ تُقَالُ لِإِمَامٍ جَائِرٍ ". قَالَ الْمُعَلَّى: " وَكَانَ الْحَسَنُ يَقُولُ: " لِإِمَامٍ ظَالِمٍ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا، جس وقت جمرہ کو مارا گیا کہ ”کون سا جہاد افضل ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا۔“
حدیث نمبر: 20186
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْفَحَّامُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَارِئُ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، ح، وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، قَالَ: أنبأ أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدَآبَاذِيُّ، ثنا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ جَنْزَةَ الْمَدَائِنِيُّ، ثنا سَلَّامٌ أَبُو الْمُنْذِرِ الْمُقْرِئُ الْبَصْرِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ: أَمَرَنِي أَنْ أَنْظُرَ إِلَى مَنْ هُوَ دُونِي، وَلَا أَنْظُرَ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقِي، وَأَمَرَنِي بِحُبِّ الْمَسَاكِينِ، وَالدُّنُوِّ مِنْهُمْ، وَأَمَرَنِي أَنْ لَا أَسْأَلَ أَحَدًا شَيْئًا، وَأَمَرَنِي أَنْ أَصِلَ الرَّحِمَ، وَإِنْ أَدْبَرَتْ، وَأَمَرَنِي أَنْ أَقُولَ الْحَقَّ، وَإِنْ كَانَ مُرًّا، وَأَمَرَنِي أَنْ لَا يَأْخُذَنِي فِي اللهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ، وَأَمَرَنِي أَنْ أُكْثِرَ مِنْ قَوْلِ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ، ⦗١٥٦⦘ فَإِنَّهَا مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ ". لَفْظُ حَدِيثِهِ عَنِ الْمُحَمَّدَآبَاذِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن صامت سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میرے دوست ﷺ نے مجھے سات چیزوں کی وصیت کی: ”1۔ میں اس کی طرف دیکھوں جو مجھ سے کمتر ہے، اس کی طرف نہ دیکھوں جو مجھ سے بہتر ہے۔ 2۔ مساکین اور حقیر لوگوں سے محبت کا حکم دیا۔ 3۔ میں کسی سے سوال نہ کروں۔ 4۔ میں صلہ رحمی کروں اگرچہ وہ مجھے پیچھے ہی چھوڑ دیں۔ 5۔ حق کہوں اگرچہ کڑوا ہی کیوں نہ ہو۔ 6۔ اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خیال نہ کروں۔ 7۔ میں اکثر «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں“ کہتا رہوں کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔“
حدیث نمبر: 20187
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَسَوِيُّ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، وَالْحَسَنُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ فِي التَّاسِعِ مِنَ الْإِمْلَاءِ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
حدیث نمبر: 20188
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي قَالَا: أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ الْأَعْمَشُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَثَلُ الْوَاقِعِ فِي حُدُودِ اللهِ وَالْمُدَاهِنِ فِيهَا، كَمَثَلِ قَوْمٍ اسْتَهَمُوا عَلَى سَفِينَةٍ، فَأَصَابَ بَعْضُهُمْ سُفْلًا وَأَصَابَ بَعْضُهُمْ عُلْوًا فَكَانَ الَّذِينَ فِي السُّفْلِ يَسْتَقُونَ مِنَ الْعُلُوِّ، فَيَمُرُّونَ عَلَيْهِمْ، فَيُؤْذُونَهُمْ، فَقَالَ الَّذِينَ فِي الْعُلُوِّ: " قَدْ آذَيتُمُونَا، تَصُبُّونَ عَلَيْنَا الْمَاءَ "، قَالَ: " فَأَخَذُوا فَأْسًا "، يَعْنِي الَّذِينَ فِي السُّفْلِ، " فَجَعَلُوا يَحْفِرُونَ فِي السَّفِينَةِ، فَقَالَ لَهُمُ الَّذِينَ فِي الْعُلُوِّ: " مَا تَصْنَعُونَ؟ "، " فَإِنْ تَرَكُوهُمْ وَمَا يُرِيدُونَ هَلَكُوا جَمِيعًا، وَإِنْ أَخَذُوا عَلَى أَيْدِيهِمْ نَجَوْا جَمِيعًا ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی حدود میں واقع ہونے اور سستی کرنے والے کی مثال ان کشتی والوں کی طرح ہے، جنہوں نے کشتی کے اوپر اور نیچے والے حصہ کے بارے میں قرعہ اندازی کی، تو نیچے کے حصہ والے اوپر والوں سے پانی لاتے تھے۔ وہ ان کے پاس سے گزرتے تو ان اوپر والوں کو تکلیف ہوتی۔ اوپر والے کہنے لگے: تم ہمارے اوپر پانی گراتے ہو جس سے ہمیں تکلیف ہوتی ہے۔ راوی فرماتے ہیں کہ نیچے والوں نے کلہاڑا پکڑ لیا اور کشتی کو توڑنے لگے۔ اوپر والوں نے کہا: تم کیا کر رہے ہو؟ اگر انہوں نے انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا جس کا وہ ارادہ رکھتے ہیں تو وہ تمام ہلاک ہو جائیں گے، اور اگر ان کے ہاتھ پکڑ لیں گے تو وہ سب نجات پا لیں گے۔“
حدیث نمبر: 20189
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْفَحَّامُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: " قَامَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَحَمِدَ اللهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ تَقْرَؤُونَ هَذِهِ الْآيَةَ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ} [المائدة: ١٠٥] وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوَا الظَّالِمَ ثُمَّ لَمْ يَأْخُذُوا عَلَى يَدَيْهِ أَوْشَكُوْا أَنْ يَعُمَّهُمُ اللهُ بِعِقَابٍ "..
