السنن الكبرى للبيهقي
كتاب آداب القاضي— قاضی کے اداب کا بیان
باب: كراهية الإمارة، وكراهية تولي أعمالها لمن رأى من نفسه ضعفا، أو رأى فرضها عنه بغيره ساقطا باب: امارت (حکمرانی) کی کراہت، اور جو شخص اپنے اندر کمزوری محسوس کرے یا دیکھے کہ کسی دوسرے کے ذریعے اس پر سے یہ فرض ساقط ہو رہا ہے، تو اس کے لیے اس کی ذمہ داریاں سنبھالنے کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 20212
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ حَسَّانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ قُلْتُ: حَدَّثَكُمْ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ زَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ الْأَكْبَرِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، اسْتَعْمِلْنِي، قَالَ: فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى مَنْكِبِي ثُمَّ قَالَ: " يَا أَبَا ذَرٍّ، إِنَّكَ ضَعِيفٌ، وَإِنَّهَا أَمَانَةٌ، وَإِنَّهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ خِزْيٌ وَنَدَامَةٌ، إِلَّا مَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا، وَأَدَّى الَّذِي عَلَيْهِ فِيهَا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ شُعَيْبٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے عامل مقرر کر دیں۔ آپ ﷺ نے میرے کندھے پر ہاتھ مارا، پھر فرمایا: ”اے ابوذر! آپ کمزور ہیں، یہ امانت ہے؛ کیونکہ یہ قیامت کے دن ندامت اور رسوائی کا باعث ہو گی لیکن جس نے اس کا حق ادا کیا۔“