کتب حدیثصحیح الجامع الصغیرابوابباب: حرف الف سے شروع ہونے والی احادیث
«إن ملكا أتاني فقال: إن ربك يقول لك: أما ترضى أن لا يصلي عليك أحد من أمتك إلا صليت عليه عشرا ولا يسلم عليك إلا سلمت عليه عشرا؟ قلت: بلى»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ ایک فرشتہ میرے پاس آیا اور اس نے کہا: بے شک آپ کا رب آپ سے فرماتا ہے: کیا آپ اس بات پر راضی نہیں ہیں کہ آپ کی امت میں سے کوئی شخص آپ پر ایک مرتبہ درود بھیجے تو میں اس پر دس رحمتیں نازل کروں، اور کوئی آپ پر ایک مرتبہ سلام بھیجے تو میں اس پر دس مرتبہ سلامتی نازل کروں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں (میں راضی ہوں)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2198
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ن] عن أبي طلحة. الترغيب ٢/٢٧٩.
«إن من إجلال الله إكرام ذي الشيبة المسلم وحامل القرآن غير الغالي فيه والجافي عنه وإكرام ذي السلطان المقسط»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی تعظیم میں سے یہ بھی ہے کہ بوڑھے مسلمان کی عزت کی جائے، اور قرآن کے اس حافظ کی عزت کی جائے جو نہ اس میں غلو کرنے والا ہو اور نہ ہی اس سے روگردانی کرنے والا ہو، اور انصاف پرور حکمران کی عزت کی جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2199
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [د] عن أبي موسى. صحيح الترغيب ٩٣، المشكاة ٤٩٧٢: أبو عبيد، الهيثم بن كليب – طلحة بن عبيد الله بن كريز مرسلا.
«إن من أحبكم إلي أحسنكم أخلاقا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ تم میں سے مجھے سب سے زیادہ محبوب وہ شخص ہے جس کے اخلاق تم سب میں سب سے اچھے ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2200
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن ابن عمرو. الصحيحة ٧٩٢.
«إن من أحبكم إلي وأقربكم مني مجلسا يوم القيامة أحاسنكم أخلاقا وإن أبغضكم إلي وأبعدكم مني يوم القيامة الثرثارون والمتشدقون والمتفيهقون قالوا: يا رسول الله ما المتفيهقون؟ قال: المتكبرون»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ تم میں سے میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب اور قیامت کے دن میری مجلس کے سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہوں گے جن کے اخلاق سب سے اچھے ہوں گے۔ اور بے شک تم میں سے مجھے سب سے زیادہ ناپسند اور قیامت کے دن مجھ سے سب سے زیادہ دور وہ لوگ ہوں گے جو بہت زیادہ باتیں بنانے والے، تکلف سے بولنے والے اور «المُتَفَيْهِقُونَ» ہوں گے۔ صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! «المُتَفَيْهِقُونَ» کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تکبر کرنے والے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2201
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [ت] عن جابر. الصحيحة ٧٩١.
«إن من أحسن الناس صوتا بالقرآن الذي إذا سمعته يقرأ رأيت أنه يخشى الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ لوگوں میں قرآن کو سب سے اچھی آواز کے ساتھ پڑھنے والا وہ شخص ہے کہ جب تم اسے پڑھتے ہوئے سنو تو تمہیں یہ محسوس ہو کہ وہ اللہ سے ڈر رہا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2202
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [هـ] عن جابر. الترغيب ٢/٢١٥.
«إن من أربى الربا الاستطالة في عرض المسلم بغير حق»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ سود در سود (یعنی بدترین سود) یہ ہے کہ کسی مسلمان کی عزت میں ناحق زبان درازی کی جائے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2203
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د] عن سعيد بن زيد. المشكاة ٥٠٤٥: و [المختارة] .
«إن من أشد الناس عذابا يوم القيامة الذين يشبهون بخلق الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ قیامت کے دن لوگوں میں سب سے سخت عذاب ان لوگوں کو ہوگا جو اللہ کی تخلیق کی نقل کرتے ہیں (یعنی جانداروں کی تصویریں اور مجسمے بناتے ہیں)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2204
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [م ن هـ] عن عائشة. مختصر مسلم ١٣٦٨.