حافظ ثناء اللہ
قیس بن ابی حازم فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر کہا: اے لوگو! تم یہ آیت پڑھتے ہو: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ﴾ [سورة المائدة: 105] ”اے لوگو! جو ایمان لائے ہو تم اپنے نفسوں کو لازم پکڑو، جب تم ہدایت یافتہ ہوئے کسی کی گمراہی تمہیں نقصان نہ دے گی۔“
میں نے نبی ﷺ سے سنا ہے، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”جب لوگ ظالم کو دیکھیں پھر اس کا ہاتھ نہ پکڑیں تو قریب ہے کہ اللہ ان سب کو اپنے عذاب میں مبتلا کر دے۔“
میں نے نبی ﷺ سے سنا ہے، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”جب لوگ ظالم کو دیکھیں پھر اس کا ہاتھ نہ پکڑیں تو قریب ہے کہ اللہ ان سب کو اپنے عذاب میں مبتلا کر دے۔“
حدیث نمبر: 20190
وَرَوَاهُ خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، بِمَعْنَاهُ، زَادَ فِيهِ: " إِنَّكُمْ تَقْرَؤُونَ هَذِهِ الْآيَةَ، وَتَضَعُونَهَا عَلَى غَيْرِ مَوْضِعِهَا، ". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ الواسطی، اسماعیل سے نقل فرماتے ہیں، یہ اسی معنی میں ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ ”تم اس آیت کو پڑھتے ہو لیکن اس کو بغیر محل کے استعمال کرتے ہو۔“
حدیث نمبر: 20191
وَرَوَاهُ هُشَيْمٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، بِزِيَادَتِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ قَوْمٍ يُعْمَلُ فِيهِمْ بِالْمَعَاصِي، يَقْدِرُونَ عَلَى أَنْ يُغَيِّرُوا فَلَا يُغَيِّرُوا، إِلَّا أَوْشَكَ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللهُ مِنْهُ بِعِقَابٍ ". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مَهْرَوَيْهِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ سِنَانٍ الرَّازِيُّ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ الْوَاسِطِيُّ، أنبأ هُشَيْمٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
ہشیم، اسماعیل سے کچھ اضافے کے ساتھ نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا: ”جس قوم میں گناہ عام ہو اور وہ اسے روکنے کی طاقت رکھتے ہوں لیکن نہ روکیں، تو ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب کو عذاب میں مبتلا کر دے۔“
حدیث نمبر: 20192
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْفَحَّامُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ عُبْدُوسُ بْنُ الْحُسَيْنِ السِّمْسَارُ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، قَالَا: أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ قَوْمٍ يُعْمَلُ فِيهِمْ بِالْمَعَاصِي هُمْ أَكْثَرُ وَأَعَزُّ مِمَّنْ يَعْمَلُ بِهَا، ثُمَّ لَا يُغَيِّرُونَهُ، إِلَّا يُوشِكُ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللهُ بِعِقَابٍ " وَفِي حَدِيثِ وَهْبٍ " إِلَّا عَمَّهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
عبیداللہ بن جریر اپنے والد (سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس قوم میں نافرمانی عام ہو اور معزز لوگ نافرمانی کریں، پھر وہ اسے منع نہ کریں، تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پر عذاب مسلط کر دے۔“
حدیث نمبر: 20193
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدٍ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، أنبأ عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ الْهَمْدَانِيُّ ح وَأنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ جَارِيَةَ اللَّخْمِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو أُمَيَّةَ الشَّعْبَانِيُّ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الشَّعْبَانِيِّ، قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ فَقُلْتُ: " كَيْفَ تَصْنَعُ بِهَذِهِ الْآيَةِ؟ " قَالَ: " أَيَّةُ آيَةٍ؟ "، قَالَ: قُلْتُ: " قَوْلُهُ تَعَالَى {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ} [المائدة: ١٠٥] قَالَ: " أَمَا وَاللهِ لَقَدْ سَأَلْتُ عَنْهَا خَبِيرًا، سَأَلْتُ عَنْهَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " بَلْ أَنْتُمُ ائْتَمِرُوا بِالْمَعْرُوفِ، وَتَنَاهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ، حَتَّى إِذَا رَأَيْتَ شُحًّا مُطَاعًا، وَهَوًى مُتَّبَعًا، وَدُنْيَا مُؤْثَرَةً، وَإِعْجَابَ كُلِّ ذِي رَأْيٍ بِرَأْيِهِ، وَرَأَيْتَ أَمْرًا لَا يَدَانِ لَكَ بِهِ، فَعَلَيْكَ نَفْسَكَ، وَدَعْ عَنْكَ أَمْرَ الْعَوَامِّ، فَإِنَّ مِنْ وَرَائِكَ أَيَّامَ الصَّبْرِ، الصَّبْرُ فِيهِنَّ مِثْلُ قَبْضٍ عَلَى الْجَمْرِ، لِلْعَامِلِ فِيهِنَّ كَأَجْرِ خَمْسِينَ رَجُلًا يَعْمَلُونَ مِثْلَ عَمَلِهِ ". لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ شُعَيْبٍ زَادَ ابْنُ الْمُبَارَكِ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ: وَزَادَنِي غَيْرُهُ: قَالُوا: " يَا رَسُولَ اللهِ، أَجْرُ خَمْسِينَ مِنْهُمْ؟ "، قَالَ: " أَجْرُ خَمْسِينَ مِنْكُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی شعیب، ابو امیہ شعبانی رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں ابو ثعلبہ خشانی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، میں نے کہا: اس آیت کا آپ کیا مفہوم لیتے ہیں؟ کہنے لگے: کون سی آیت؟ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ﴾ [سورة المائدة: 105] ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم اپنے نفسوں کو لازم پکڑو۔ جب تم ہدایت یافتہ ہوئے تو کسی کی گمراہی تمہیں نقصان نہ دے گی۔“ کہنے لگے: میں نے اس کا سوال جبیر رحمہ اللہ سے کیا۔ انہوں نے نبی ﷺ سے پوچھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم ایک دوسرے کو نیکی کا حکم اور برائی سے منع کرو۔ جب تم ایسی بخیلی کو دیکھو جس کی پیروی کی جائے اور ایسی خواہش جس کی اتباع کی جائے اور دنیا کو ترجیح دی جائے اور آدمی اپنی رائے کو پسند کرے اور آپ ایسا معاملہ دیکھیں جو آپ کے بس کی بات نہ ہو، اس وقت اپنے آپ کو لازم پکڑو اور عوام کے مسائل کو چھوڑ دو۔ کیونکہ اس کے بعد صبر کے ایام ہیں۔ ان ایام میں صبر کرنا جیسے کوئلے کو ہاتھ میں پکڑنا ہے۔ ان ایام میں عمل کرنے والے کو پچاس آدمیوں کے اجر کے برابر ثواب ہوگا۔“
(ب) ابن شعیب کی حدیث کے لفظ، جس میں ابن مبارک کی روایت ہی ہے، یہ ہیں کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا ان میں سے پچاس آدمیوں کا ثواب ملے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ تمہارے پچاس آدمیوں کے ثواب کے برابر ثواب ملے گا۔“
(ب) ابن شعیب کی حدیث کے لفظ، جس میں ابن مبارک کی روایت ہی ہے، یہ ہیں کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا ان میں سے پچاس آدمیوں کا ثواب ملے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ تمہارے پچاس آدمیوں کے ثواب کے برابر ثواب ملے گا۔“
حدیث نمبر: 20194
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نُذَيْرِ بْنِ جَنَاحٍ الْقَاضِي بِالْكُوفَةِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرْزَةَ، أنبأ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، قَالَ: " كَانُوا عِنْدَ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَوَقَعَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ مَا يَقَعُ بَيْنَ النَّاسِ، فَوَثَبَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا إِلَى صَاحِبِهِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: " أَلَا أَقُومُ فَآمُرَهُمَا بِالْمَعْرُوفِ، وَأَنْهَاهُمَا عَنِ الْمُنْكَرِ "، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: " عَلَيْكَ نَفْسَكَ، إِنَّ اللهَ تَعَالَى قَالَ {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ} [المائدة: ١٠٥] فَسَمِعَهَا ابْنُ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: " لَمْ يَجِئْ تَأْوِيلُ هَذِهِ الْآيَةِ بَعْدُ، إِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ حِينَ أُنْزِلَ وَكَانَ مِنْهُ آيٌ مَضَى تَأْوِيلُهُ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ، وَكَانَ مِنْهُ آيٌ وَقَعَ تَأْوِيلُهُ بَعْدَ الْيَوْمِ، وَمِنْهُ آيٌ يَقَعُ تَأْوِيلُهُ ⦗١٥٨⦘ عِنْدَ السَّاعَةِ، وَمَا ذَكَرُوا مِنْ أَمْرِ السَّاعَةِ، وَمِنْهُ آيٌ يَقَعُ تَأْوِيلُهُ بَعْدَ يَوْمِ الْحِسَابِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ، فَمَا دَامَتْ قُلُوبُكُمْ وَاحِدَةً وَأَهْوَاؤُكُمْ وَاحِدَةً، وَلَمْ تَلْبِسُوا شِيَعًا وَلَمْ يَذُقْ بَعْضُكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ، فَمُرُوا وَانْهَوْا، فَإِذَا اخْتَلَفَتِ الْقُلُوبُ وَالْأَهْوَاءُ وَأُلْبِسْتُمْ شِيَعًا وَذَاقَ بَعْضُكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ، فَامْرُؤٌ وَنَفْسُهُ، فَعِنْدَ ذَلِكَ جَاءَ تَأْوِيلُهَا ".
