السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: كراهية الإمارة، وكراهية تولي أعمالها لمن رأى من نفسه ضعفا، أو رأى فرضها عنه بغيره ساقطا باب: امارت (حکمرانی) کی کراہت، اور جو شخص اپنے اندر کمزوری محسوس کرے یا دیکھے کہ کسی دوسرے کے ذریعے اس پر سے یہ فرض ساقط ہو رہا ہے، تو اس کے لیے اس کی ذمہ داریاں سنبھالنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 20226
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، ثنا يُونُسُ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامٌ، ثنا عَبَّادُ بْنُ أَبِي عَلِيٍّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " الْعِرَافَةُ أَوَّلُهَا مَلَامَةٌ، وَآخِرُهَا نَدَامَةٌ، وَالْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "، قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، إِلَّا مَنِ اتَّقَى اللهَ مِنْهُمْ، قَالَ: " إِنَّمَا أُحَدِّثُكَ كَمَا سَمِعْتُ ".حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”چوہدراہٹ ابتدائی طور پر ملامت کا باعث ہے، آخر میں ندامت اور قیامت کے دن عذاب کا باعث ہے۔“ ابوحازم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: ان میں سے جو اللہ سے ڈرتا رہا؟ فرمایا: میں ویسے ہی بیان کروں گا جیسے میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے۔