«إن من أشراط الساعة أن تقاتلوا قوما ينتعلون نعال الشعر وإن من أشراط الساعة أن تقاتلوا قوما عراض الوجوه كأن وجوههم المجان المطرقة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ تم ایک ایسی قوم سے جنگ کرو گے جو بالوں کے جوتے پہنتی ہوگی، اور قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ تم ایک ایسی قوم سے جنگ کرو گے جن کے چہرے چوڑے ہوں گے، گویا ان کے چہرے تہہ در تہہ چمڑی مڑھی ہوئی ڈھالیں ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2205
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ هـ] عن عمرو بن تغلب.
«إن من أشراط الساعة أن يرفع العلم ويظهر الجهل ويفشو الزنا ويشرب الخمر ويذهب الرجال وتبقى النساء حتى يكون لخمسين امرأة قيم واحد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ (دینی) علم اٹھا لیا جائے گا، جہالت غالب آ جائے گی، زنا عام ہو جائے گا، شراب پی جائے گی، اور مرد کم ہو جائیں گے جبکہ عورتیں باقی رہ جائیں گی، یہاں تک کہ پچاس عورتوں کا نگران صرف ایک مرد ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2206
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ت ن هـ] عن أنس. مختصر مسلم ١٨٥٦.
«إن من أشراط الساعة أن يلتمس العلم عند الأصاغر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ علم چھوٹوں (یعنی کم علم اور حقیر لوگوں) کے پاس تلاش کیا جائے گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2207
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن أبي أمية الجمحي. الصحيحة ٦٩٥: ابن المبارك، أبو عمرو الداني، اللالكائي.
«إن من أطيب ما أكل الرجل من كسبه وولده من كسبه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ انسان جو کچھ کھاتا ہے اس میں سب سے پاکیزہ وہ ہے جو اس کی اپنی کمائی سے ہو، اور اس کی اولاد بھی اس کی کمائی کا حصہ ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2208
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د ك] عن عائشة. أحاديث البيوع: حم، ن، ت، الدارمي، ابن ماجه، الطيالسي.
«إن من أعظم الجهاد كلمة عدل عند سلطان جائر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ ظالم حکمران کے سامنے حق (اور انصاف) کی بات کہنا سب سے عظیم جہاد ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2209
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن أبي سعيد. الصحيحة ٤٩١.
«إن من أعظم الفرى أن يدعى الرجل إلى غير أبيه أو يرى عينيه ما لم تريا ويقول على رسول الله صلى الله عليه وسلم ما لم يقل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ سب سے بڑے جھوٹ یہ ہیں کہ کوئی شخص اپنے حقیقی باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنا نسب منسوب کرے، یا اپنی آنکھوں کو وہ کچھ دکھائے جو انہوں نے نہیں دیکھا (یعنی جھوٹا خواب بیان کرے)، اور رسول اللہ ﷺ کی طرف کوئی ایسی بات منسوب کرے جو آپ ﷺ نے نہ کہی ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2210
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [خ] عن واثلة.
«إن من أفرى الفرى أن يرى الرجل عينه في المنام ما لم تر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ سب سے بڑے جھوٹوں میں سے یہ ہے کہ آدمی اپنی آنکھوں کو خواب میں وہ کچھ دکھائے جو انہوں نے نہیں دیکھا (یعنی جھوٹا خواب بیان کرے)۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2211
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن ابن عمر.
«إن من أفضل أيامكم يوم الجمعة فيه خلق آدم وفيه قبض وفيه النفخة وفيه الصعقة فأكثروا علي من الصلاة فيه فإن صلاتكم معروضة علي إن الله حرم على الأرض أن تأكل أجساد الأنبياء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ تمہارے دنوں میں سب سے افضل دن جمعہ کا دن ہے۔ اسی میں آدم (علیہ السلام) پیدا کیے گئے، اسی میں ان کی روح قبض کی گئی، اسی دن صور پھونکا جائے گا اور اسی دن سب پر بے ہوشی طاری ہوگی۔ لہٰذا اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو، کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیاء کے جسموں کو کھانا حرام کر دیا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2212
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د ن هـ حب ك] عن أوس بن أوس. المشكاة ١٣٦١، صحيح الترغيب ٦٩٨ وابن خزيمة.