حافظ ثناء اللہ
ابوعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس تھے، دو آدمیوں کے درمیان جھگڑا ہو گیا، ان میں سے ہر ایک دوسرے کی طرف کود رہا تھا، ان میں سے بعض نے کہا: کیا میں ان کو نیکی کا حکم اور برائی سے منع نہ کروں؟ بعض کہنے لگے: اپنے نفس کو لازم پکڑو، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ﴾ [سورة المائدة: 105] ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم اپنے نفسوں کو لازم پکڑو، جب تم ہدایت یافتہ ہوئے تو کسی کی گمراہی تمہیں نقصان نہ دے گی۔“ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ بات سنی تو انہوں نے فرمایا: اس آیت کی تفسیر بعد میں نہ آئے گی، جب قرآن نازل کیا گیا، بعض آیات تو ایسی بھی ہیں کہ نزول سے پہلے تفسیر کر دی گئی، کسی آیت کی ایک دن بعد تفسیر کر دی گئی اور کسی آیت کی تفسیر قیامت کو ہو گی جو انہوں نے قیامت کے امور کے متعلق بیان کیا اور بعض کی تفسیر حساب و کتاب، جنت و جہنم کے بعد میں ہو گی، تمہارے دل اور خواہشات ایک رہیں اور گروہوں کا التباس نہ ہوا اور بعض تمہارے نے بعض سے تکلیف کو بھی نہ چکھا، نیکی کا حکم دو، برائی سے منع کرو، تمہارے دل اور خواہشات مختلف ہوں گی، تم گروہوں میں بٹ گئے اور جب تمہارے بعض بعض سے تکلیف پائیں گے، اس وقت انسان صرف اپنا بچاؤ رکھیں گے، اس وقت اس کی تفسیر آئے گی۔
حدیث نمبر: 20195
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ الْعَبَّاسِ وَهُوَ يَقْرَأُ فِي الْمُصْحَفِ قَبْلَ أَنْ يَذْهَبَ بَصَرُهُ وَهُوَ يَبْكِي، فَقُلْتُ: " مَا يُبْكِيكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ؟ جَعَلَنِي اللهُ فِدَاءَكَ "، فَقَالَ لِي: " هَلْ تَعْرِفُ أَيْلَةَ "، فَقُلْتُ: " وَمَا أَيْلَةُ؟ "، قَالَ: " قَرْيَةٌ كَانَ بِهَا نَاسٌ مِنَ الْيَهُودِ فَحَرَّمَ اللهُ عَلَيْهِمُ الْحِيتَانَ يَوْمَ السَّبْتِ، فَكَانَتْ حِيتَانُهُمْ تَأْتِيهِمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا بِيضٌ سِمَانٌ كَأَمْثَالِ الْمَخَاضِ بِأَفْنِيَائِهِمْ وَأَبْنِيَاتِهِمْ فَإِذَا كَانَ غَيْرَ يَوْمِ السَّبْتِ لَمْ يَجِدُوهَا، وَلَمْ يُدْرِكُوهَا إِلَّا فِي مَشَقَّةٍ وَمَؤوُنَةٍ شَدِيدَةٍ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ، أَوْ مَنْ قَالَ ذَلِكَ مِنْهُمْ: " لَعَلَّنَا لَوْ أَخَذْنَاهَا يَوْمَ السَّبْتِ، وَأَكَلْنَاهَا فِي غَيْرِ يَوْمِ السَّبْتِ "، فَفَعَلَ ذَلِكَ أَهْلُ بَيْتٍ مِنْهُمْ، فَأَخَذُوا؛ فَشَوَوْا؛ فَوَجَدَ جِيرَانُهُمْ رِيحَ الشِّوَاءِ، فَقَالُوا: " وَاللهِ مَا نَرَى أَصَابَ بَنِي فُلَانٍ شَيْءٌ "، فَأَخَذَهَا آخَرُونَ حَتَّى فَشَا ذَلِكَ فِيهِمْ وَكَثُرَ، فَافْتَرَقُوا فِرَقًا ثَلَاثَةً: فِرْقَةٌ أَكَلَتْ، وَفِرْقَةٌ نَهَتْ، وَفِرْقَةٌ قَالَتْ " {لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا} [الأعراف: ١٦٤] " فَقَالَتِ الْفُرْقَةُ الَّتِي نَهَتْ: إِنَّا نُحَذِّرُكُمْ غَضَبَ اللهِ وَعِتَابَهُ أَنْ يُصِيبَكُمُ اللهُ بِخَسْفٍ أَوْ قَذْفٍ أَوْ بِبَعْضِ مَا عِنْدَهُ مِنَ الْعَذَابِ، وَاللهِ لَا نُبَايِتُكُمْ فِي مَكَانٍ وَأَنْتُمْ فِيهِ "، قَالَ: " فَخَرَجُوا مِنَ السُّورِ، فَغَدَوْا عَلَيْهِ مِنَ الْغَدِ، فَضَرَبُوا بَابَ السُّورِ، فَلَمْ يُجِبْهُمْ أَحَدٌ، فَأَتَوْا بِسُلَّمٍ، فَأَسْنَدُوهُ إِلَى السُّورِ، ثُمَّ رَقِيَ مِنْهُمْ رَاقٍ عَلَى السُّورِ، فَقَالَ: يَا عِبَادَ اللهِ، قِرَدَةٌ وَاللهِ لَهَا أَذْنَابٌ تَعَادَى، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ نَزَلَ مِنَ السُّورِ، فَفَتَحَ السُّورَ، فَدَخَلَ النَّاسُ عَلَيْهِمْ، فَعَرَفَتِ الْقُرُودُ أَنْسَابَهَا مِنَ الْإِنْسِ، وَلَمْ تَعْرِفِ الْإِنْسُ أَنْسَابَهَا مِنَ الْقُرُودِ، قَالَ: فَيَأْتِي الْقِرْدُ إِلَى نَسِيبِهِ وَقَرِيبِهِ مِنَ الْإِنْسِ، فَيَحْتَكُّ بِهِ، وَيَلْصَقُ بِهِ، وَيَقُولُ الْإِنْسَانُ: " أَنْتَ فُلَانٌ؟ " فَيُشِيرُ بِرَأْسِهِ، أَيْ: نَعَمْ، وَيَبْكِي، وَتَأْتِي الْقِرْدَةُ إِلَى نَسِيبِهَا وَقَرِيبِهَا مِنَ الْإِنْسِ، فَيَقُولُ لَهَا الْإِنْسَانُ: " أَنْتِ فُلَانَةُ؟ " فتشيرُ بِرَأْسِهَا، أَيْ: نَعَمْ، وَتَبْكِي، فَيَقُولُ لَهُمُ الْإِنْسُ: " إِنَّا حَذَّرْنَاكُمْ غَضَبَ اللهِ وَعِقَابَهُ أَنْ يُصِيبَكُمْ بِخَسْفٍ أَوْ مَسْخٍ أَوْ بِبَعْضِ مَا عِنْدَهُ مِنَ الْعَذَابِ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: فَأَسْمَعُ اللهَ تَعَالَى يَقُولُ {فأَنْجَيْنَا الَّذِينَ يَنْهَوْنَ عَنِ السُّوءِ وَأَخَذْنَا الَّذِينَ ظَلَمُوا بِعَذَابٍ بَئِيسٍ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ} فَلَا أَدْرِي مَا فَعَلْتِ الْفِرْقَةُ الثَّالِثَةُ؟ " قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: " فَكَمْ قَدْ رَأَيْنَا مُنْكَرًا فَلَمْ نَنْهَ عَنْهُ، قَالَ عِكْرِمَةُ: " فَقُلْتُ: أَلَا تَرَى - جَعَلَنِي اللهُ فِدَاءَكَ - أَنَّهُمْ قَدْ أَنْكَرُوا وَكَرِهُوا حِينَ قَالُوا: {لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا ⦗١٥٩⦘ اللهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا} [الأعراف: ١٦٤] "، فَأَعْجَبَهُ قُولِي ذَلِكَ، وَأَمَرَ لِي بِبُرْدَيْنِ غَلِيظَينِ، فَكَسَانِيهِمَا.
