السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: كراهية الإمارة، وكراهية تولي أعمالها لمن رأى من نفسه ضعفا، أو رأى فرضها عنه بغيره ساقطا باب: امارت (حکمرانی) کی کراہت، اور جو شخص اپنے اندر کمزوری محسوس کرے یا دیکھے کہ کسی دوسرے کے ذریعے اس پر سے یہ فرض ساقط ہو رہا ہے، تو اس کے لیے اس کی ذمہ داریاں سنبھالنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 20223
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، رُبَّمَا ذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا مِنْ حَكَمٍ يَحْكُمُ بَيْنَ النَّاسِ إِلَّا وُكِّلَ بِهِ مَلَكٌ آخِذٌ بِقَفَاهُ حَتَّى يَقِفَ بِهِ عَلَى شَفِيرِ جَهَنَّمَ، فَيَرْفَعُ رَأْسَهُ إِلَى اللهِ، فَإِنْ أَمَرَهُ أَنْ يَقْذِفَهُ قَذَفَهُ فِي مَهْوًى أَرْبَعِينَ خَرِيفًا ".حافظ ثناء اللہ
مسروق رحمہ اللہ، عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں، کبھی نبی ﷺ سے بھی نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو کوئی لوگوں کے درمیان فیصلہ کرتا ہے اس کے ساتھ ایک فرشتہ مقرر ہوتا ہے، جو اس کی گدی سے پکڑے رکھتا ہے اور جہنم کے کنارے کھڑا رکھتا ہے اور اپنا سر اللہ کی طرف اٹھاتا ہے۔ اگر اللہ حکم دے تو جہنم کی چالیس سالہ گہرائی میں پھینک دیتا ہے۔“