"إن من أكبر الكبائر الشرك بالله وعقوق الوالدين واليمين الغموس وما حلف حالف بالله يمين صبر فأدخل فيها مثل
جناح بعوضة إلا جعلت نكتة في قلبه إلى يوم القيامة"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ سب سے بڑے گناہوں (کبیرہ گناہوں) میں اللہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا اور «اليَمِين الغَمُوس» (جان بوجھ کر کھائی جانے والی جھوٹی قسم) شامل ہے۔ اور جو کوئی قسم کھانے والا اللہ کے نام پر کوئی ایسی قسم کھائے جس پر اسے مجبور کیا گیا ہو (یا وہ خود کھائے)، اور اس میں مچھر کے پر کے برابر بھی (جھوٹ) شامل کر لے، تو اس کے دل پر قیامت کے دن تک کے لیے ایک سیاہ دھبہ لگا دیا جاتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2213
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم ت حب ك] عن عبد الله بن أنيس. المشكاة ٣٧٧٧.
«إن من أكبر الكبائر أن يلعن الرجل والديه: يلعن أبا الرجل فيلعن أباه ويلعن أمه فيلعن أمه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ سب سے بڑے گناہوں میں سے یہ ہے کہ آدمی اپنے والدین پر لعنت کرے۔ (صحابہ کے پوچھنے پر آپ ﷺ نے فرمایا: وہ اس طرح کہ) وہ کسی دوسرے آدمی کے باپ کو گالی دیتا ہے تو وہ پلٹ کر اس کے باپ کو گالی دیتا ہے، اور وہ اس کی ماں کو گالی دیتا ہے تو وہ پلٹ کر اس کی ماں کو گالی دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2214
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن ابن عمرو. الترغيب ٣/٢٢١.
«إن من البيان سحرا وإن من الشعر حكما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ بعض بیانات (اور تقریروں) میں جادو (جیسی تاثیر) ہوتی ہے اور بلاشبہ بعض اشعار میں حکمت (کی باتیں) ہوتی ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2215
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د] ابن عباس. الصحيحة ١٧٣١: حب، ك.
«إن من البيان لسحرا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ بعض بیانات (تقریروں) میں ضرور جادو (جیسی تاثیر) ہوتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2216
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [مالك حم خ د ت] ابن عمر. المشكاة ٤٧٨٣.
«إن من الحنطة خمرا وإن من الشعير خمرا وإن من التمر خمرا وإن من الزبيب خمرا وإن من العسل خمرا وأنا أنهى عن كل مسكر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ گندم سے بھی شراب بنتی ہے، جو سے بھی شراب بنتی ہے، کھجور سے بھی شراب بنتی ہے، کشمش سے بھی شراب بنتی ہے اور شہد سے بھی شراب بنتی ہے، اور میں ہر نشہ آور چیز (کے استعمال) سے منع کرتا ہوں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2217
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ت هـ ك] عن النعمان بن بشير. المشكاة ٣٦٤٧، الصحيحة ١٥٩٣.
«إن من الشجر شجرة لا يسقط ورقها وإنها مثل المسلم فحدثوني ما هي؟ ثم قال: هي النخلة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ درختوں میں ایک ایسا درخت ہے جس کے پتے نہیں گرتے، اور بلاشبہ اس کی مثال مسلمان جیسی ہے۔ پس مجھے بتاؤ وہ کون سا درخت ہے؟“ (لوگوں کے خاموش رہنے پر) پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کھجور کا درخت ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2218
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق ت] عن ابن عمر.