حافظ ثناء اللہ
عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا جب کہ وہ قرآن کریم کی تلاوت کر رہے تھے، ابھی ان کی بینائی درست تھی اور وہ رو رہے تھے، میں نے پوچھا: اے ابن عباس رضی اللہ عنہما! آپ کو کون سی چیز رلا رہی ہے؟ اللہ مجھے آپ پر فدا کرے! انہوں نے مجھ سے فرمایا: ”کیا تم ایلہ بستی کو جانتے ہو؟“ میں نے کہا: ایلہ کیا ہے؟ فرمایا: ”اس بستی میں یہودی آباد تھے تو اللہ تعالیٰ نے ہفتہ کے دن ان پر مچھلی پکڑنا حرام قرار دے دیا، ہفتہ کے دن مچھلیاں خوب موٹی تازی اور ظاہر ہو کر آتیں، گویا کہ ان کے حوض بھرے ہوئے محسوس ہوتے اور جب ہفتہ کا دن نہ ہوتا تو وہ صرف مشقت اور تکلیف کے ساتھ مچھلی حاصل کر پاتے۔ ان میں سے بعض بعض سے کہنے لگے یا ان میں سے کچھ لوگوں نے کہا کہ اگر ہم انہیں ہفتہ کے دن پکڑ لیں اور دوسرے دن کھا لیا کریں (تو کیا حرج ہے)؟ چنانچہ ایک گھر والوں نے ایسا کر لیا، انہوں نے مچھلی پکڑی اور اسے بھونا تو ان کے پڑوسیوں نے بھنی ہوئی مچھلی کی خوشبو پائی، وہ کہنے لگے: فلاں کو تو کچھ بھی نہیں ہوا۔ پھر دوسروں نے بھی مچھلی پکڑنا شروع کر دی، یہاں تک کہ یہ بات بستی میں عام ہو گئی اور وہ لوگ تین گروہوں میں تقسیم ہو گئے: ایک وہ جو مچھلی کھاتے تھے، دوسرے وہ جو منع کرتے تھے اور تیسرے وہ جنہوں نے کہا: ﴿لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا﴾ [سورة الأعراف: 164] ”تم ایسی قوم کو کیوں نصیحت کرتے ہو جسے اللہ ہلاک کرنے والا ہے یا اسے سخت عذاب دینے والا ہے؟“
اس گروہ نے جو (برائی سے) منع کرتا تھا، کہا: ہم تمہیں اللہ کے غصے، عذاب اور زمین میں دھنسائے جانے یا پتھروں کی بارش ہونے یا اس کے علاوہ دیگر عذابوں سے ڈراتے ہیں، اللہ کی قسم! ہم اس جگہ رات نہیں گزاریں گے جہاں تم رہتے ہو۔ چنانچہ وہ بستی سے نکل گئے، جب صبح ہوئی تو انہوں نے آ کر ان کے دروازے کھٹکھٹائے لیکن کوئی جواب نہ ملا، پھر وہ سیڑھیاں لائے اور انہیں دیواروں کے ساتھ لگایا، ایک شخص اس کے ذریعے دیوار پر چڑھا اور پکارنے لگا: اے اللہ کے بندو! یہ تو بندر بن چکے ہیں، اللہ کی قسم! ان کی دمیں ہیں، اس نے تین مرتبہ یہ کہا، پھر وہ دیوار سے اترا اور دروازہ کھولا، جب لوگ داخل ہوئے تو بندروں نے اپنے رشتہ داروں کو پہچان لیا لیکن انسان بندروں میں سے اپنے رشتہ داروں کو نہ پہچان سکے، وہ بندر اپنے انسانی رشتہ دار کے پاس آتے اور اس سے چمٹ جاتے، انسان ان سے پوچھتے: کیا تم فلاں ہو؟ تو وہ سر کے اشارے سے کہتے: ہاں، اور وہ روتے تھے۔ انسان ان سے کہتے تھے: ہم تمہیں اللہ کے غضب، عذاب، زمین میں دھنسائے جانے، شکلوں کے بگڑنے یا اس کے علاوہ اللہ کے دیگر عذابوں سے ڈراتے رہے تھے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان سنا رہے تھے: ﴿أَنْجَيْنَا الَّذِينَ يَنْهَوْنَ عَنِ السُّوءِ وَأَخَذْنَا الَّذِينَ ظَلَمُوا بِعَذَابٍ بَئِيسٍ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ﴾ [سورة الأعراف: 165] ”ہم نے ان لوگوں کو نجات دی جو برائی سے منع کرتے تھے اور ظالموں کو ان کی نافرمانی کی وجہ سے سخت عذاب میں پکڑ لیا۔“ (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:) ”میں نہیں جانتا کہ تیسرے گروہ کے ساتھ کیا کیا گیا۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”ہم کتنی ہی برائیاں دیکھتے ہیں لیکن ان سے منع نہیں کرتے۔“ عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ مجھے آپ پر فدا کرے! آپ کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے تو (برائی کا) انکار کیا تھا اور اسے ناپسند کیا تھا جب انہوں نے یہ کہا تھا: ﴿لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا﴾ [سورة الأعراف: 164]۔ عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میری یہ بات انہیں پسند آئی اور انہوں نے مجھے دو موٹی چادریں پہنانے کا حکم دیا۔
اس گروہ نے جو (برائی سے) منع کرتا تھا، کہا: ہم تمہیں اللہ کے غصے، عذاب اور زمین میں دھنسائے جانے یا پتھروں کی بارش ہونے یا اس کے علاوہ دیگر عذابوں سے ڈراتے ہیں، اللہ کی قسم! ہم اس جگہ رات نہیں گزاریں گے جہاں تم رہتے ہو۔ چنانچہ وہ بستی سے نکل گئے، جب صبح ہوئی تو انہوں نے آ کر ان کے دروازے کھٹکھٹائے لیکن کوئی جواب نہ ملا، پھر وہ سیڑھیاں لائے اور انہیں دیواروں کے ساتھ لگایا، ایک شخص اس کے ذریعے دیوار پر چڑھا اور پکارنے لگا: اے اللہ کے بندو! یہ تو بندر بن چکے ہیں، اللہ کی قسم! ان کی دمیں ہیں، اس نے تین مرتبہ یہ کہا، پھر وہ دیوار سے اترا اور دروازہ کھولا، جب لوگ داخل ہوئے تو بندروں نے اپنے رشتہ داروں کو پہچان لیا لیکن انسان بندروں میں سے اپنے رشتہ داروں کو نہ پہچان سکے، وہ بندر اپنے انسانی رشتہ دار کے پاس آتے اور اس سے چمٹ جاتے، انسان ان سے پوچھتے: کیا تم فلاں ہو؟ تو وہ سر کے اشارے سے کہتے: ہاں، اور وہ روتے تھے۔ انسان ان سے کہتے تھے: ہم تمہیں اللہ کے غضب، عذاب، زمین میں دھنسائے جانے، شکلوں کے بگڑنے یا اس کے علاوہ اللہ کے دیگر عذابوں سے ڈراتے رہے تھے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان سنا رہے تھے: ﴿أَنْجَيْنَا الَّذِينَ يَنْهَوْنَ عَنِ السُّوءِ وَأَخَذْنَا الَّذِينَ ظَلَمُوا بِعَذَابٍ بَئِيسٍ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ﴾ [سورة الأعراف: 165] ”ہم نے ان لوگوں کو نجات دی جو برائی سے منع کرتے تھے اور ظالموں کو ان کی نافرمانی کی وجہ سے سخت عذاب میں پکڑ لیا۔“ (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:) ”میں نہیں جانتا کہ تیسرے گروہ کے ساتھ کیا کیا گیا۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”ہم کتنی ہی برائیاں دیکھتے ہیں لیکن ان سے منع نہیں کرتے۔“ عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اللہ مجھے آپ پر فدا کرے! آپ کا کیا خیال ہے؟ انہوں نے تو (برائی کا) انکار کیا تھا اور اسے ناپسند کیا تھا جب انہوں نے یہ کہا تھا: ﴿لِمَ تَعِظُونَ قَوْمًا اللَّهُ مُهْلِكُهُمْ أَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا﴾ [سورة الأعراف: 164]۔ عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میری یہ بات انہیں پسند آئی اور انہوں نے مجھے دو موٹی چادریں پہنانے کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 20196
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، ثنا يُونُسُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَوَّلَ مَا دَخَلَ النَّقْصُ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَ الرَّجُلُ يَلْقَى الرَّجُلَ، فَيَقُولُ: " يَا هَذَا، اتَّقِ اللهَ وَدَعْ مَا تَصْنَعُ، فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ لَكَ "، " ثُمَّ يَلْقَاهُ مِنَ الْغَدِ، فَلَا يَمْنَعُهُ ذَلِكَ أَنْ يَكُونَ أَكِيلَهُ وَشَرِيبَهُ وَقَعِيدَهُ فَلَمَّا فَعَلُوا ذَلِكَ ضَرَبَ اللهُ قُلُوبَ بَعْضِهِمْ بِبَعْضٍ "، ثُمَّ قَالَ " {لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى لِسَانِ دَاوُدَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ذَلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ} {كَانُوا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُنْكَرٍ فَعَلُوهُ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ} [المائدة: ٧٩] "، ثُمَّ قَالَ: " كَلَّا وَاللهِ، لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ، وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَلَتَأْخُذُنَّ عَلَى يَدِ الظَّالِمِ، وَلَتَأْطُرُنَّهُ عَلَى الْحَقِّ أَطْرًا وَلَتَقْصُرُنَّهُ عَلَى الْحَقِّ قَصْرًا ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بنی اسرائیل کے اندر سب سے پہلا نقص جو پیدا ہوا یہ تھا کہ آدمی آدمی سے ملتا اور کہتا کہ اللہ سے ڈرو اور جو کر رہے ہو چھوڑ دو۔ یہ آپ کے لیے جائز نہیں ہے، پھر دوسرے دن ملاقات ہوتی تو منع نہ کرتا بلکہ ان کے ساتھ کھانے، پینے اور مجلس میں خود بھی شریک ہو جاتا۔ جب انہوں نے یہ کام کیا تو اللہ نے ان کے دلوں میں اختلاف پیدا کر دیا،“ پھر فرمایا: ﴿لُعِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ بَنِيْ إِسْرَائِيْلَ عَلٰى لِسَانِ دَاوٗدَ وَعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّكَانُوْا يَعْتَدُوْنَ * كَانُوْا لَا يَتَنَاھَوْنَ عَنْ مُّنْکَرٍ فَعَلُوْہُ لَبِئْسَ مَا کَانُوْا یَفْعَلُوْنَ﴾ [سورة المائدة: 78-79] ”بنی اسرائیل کے کافر داؤد اور عیسیٰ بن مریم کی زبانی لعنت کیے گئے۔ یہ ان کی نافرمانی اور حد سے تجاوز کی وجہ سے ہوا۔ وہ برائی سے منع نہ کرتے تھے۔ برا ہے جو وہ کرتے تھے۔“
پھر فرمایا: ”ضرور تم نیکی کا حکم دو گے اور برائی سے منع کرو گے۔ ضرور تم ظالم کا ہاتھ پکڑو گے اور حق پر جم جاؤ گے اور حق کی مخالفت میں کمی آئے گی۔“
پھر فرمایا: ”ضرور تم نیکی کا حکم دو گے اور برائی سے منع کرو گے۔ ضرور تم ظالم کا ہاتھ پکڑو گے اور حق پر جم جاؤ گے اور حق کی مخالفت میں کمی آئے گی۔“
حدیث نمبر: 20197
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ غَالِبٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أَرْبَعِ نِسْوَةٍ، بَعْضُهُنَّ أَسْفَلُ مِنْ بَعْضٍ، فَقِيلَ: " يَا أَبَا مُحَمَّدٍ مَنْ ذَكَرْتَ؟ "، قَالَ الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أَرْبَعِ نِسْوَةٍ بَعْضُهُنَّ أَسْفَلُ مِنْ بَعْضٍ، قِيلَ: " يَا أَبَا مُحَمَّدٍ مَا اسْمُهُنَّ؟ "، فَقَالَ الزُّهْرِيُّ: عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ حَبِيبَةَ، عَنْ أُمِّهَا أُمِّ حَبِيبَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، قَالَتِ: اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَوْمٍ، وَهُوَ مُحْمَرٌّ وَجْهُهُ، فَقَالَ: " لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدِ اقْتَرَبَ، فُتِحَ الْيَوْمَ مِنْ رَدْمِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ " وَعَقَدَ تِسْعِينَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَهْلِكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ؟ فَقَالَ: " نَعَمْ، إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ "..
