السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: كراهية الإمارة، وكراهية تولي أعمالها لمن رأى من نفسه ضعفا، أو رأى فرضها عنه بغيره ساقطا باب: امارت (حکمرانی) کی کراہت، اور جو شخص اپنے اندر کمزوری محسوس کرے یا دیکھے کہ کسی دوسرے کے ذریعے اس پر سے یہ فرض ساقط ہو رہا ہے، تو اس کے لیے اس کی ذمہ داریاں سنبھالنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 20224
حَدَّثَنَا الشَّيْخُ الْإِمَامُ أَبُو الطَّيِّبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ، رَحِمَهُ اللهُ، إِمْلَاءً، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ هِشَامٌ، ⦗١٦٦⦘ عَنْ عَبَّادِ بْنِ أَبِي عَلِيٍّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " وَيْلٌ لِلْأُمَرَاءِ، وَوَيْلٌ لِلْعُرَفَاءِ، وَوَيْلٌ لِلْأُمَنَاءِ لَيَتَمَنَّيَنَّ أَقْوَامٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَّ نَوَاصِيَهُمْ مُعَلَّقَةٌ بِالثُّرَيَّا، يَتَخَلْخَلُونَ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَأَنَّهُمْ لَمْ يَلُوا عَمَلًا "..حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”امراء، چوہدریوں اور امینوں کے لیے ہلاکت ہے۔ قیامت کے دن لوگ تمنا کریں گے کہ کاش! ان کی پیشانیاں ثریا ستارے سے باندھ دی جائیں، وہ آسمان و زمین کے درمیان لٹکتے رہیں لیکن وہ کسی کام پر والی نہ بنتے۔“