«إن من الشعر حكمة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ بعض اشعار میں حکمت ہوتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2219
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د هـ] عن أبي [ت] ابن مسعود [طب] عن عمرو بن عوف وأبي بكرة [حل] عن أبي هريرة [خط] عن عائشة وحسان بن ثابت [ابن عساكر] عن عمر. المشكاة ٤٧٨٤.
«إن من العنب خمرا وإن من التمر خمرا وإن من العسل خمرا وإن من البر خمرا وإن من الشعير خمرا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ انگور سے بھی شراب بنتی ہے، کھجور سے بھی شراب بنتی ہے، شہد سے بھی شراب بنتی ہے، گندم سے بھی شراب بنتی ہے اور جو سے بھی شراب بنتی ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2220
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [د] عن النعمان بن بشير. المشكاة ٣٦٤٧.
«إن من الغيرة ما يحب الله ومنها ما يبغض الله وإن من الخيلاء ما يحب الله ومنها ما يبغض الله فأما الغيرة التي يحبها الله فالغيرة في الريبة وأما الغيرة التي يبغض الله فالغيرة في غير الريبة وأما الخيلاء التي يحبها الله فاختيال الرجل في القتال واختياله عند الصدقة وأما الخيلاء التي يبغض الله فاختيال الرجل في البغي والفخر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ غیرت کی ایک قسم وہ ہے جسے اللہ پسند فرماتا ہے اور ایک وہ ہے جسے اللہ ناپسند فرماتا ہے۔ اسی طرح فخر و غرور (کی چال) کی ایک قسم وہ ہے جسے اللہ پسند فرماتا ہے اور ایک وہ ہے جسے اللہ ناپسند فرماتا ہے۔ پس وہ غیرت جسے اللہ پسند فرماتا ہے، وہ شک کی بنیاد پر (حرام کام کے اندیشے کے وقت) غیرت کرنا ہے، اور وہ غیرت جسے اللہ ناپسند فرماتا ہے، وہ بلاوجہ (بغیر کسی شک کے) غیرت کرنا ہے۔ اور وہ غرور جسے اللہ پسند فرماتا ہے، وہ آدمی کا میدانِ جنگ میں اور صدقہ دیتے وقت اکڑ کر چلنا ہے، اور وہ غرور جسے اللہ ناپسند فرماتا ہے، وہ آدمی کا سرکشی اور تکبر کی بنا پر اکڑ کر چلنا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2221
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم د ن حب] جابر بن عتيك. الإرواء ١٩٩٩.
«إن من الفطرة: المضمضة والاستنشاق والسواك وقص الشوارب وتقليم الأظفار ونتف الإبط والاستحداد وغسل البراجم والانتضاح بالماء والاختتان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ فطرت کی سنتوں میں سے یہ امور ہیں: کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، مسواک کرنا، مونچھیں تراشنا، ناخن کاٹنا، بغل کے بال اکھاڑنا، زیرِ ناف بال صاف کرنا، انگلیوں کے جوڑوں کو (اچھی طرح) دھونا، (استنجاء کے بعد پیشاب کے وہم سے بچنے کے لیے کپڑوں پر) پانی کے چھینٹے مارنا اور ختنہ کرنا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2222
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم ش د هـ] عن عمار بن ياسر. صحيح أبي داود ٤٤.
«إن من الناس ناسا مفاتيح للخير مغاليق للشر وإن من الناس ناسا مفاتيح للشر مغاليق للخير فطوبى لمن جعل الله مفاتيح الخير على يديه وويل لمن جعل الله مفاتيح الشر على يديه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ لوگوں میں سے کچھ لوگ بھلائی کی چابیاں اور برائی کے تالے ہوتے ہیں، اور بے شک لوگوں میں سے کچھ لوگ برائی کی چابیاں اور بھلائی کے تالے ہوتے ہیں۔ پس خوشخبری ہے اس شخص کے لیے جس کے ہاتھوں میں اللہ تعالیٰ نے بھلائی کی چابیاں دے دی ہیں، اور ہلاکت و بربادی ہے اس شخص کے لیے جس کے ہاتھوں میں اللہ تعالیٰ نے برائی کی چابیاں دے دی ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2223
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [هـ] عن أنس. الصحيحة ١٣٣٢.
