السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: كراهية الإمارة، وكراهية تولي أعمالها لمن رأى من نفسه ضعفا، أو رأى فرضها عنه بغيره ساقطا باب: امارت (حکمرانی) کی کراہت، اور جو شخص اپنے اندر کمزوری محسوس کرے یا دیکھے کہ کسی دوسرے کے ذریعے اس پر سے یہ فرض ساقط ہو رہا ہے، تو اس کے لیے اس کی ذمہ داریاں سنبھالنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 20219
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ إِمْلَاءً، أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْقَلَانِسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ سَعِيدَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، وَعَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قَعَدَ قَاضِيًا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، فَقَدْ ذُبِحَ بِغَيْرِ سِكِّينٍ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو مسلمانوں کا قاضی بن کر بیٹھا وہ بغیر چھری کے ذبح کر دیا گیا۔“