حافظ ثناء اللہ
زہری رحمہ اللہ، عروہ رحمہ اللہ سے چار عورتوں کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ وہ بعض، بعض سے (روایت کرنے میں) نیچے ہیں۔ میں نے کہا: اے ابو محمد! کس نے تذکرہ کیا؟ کہتے ہیں: زہری رحمہ اللہ، عروہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ چار عورتوں کے متعلق ان کی روایت بعض کی بعض سے ہے۔ کہا گیا: اے ابو محمد! ان کے نام کیا ہیں؟ زہری رحمہ اللہ، عروہ رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدہ زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا، سیدہ حبیبہ رضی اللہ عنہا سے، وہ اپنی والدہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے اور وہ سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے روایت فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نیند سے بیدار ہوئے تو آپ ﷺ کا چہرہ مبارک سرخ تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰہُ» ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں، اس شر سے عرب کے لیے ہلاکت ہے جو قریب آ پہنچا ہے، آج یاجوج و ماجوج نے دیوار میں سوراخ کر لیا ہے“ اور آپ ﷺ نے نوے کی گرہ لگا کر اشارہ کیا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہمارے اندر نیک لوگ ہوں گے اور پھر بھی ہم ہلاک کر دیے جائیں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں! جب خباثت عام ہو جائے گی۔“
حدیث نمبر: 20198
وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ حَبِيبَةَ، عَنْ أُمِّهَا أُمِّ حَبِيبَةَ، عَنْ زَيْنَبَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَهُوَ يَقُولُ: " لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ "، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَقَالَ: " وَحَلَّقَ حَلْقَةً بِإِصْبَعِهِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مَالِكِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ سُفْيَانَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ سُفْيَانَ.
حافظ ثناء اللہ
نبی ﷺ کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا نے اس طرح تذکرہ کیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”«لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ»“ ”اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے“، تین مرتبہ اور اپنی انگلی سے حلقہ بنایا۔
حدیث نمبر: 20199
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَشْهَلِيِّ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَتَأْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوفِ، وَلَتَنْهَوُنَّ عَنِ الْمُنْكَرِ، أَوْ لَيُوشِكَنَّ اللهُ أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ ⦗١٦٠⦘ عِقَابًا مِنْ عِنْدِهِ، ثُمَّ لَتَدْعُوَنَّهُ، فَلَا يَسْتَجِيبُ لَكُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تم نیکی کا ضرور حکم دو گے اور برائی سے منع کرو گے ورنہ اللہ اپنی طرف سے تم پر عذاب مسلط کر دے گا۔ پھر تم اللہ سے دعائیں کرو گے، اللہ تمہاری دعائیں قبول نہ کرے گا۔“
حدیث نمبر: 20200
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو بَكْرٍ الْفَحَّامُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا أَبُو هَمَّامٍ الدَّلَّالُ، ثنا هِشَامٌ - يَعْنِي: ابْنَ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ أَنْ قَدْ حَضَرَهُ شَيْءٌ، فَتَوَضَّأَ وَخَرَجَ وَمَا يُكَلِّمُ أَحَدًا، فَلَصِقْتُ بِالْحُجُرَاتِ أَسْمَعُ مَا يَقُولُ، فَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ ثُمَّ قَالَ: " أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: " مُرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَدْعُونِي فَلَا أُجِيبَكُمْ، وَتَسْأَلُونِي فَلَا أُعْطِيَكُمْ، وَتَسْتَنْصِرُونِي فَلَا أَنْصُرَكُمْ ".