«إن من أمتي قوما يعطون مثل أجور أولهم ينكرون المنكر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ میری امت میں کچھ ایسے لوگ بھی ہوں گے جنہیں اس امت کے اولین لوگوں (یعنی صحابہ کرام) جیسا اجر عطا کیا جائے گا، وہ برائی (اور منکرات) سے روکنے والے ہوں گے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2224
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن رجل. الصحيحة ١٧٠٠.
«إن من تمام الصلاة إقامة الصف»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ صفوں کو سیدھا کرنا نماز کے مکمل ہونے کا حصہ ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2225
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم] عن جابر. صحيح الترغيب ٤٩٤ نحوه من رواية أنس عند البخاري ومسلم وابن ماجه.
«إن من شر الناس عند الله يوم القيامة ذا الوجهين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک لوگوں میں سب سے برا وہ شخص ہوگا جو دوغلا (دو چہروں والا منافق) ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2226
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت] عن أبي هريرة. خ ٤/٣٩٥، م ٨/٢٧.
«إن من ضئضئ هذا قوما يقرءون القرآن لا يجاوز حناجرهم يقتلون أهل الإسلام ويدعون أهل الأوثان يمرقون من الإسلام كما يمرق السهم من الرمية لئن أدركتهم لأقتلنهم قتل عاد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اس شخص کی نسل سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے۔ وہ دینِ اسلام سے اس طرح تیزی سے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کے جسم سے پار نکل جاتا ہے۔ اگر میں نے ان کا زمانہ پایا تو میں انہیں قوم عاد کی طرح (جڑ سے اکھاڑ کر) قتل کروں گا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2227
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ق د ن] عن أبي سعيد. الإرواء ٨٦٤.
«إن من عباد الله من لو أقسم على الله لأبره»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں کہ اگر وہ اللہ کے بھروسے پر قسم کھا لیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم پوری فرما دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2228
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم ق د ن هـ] أنس. المشكاة ٣٤٦٠.
«إن من قبل مغرب الشمس بابا مفتوحا عرضه سبعون سنة فلا يزال ذلك الباب مفتوحا حتى تطلع الشمس نحوه فإذا طلعت من نحوه لم ينفع نفسا إيمانها لم تكن آمنت من قبل أو كسبت في إيمانها خيرا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ سورج غروب ہونے کی سمت (مغرب میں توبہ کا) ایک دروازہ کھلا ہوا ہے جس کی چوڑائی ستر سال کی مسافت کے برابر ہے۔ وہ دروازہ مسلسل کھلا رہے گا یہاں تک کہ سورج اسی سمت (مغرب) سے طلوع ہو۔ پس جب سورج اس سمت سے طلوع ہوگا تو اس وقت ﴿لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا﴾ ”کسی ایسی جان کو اس کا ایمان نفع نہیں دے گا جو اس سے پہلے ایمان نہ لائی ہو، یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی نیکی نہ کمائی ہو۔“ [سورة الأنعام: 158]
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2229
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [هـ] عن صفوان بن عسال. الترغيب ٤/٧٣: حم، الحميدي، ت، حل.
«إن مما أدرك الناس من كلام النبوة الأولى: إذا لم تستح فاصنع ما شئت»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ پہلی نبوتوں کے کلام میں سے جو لوگوں تک پہنچا ہے وہ یہ ہے: جب تم میں حیا نہ رہے تو پھر جو چاہو کرو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2230
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم خ د هـ] عن ابن مسعود [حم] عن حذيفة. الصحيحة ٦٨٤.
