حدیث نمبر: 4193
"فتر الوحي عني فترة فبينا أنا أمشي سمعت صوتا من السماء فرفعت بصري قبل السماء فإذا أنا بالملك الذي أتاني في غار حراء على سرير بين السماء والأرض فجبنت منه فرقا حتى هويت إلى الأرض فأتيت خديجة فقلت: دثروني دثروني فدثرت فجاء جبريل فقال: {يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ، قُمْ فَأَنْذِرْ، وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ، وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ، وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ} "
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”مجھ سے وحی کچھ عرصے کے لیے رک گئی، پھر ایک دن میں چل رہا تھا کہ میں نے آسمان سے ایک آواز سنی، تو میں نے اپنی نظر آسمان کی طرف اٹھائی، تو میں نے اسی فرشتے کو دیکھا جو غارِ حرا میں میرے پاس آیا تھا، وہ آسمان اور زمین کے درمیان ایک تخت پر تھا، تو میں اس سے خوفزدہ ہو گیا یہاں تک کہ زمین پر گر پڑا۔ پھر میں خدیجہ کے پاس آیا اور کہا: مجھے چادر اڑھاؤ، مجھے چادر اڑھاؤ۔ تو انہوں نے مجھے چادر اڑھا دی، پھر جبریل آئے اور کہا: ”اے چادر اوڑھنے والے! اٹھو اور ڈراؤ، اور اپنے رب کی بڑائی بیان کرو، اور اپنے کپڑے پاک رکھو، اور گندگی سے دور رہو۔““

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الفاء / حدیث: 4193
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [الطيالسي حم م] عن جابر.