حافظ ثناء اللہ
عروہ بن زبیر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ میرے پاس آئے، میں نے آپ کے چہرے سے پہچان لیا کہ کوئی چیز آئی ہے۔ آپ نے وضو کیا اور چلے گئے۔ کسی سے کلام نہیں کیا۔ میں حجرے کے ساتھ لگی تاکہ آپ کی بات سن سکوں۔ آپ منبر پر بیٹھے اور فرمایا: ”اے لوگو! اللہ فرماتے ہیں کہ نیکی کا حکم دو، برائی سے منع کرو، اس سے پہلے کہ تم مجھے پکارو اور میں تمہاری دعا قبول نہ کروں، تم مجھ سے سوال کرو، میں تمہیں عطا نہ کروں اور تم مجھ سے مدد طلب کرو، میں تمہاری مدد نہ کروں۔“
حدیث نمبر: 20201
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ جَبَلَةَ، أَخْبَرَنِي أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، قَالَ: " كُنَّا مَعَ مُدْرِكِ بْنِ الْمُهَلَّبِ بِسَجِسْتَانَ فِي سُرَادِقِهِ فَسَمِعْتُ شَيْخًا يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللهَ لَا يُقَدِّسُ أُمَّةً لَا يَأْخُذُ الضَّعِيفُ حَقَّهُ مِنَ الْقَوِيِّ، وَهُوَ غَيْرُ مُتَعْتَعٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ اللہ رب العزت نے فرمایا: ”اللہ کسی امت کو پاک نہیں فرماتا جو اپنے کمزور کا حق قوی سے لے کر نہ دے، وہ فائدہ اٹھانے والا نہیں۔“
حدیث نمبر: 20202
وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا أَبُو مُوسَى، وَبُنْدَارٌ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ: كَانَ لِرَجُلٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمْرٌ، فَأَتَاهُ يَتَقَاضَاهُ فَاسْتَقْرَضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ تَمْرًا، وَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ، وَقَالَ: " أَمَا إِنَّهُ قَدْ كَانَ عِنْدِي تَمْرٌ، وَلَكِنَّهُ كَانَ غُبْرًا "، ثُمَّ قَالَ: " كَذَلِكَ يَفْعَلُ عِبَادُ اللهِ الْمُؤْمِنُونَ، إِنَّ اللهَ لَا يَتَرَحَّمُ عَلَى أُمَّةٍ لَا يَأْخُذُ الضَّعِيفُ فِيهِمْ حَقَّهُ غَيْرَ مُتَعْتَعٍ ". هَذَا مُرْسَلٌ وَهُوَ الصَّحِيحُ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن ابی سفیان بن حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کی کھجور نبی ﷺ کے ذمہ قرض تھی، وہ آپ ﷺ سے تقاضا کر رہا تھا تو نبی ﷺ نے خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا سے کھجور لے کر قرض چکا دیا اور فرمایا: ”میرے پاس ردی کھجور تھی“، پھر فرمایا: ”اللہ کے مومن بندے اس طرح ہی کرتے ہیں۔ اللہ رب العزت اس امت پر رحم نہیں فرماتے جس کا غریب اپنا حق بغیر مشقت کے حاصل نہ کرلے۔“
حدیث نمبر: 20203
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ - يَعْنِي: ابْنَ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ جَعْفَرٌ مِنَ الْحَبَشَةِ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَعْجَبُ شَيْءٍ رَأَيْتَ؟ " قَالَ: رَأَيْتُ امْرَأَةً عَلَى رَأْسِهَا مِكْتَلٌ مِنْ طَعَامٍ، فَمَرَّ فَارِسٌ يَرْكُضُ فَأَذْرَاهُ فَجَعَلَتْ تَجْمَعُ طَعَامَهَا وَقَالَتْ: " وَيْلٌ لَكَ، يَوْمَ يَضَعُ الْمَلِكُ كُرْسِيَّهُ، فَيَأْخُذُ لِلْمَظْلُومِ مِنَ الظَّالِمِ "، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَصْدِيقًا لِقَولِهَا: " لَا قُدِّسَتْ أُمَّةٌ "، أَوْ: " كَيْفَ قُدِّسَتْ؟ لَا يُؤْخَذُ لِضَعِيفِهَا مِنْ شَدِيدِهَا، وَهُوَ غَيْرُ مُتَعْتَعٍ ". ⦗١٦١⦘.
حافظ ثناء اللہ
ابن بریدہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ جب سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ حبشہ سے واپس ہوئے تو رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”تجھے کس چیز نے تعجب میں ڈالا؟“ کہنے لگے: میں نے ایک عورت کو دیکھا، اس کے سر پر کھانے کا ٹوکرا تھا۔ اس کے پاس سے ایک شہسوار گزرا، وہ ایڑ لگا رہا تھا۔ اس نے اس کا وہ کھانا بکھیر دیا۔ وہ اپنا کھانا جمع کرنا شروع ہوئی اور کہنے لگی: تیری ہلاکت ہو جب مالک اپنی کرسی رکھے گا، وہ مظلوم کا حق ظالم سے لے کر دے گا، تو نبی ﷺ نے اس عورت کے قول کی تصدیق کی۔ فرمایا: ”کوئی امت پاک نہ کی جائے گی“ یا فرمایا: ”کیسے پاک کی جائے گی کہ اس امت کا کمزور قوی سے اپنا حق بغیر کسی مشقت کے حاصل کرے؟“
حدیث نمبر: 20204
وَأَخْبَرَنَا عَلِيٌّ، ثنا أَحْمَدُ، ثنا الْأَسْفَاطِيُّ، وَهُوَ الْعَبَّاسِ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ سَعْدَوَيْهِ، ثنا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، بِذَلِكَ. وَقَدْ مَضَى فِي كِتَابِ الْغَصْبِ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، بِنَحْوِهِ وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
حدیث نمبر: 20205
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ الْمُحَمَّدَآبَاذِيُّ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْفَحَّامُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا زُهَيْرٌ - هُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ بِالطُّرُقَاتِ " فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ: " مَا لَنَا مِنْ مَجَالِسِنَا بُدٌّ نَتَحَدَّثُ فِيهَا "، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَبَيْتُمْ إِلَّا الْمَجْلِسَ فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ "، قَالُوا: وَمَا حَقُّ الطَّرِيقِ؟ قَالَ: " غَضُّ الْبَصَرِ وَكَفُّ الْأَذَى، وَرَدُّ السَّلَامِ، وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ، وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ، وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ حَفْصِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”راستوں پر بیٹھنے سے بچو۔“ صحابہ کہنے لگے: ہماری مجالس ضرور ہوتی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم نے ضرور بیٹھنا ہے تو راستے کو اس کا حق دو۔“ انہوں نے کہا: راستے کا کیا حق ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نظر کو نیچا رکھنا، تکلیف کو روکنا، سلام کا جواب دینا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا۔“
حدیث نمبر: 20206
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّكُمْ مُصِيبُونَ وَمَنْصُورُونَ وَمَفْتُوحٌ لَكُمْ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ، فَلْيَتَّقِ اللهَ، وَلْيَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ، وَلْيَنْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ ".
حافظ ثناء اللہ
سماک بن حرب فرماتے ہیں کہ میں نے عبدالرحمن بن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”تم آزمائے جاؤ گے، تمہاری مدد کی جائے گی اور تمہیں فتح دی جائے گی۔ تم میں سے جو اس کو پالے، وہ اللہ سے ڈرے، نیکی کا حکم دے اور برائی سے منع کرے۔“
حدیث نمبر: 20207
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ فِي كُلِّ يَوْمٍ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ؟، قَالَ: " لَيَعْتَمِلُ بِيَدِهِ، فَيَنْفَعُ نَفْسَهُ، وَيَتَصَدَّقُ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ؟ قَالَ: " يُعِينُ ذَا الْحَاجَةِ الْمَلْهُوفَ "، قَالُوا: فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ؟ قَالَ: " يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ، وَيَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ "، قَالُوا: فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ، قَالَ: " لِيُمْسِكْ عَنِ الشَّرِّ، فَإِنَّ ذَلِكَ لَهُ صَدَقَةٌ ". لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ وَلَيْسَ فِي رِوَايَةِ سُلَيْمَانَ " فِي كُلِّ يَوْمٍ "، وَلَا قَوْلُهُ: " وَيَنْهَى عَنِ ⦗١٦٢⦘ الْمُنْكَرِ " أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ، كَمَا مَضَى.
