صحیح الجامع الصغیر
حرف الفاء— حرف فا
الأحاديث المبدوءة بحرف الفاء باب: حرف فا سے شروع ہونے والی احادیث
«فتنة الأحلاس هرب وحرب ثم فتنة السراء دخنها من تحت قدم رجل من أهل بيتي يزعم أنه مني وليس مني وإنما أوليائي المتقون ثم يصطلح الناس على رجل كورك على ضلع ثم فتنة الدهيماء لا تدع أحدا من هذه الأمة إلا لطمته لطمة فإذا قيل: انقضت تمادت يصبح الرجل فيها مؤمنا ويمسي كافرا حتى يصير الناس إلى فسطاطين فسطاط إيمان لا نفاق فيه وفسطاط نفاق لا إيمان فيه فإذا كان ذاكم فانتطروا الدجال من يومه أو غده»(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”فتنۂ احلاس بھاگ دوڑ اور لڑائی ہے، پھر فتنۂ سراء ہے جس کا دھواں میرے اہلِ بیت میں سے ایک آدمی کے قدم کے نیچے سے اٹھے گا، وہ سمجھے گا کہ وہ مجھ سے ہے حالانکہ وہ مجھ سے نہیں، میرے دوست تو صرف متقی لوگ ہیں۔ پھر لوگ ایک ایسے آدمی پر صلح کر لیں گے جیسے پسلی پر کولہا۔ پھر فتنۂ دہیماء ہے، جو اس امت میں سے کسی کو نہیں چھوڑے گا مگر اسے ایک تھپڑ ضرور مارے گا۔ جب کہا جائے گا کہ یہ ختم ہو گیا تو یہ اور طول پکڑ لے گا۔ اس میں آدمی صبح مومن ہو گا اور شام کو کافر ہو جائے گا، یہاں تک کہ لوگ دو خیموں میں تقسیم ہو جائیں گے: ایک ایمان کا خیمہ جس میں کوئی نفاق نہ ہو گا، اور ایک نفاق کا خیمہ جس میں کوئی ایمان نہ ہو گا۔ پس جب ایسا ہو جائے تو دجال کا اسی دن یا اگلے دن انتظار کرو۔“