السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: كراهية الإمارة، وكراهية تولي أعمالها لمن رأى من نفسه ضعفا، أو رأى فرضها عنه بغيره ساقطا باب: امارت (حکمرانی) کی کراہت، اور جو شخص اپنے اندر کمزوری محسوس کرے یا دیکھے کہ کسی دوسرے کے ذریعے اس پر سے یہ فرض ساقط ہو رہا ہے، تو اس کے لیے اس کی ذمہ داریاں سنبھالنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 20238
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ، يَقُولُ: " دَخَلَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، فَجَعَلَ يَتَجَانَنُ عَلَيْهِمْ، وَيَمْسَحُ الْبِسَاطَ، وَيَقُولُ: " مَا أَحْسَنَهُ مَا أَحْسَنَهُ بِكَمْ أَخَذْتُمْ هَذَا؟ "، ثُمَّ قَالَ: " الْبَوْلَ الْبَوْلَ "، حَتَّى أُخْرِجَ "، يَعْنِي: أَنَّهُ احْتَالَ لِيَتَبَاعَدَ مِنْهُمْ، وَيَسْلَمَ مِنْ أَمْرِهِمْ ".حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سفیان ثوری امیر المؤمنین کے پاس گئے۔ اپنے آپ کو پاگل ظاہر کر رہے تھے اور چٹائی کو چھو رہے تھے اور کہہ رہے تھے: یہ کتنی خوبصورت ہے، یہ کتنی خوبصورت ہے! تم نے یہ کتنے میں لی ہے؟ پھر کہنے لگے: پیشاب، پیشاب۔ یہاں تک کہ نکل گئے تاکہ ان کے معاملے سے دور اور محفوظ رہیں۔