السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: كراهية الإمارة، وكراهية تولي أعمالها لمن رأى من نفسه ضعفا، أو رأى فرضها عنه بغيره ساقطا باب: امارت (حکمرانی) کی کراہت، اور جو شخص اپنے اندر کمزوری محسوس کرے یا دیکھے کہ کسی دوسرے کے ذریعے اس پر سے یہ فرض ساقط ہو رہا ہے، تو اس کے لیے اس کی ذمہ داریاں سنبھالنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 20236
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُكَيْرٍ، قَالَ: قَالَ اللَّيْثُ: " قَالَ لِي أَبُو جَعْفَرٍ: " تَلِي لِي مِصْرَ؟ "، قُلْتُ: " يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنِّي أَضْعَفُ مِنْ ذَلِكَ، وَإِنِّي رَجُلٌ مِنَ الْمَوَالِي "، فَقَالَ: " مَا بِكَ مِنْ ضَعْفٍ مَعِي، وَلَكِنْ ضَعُفَتْ نِيَّتُكَ فِي الْعَمَلِ لِي عَلَى ذَلِكَ، أَتُرِيدُ قُوَّةً أَقْوَى مِنِّي وَمِنْ عَمَلِي، فَأَمَّا إِذَا أَبِيتَ فَدُلَّنِي عَلَى رَجُلٍ أُقَلِّدُهُ أَمْرَ مِصْرَ "، قُلْتُ: " عُثْمَانُ بْنُ الْحَكَمِ الْجُذَامِيُّ رَجُلٌ لَهُ صَلَاحٌ، وَلَهُ عَشِيرَةٌ "، قَالَ: " فَبَلَغَهُ ذَلِكَ، فَعَاهَدَ اللهَ أَنْ لَا يُكَلِّمَ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ ".حافظ ثناء اللہ
لیث رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابوجعفر رحمہ اللہ نے مجھے کہا: میری جانب سے مصر کے قاضی بن جاؤ۔ میں نے کہا: اے امیر المؤمنین! میں کمزور آدمی ہوں۔ میں غلام ہوں۔ کہنے لگے: آپ کمزور نہیں، صرف آپ کی نیت میرے ساتھ کام کرنے میں کمزور ہے۔ کیا آپ مجھ سے زیادہ قوت چاہتے ہیں اور میرے کام سے بڑا کام چاہتے ہیں؟ کہنے لگے: اگر آپ انکاری ہیں تو میری رہنمائی ایسے آدمی کی طرف کرو کہ میں مصر کی امارت اس کو سونپ دوں۔ میں نے کہا: عثمان بن حکم جذامی رحمہ اللہ نیک آدمی ہے، اس کا قبیلہ بھی ہے۔ جب اس کو یہ بات پہنچی تو اس نے اللہ کی قسم اٹھائی کہ وہ لیث بن سعد رحمہ اللہ سے کلام نہ کرے گا۔