حافظ ثناء اللہ
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہر دن مسلمان پر صدقہ ہے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ”اگر کوئی نہ پائے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنے ہاتھ سے کام کرے اور اپنے آپ کو فائدہ دے اور صدقہ کرے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ”اگر وہ اس کی طاقت نہ رکھے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ نیکی کا حکم دے اور برائی سے منع کرے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں: ”اگر وہ اس کی طاقت نہیں رکھتا؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ برائی سے رک جائے، یہی اس کے لیے صدقہ ہے۔“
(ب) سلیمان کی روایت میں ہے: ”ہر دن صدقہ ہے۔“ اور اس کا قول کہ: ”وہ برائی سے منع کرے۔“
(ب) سلیمان کی روایت میں ہے: ”ہر دن صدقہ ہے۔“ اور اس کا قول کہ: ”وہ برائی سے منع کرے۔“
حدیث نمبر: 20208
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، ثنا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، ثنا وَاصِلٌ، مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدُّئِلِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ مِنْكُمْ صَدَقَةٌ، فَكُلُّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ تَكْبِيرَةٍ صَدَقَةٌ، وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ، وَنَهْيٌ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ، وَيُجْزِئُ عَنْ ذَلِكَ رَكْعَتَانِ تَرْكَعُهُمَا مِنَ الضُّحَى ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ. وَفِي هَذَا الْكَلَامِ كَالدَّلَالَةِ عَلَى أَنَّهُمَا مِنْ فُرُوضِ الْكِفَايَاتِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے ہر مسلمان پر صدقہ ہے: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“، «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”الحمد للہ“، «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» ”لا الہ الا اللہ“، «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہنا بھی صدقہ ہے۔ نیکی کا حکم اور برائی سے منع کرنا بھی صدقہ ہے اور چاشت کی دو رکعات پڑھ لینا اس سے کفایت کر جائے گا۔“
حدیث نمبر: 20209
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ، ثنا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: وَاللهِ لَا أَقُولُ لِرَجُلٍ: إِنَّكَ خَيْرُ النَّاسِ - وَإِنْ كَانَ عَلَيَّ أَمِيرًا - بَعْدَ إِذْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ، قَالُوا: وَمَا سَمِعْتَهُ يَقُولُ؟ قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: " يُجَاءُ بِالرَّجُلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُلْقَى فِي النَّارِ فَتَنْدَلِقُ أَقْتَابُهُ فَيَدُورُ بِهَا فِي النَّارِ، كَمَا يَدُورُ الْحِمَارُ بِرَحَاهُ، فَيُطِيفُ بِهِ أَهْلُ النَّارِ، فَيَقُولُونَ: يَا فُلَانُ، مَا لَكَ؟ مَا أَصَابَكَ؟ أَلَمْ تَكُنْ تَأْمُرُنَا بِالْمَعْرُوفِ، وَتَنْهَانَا عَنِ الْمُنْكَرِ؟، فَيَقُولُ: كُنْتُ آمُرُكُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَلَا آتِيهِ، وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَآتِيهِ ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ الْأَعْمَشِ.
حافظ ثناء اللہ
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں کسی کے لیے یہ نہ کہوں گا کہ وہ تمام لوگوں سے بہتر ہے، اگرچہ وہ میرے اوپر امیر کیوں نہ ہو، جب سے میں نے نبی ﷺ سے سنا ہے۔ ساتھیوں نے کہا: آپ نے کیا سنا ہے؟ فرمایا: میں نے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”قیامت کے دن آدمی کو لایا جائے گا، جہنم میں پھینک دیا جائے گا، اس کی آنتیں باہر نکل آئیں گی، وہ ان کے گرد چکر کاٹے گا جیسے گدھا چکی کے گرد گھومتا ہے، جہنمی لوگ جمع ہو جائیں گے، کہیں گے: اے فلاں! تجھے کیا ہوا حالانکہ تو ہمیں نیکی کا حکم دیتا اور برائی سے منع کرتا تھا؟ وہ کہے گا: نیکی کا حکم دیتا تھا لیکن خود نہ کرتا، برائی سے منع کرتا لیکن خود کرتا۔“
حدیث نمبر: 20210
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، ثنا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ، أَنَّ جَدَّهُ عُمَيْرَ بْنَ حَبِيبٍ، وَكَانَ قَدْ بَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أوَصَى بَنِيهِ، قَالَ لَهُمْ: " أَيْ بَنِيَّ، إِيَّاكُمْ وَمُخَالَطَةَ السُّفَهَاءِ، فَإِنَّ مُجَالَسَتَهُمْ دَاءٌ، وَإِنَّهُ مَنْ يَحْلُمْ عَنِ السَّفِيهِ يُسَرَّ بِحِلْمِهِ، وَمَنْ يُجِبْهُ يَنْدَمْ، وَمَنْ لَا يُقِرَّ بِقَلِيلِ مَا يَأْتِ بِهِ السَّفِيهُ، يُقِرُّ بِالْكَثِيرِ، وَإِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْمُرَ بِالْمَعْرُوفِ، وَيَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ، فَلْيُوَطِّنْ نَفْسَهُ قَبْلَ ذَلِكَ عَلَى الْأَذَى، وَلْيُوقِنْ بِالثَّوَابِ مِنَ اللهِ، فَإِنَّهُ مَنْ يُوقِنْ بِالثَّوَابِ مِنَ اللهِ لَا يَجِدُ مَسَّ الْأَذَى ".
حافظ ثناء اللہ
ابو جعفر خطمی کے دادا عمیر بن حبیب رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کی بیعت کی اور اپنے بیٹوں کو وصیت کی: اے میرے بیٹو! بے وقوف لوگوں کی مجالس سے بچنا؛ کیونکہ ان کی مجلس بیماری ہے۔ جو بے وقوف سے درگزر کرتا ہے وہ اپنے درگزر کی وجہ سے خوش کر دیا جاتا ہے اور جو اس کو جواب دیتا ہے وہ نادم ہوتا ہے اور جو انسان اس تھوڑے پر راضی نہیں ہوتا جو اس کے پاس بے وقوف لے کر آئے، وہ کثیر پر راضی ہو جائے گا۔ جب تم میں سے کسی کا ارادہ ہو کہ نیکی کا حکم اور برائی سے منع کرے تو وہ اپنے نفس کو تکلیف برداشت کرنے پر آمادہ رکھے اور اللہ سے ثواب کی امید رکھے، جو اللہ سے ثواب کی امید رکھتا ہے وہ تکلیف کو محسوس نہیں کرتا۔