«إن مما يلحق المؤمن من عمله وحسناته بعد موته علما نشره وولدا صالحا تركه ومصحفا ورثه أو مسجدا بناه أو بيتا لابن السبيل بناه أو نهرا أجراه أو صدقة أخرجها من ماله في صحته وحياته تلحقه من بعد موته»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ مومن کو اس کے مرنے کے بعد اس کے عمل اور نیکیوں میں سے جن چیزوں کا ثواب پہنچتا رہتا ہے، وہ یہ ہیں: وہ علم جو اس نے پھیلایا، نیک اولاد جو وہ پیچھے چھوڑ گیا، قرآن مجید کا نسخہ جو اس نے وراثت میں چھوڑا، یا کوئی مسجد جو اس نے تعمیر کی، یا مسافر کے لیے کوئی گھر جو اس نے بنایا، یا کوئی نہر جو اس نے جاری کی، یا وہ صدقہ جو اس نے اپنی صحت اور زندگی کی حالت میں اپنے مال سے نکالا، تو ان سب کا ثواب اسے موت کے بعد بھی ملتا رہتا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2231
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [هـ] عن أبي هريرة. المشكاة ٢٥٤، أحكام الجنائز ١٧٦، الإرواء ١٠٧٩.
«إن موجبات المغفرة بذل السلام وحسن الكلام»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ مغفرت کو واجب کرنے والے اعمال میں سے کثرت سے سلام کو پھیلانا اور عمدہ و نرم گفتگو کرنا ہے۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2232
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن هانئ بن يزيد. الصحيحة ١٠٣٥: الخرائطي، القضاعي.
«إن من ورائكم أياما ينزل فيها الجهل ويرفع فيها العلم ويكثر فيها الهرج: القتل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ تمہارے آگے ایسے دن آنے والے ہیں جن میں جہالت طاری ہو جائے گی، علم اٹھا لیا جائے گا اور ان میں «الْهَرْجُ» یعنی قتل و غارت گری بہت زیادہ ہو جائے گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2233
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [ت هـ] عن أبي موسى. خ ٤/٣٦٨، م ٨/٥٨ - ٥٩.
«إن من ورائكم زمان صبر للمتمسك فيه أجر خمسين شهيدا منكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ تمہارے بعد صبر کا ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ اس میں (دین پر) مضبوطی سے قائم رہنے والے کے لیے تم میں سے پچاس شہیدوں کے برابر اجر ہوگا۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2234
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [طب] عن ابن مسعود. الصحيحة ٤٩٤.
«إن من يمن المرأة تيسير خطبتها وتيسير صداقها وتيسير رحمها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ عورت کی برکتوں میں سے یہ ہے کہ اس کا پیغامِ نکاح آسان ہو، اس کا مہر آسان ہو، اور اس کا رحم (یعنی ولادت کا مرحلہ) آسان ہو۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2235
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن
تخریج حدیث [حم ك هق] عن عائشة. الروض النضير ٨٢٦، الإرواء ١٩٨٦: حب.
«إن منكم رجالا لا أعطيهم شيئا أكلهم إلى إيمانهم منهم فرات بن حيان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ تم میں سے کچھ ایسے مرد ہیں جنہیں میں (تالیفِ قلب کے لیے مال میں سے) کچھ نہیں دیتا، بلکہ میں انہیں ان کے ایمان کے حوالے کر دیتا ہوں (یعنی ان کے پختہ ایمان پر بھروسہ کرتا ہوں)، انہی میں سے فرات بن حیان (رضی اللہ عنہ) بھی ہیں۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2236
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د ك هن] عن الفرات بن حيان [حم] عن بعض الصحابة. الصحيحة ١٧٠١.
«إن منهم من تأخذه النار إلى كعبيه ومنهم من تأخذه إلى ركبتيه ومنهم من تأخذه إلى حجزته ومنهم من تأخذه إلى عنقه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ جہنمیوں میں سے کچھ ایسے ہوں گے جنہیں آگ ان کے ٹخنوں تک پکڑے گی، اور ان میں سے کچھ ایسے ہوں گے جنہیں آگ ان کے گھٹنوں تک پکڑے گی، اور ان میں سے کچھ ایسے ہوں گے جنہیں آگ ان کی کمر تک پکڑے گی، اور ان میں سے کچھ ایسے ہوں گے جنہیں آگ ان کی گردن تک پکڑے گی۔“
حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 2237
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم م] عن سمرة. مختصر مسلم ١٩٧٩.