«إن ملكا أتاني فقال: إن ربك يقول لك: أما ترضى أن لا يصلي عليك أحد من أمتك إلا صليت عليه عشرا ولا يسلم عليك إلا سلمت عليه عشرا؟ قلت: بلى»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ ایک فرشتہ میرے پاس آیا اور اس نے کہا: بے شک آپ کا رب آپ سے فرماتا ہے: کیا آپ اس بات پر راضی نہیں ہیں کہ آپ کی امت میں سے کوئی شخص آپ پر ایک مرتبہ درود بھیجے تو میں اس پر دس رحمتیں نازل کروں، اور کوئی آپ پر ایک مرتبہ سلام بھیجے تو میں اس پر دس مرتبہ سلامتی نازل کروں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں (میں راضی ہوں)۔“
”بلاشبہ ایک فرشتہ میرے پاس آیا اور اس نے کہا: بے شک آپ کا رب آپ سے فرماتا ہے: کیا آپ اس بات پر راضی نہیں ہیں کہ آپ کی امت میں سے کوئی شخص آپ پر ایک مرتبہ درود بھیجے تو میں اس پر دس رحمتیں نازل کروں، اور کوئی آپ پر ایک مرتبہ سلام بھیجے تو میں اس پر دس مرتبہ سلامتی نازل کروں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں (میں راضی ہوں)۔“
«إن من إجلال الله إكرام ذي الشيبة المسلم وحامل القرآن غير الغالي فيه والجافي عنه وإكرام ذي السلطان المقسط»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی تعظیم میں سے یہ بھی ہے کہ بوڑھے مسلمان کی عزت کی جائے، اور قرآن کے اس حافظ کی عزت کی جائے جو نہ اس میں غلو کرنے والا ہو اور نہ ہی اس سے روگردانی کرنے والا ہو، اور انصاف پرور حکمران کی عزت کی جائے۔“
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی تعظیم میں سے یہ بھی ہے کہ بوڑھے مسلمان کی عزت کی جائے، اور قرآن کے اس حافظ کی عزت کی جائے جو نہ اس میں غلو کرنے والا ہو اور نہ ہی اس سے روگردانی کرنے والا ہو، اور انصاف پرور حکمران کی عزت کی جائے۔“
«إن من أحبكم إلي أحسنكم أخلاقا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ تم میں سے مجھے سب سے زیادہ محبوب وہ شخص ہے جس کے اخلاق تم سب میں سب سے اچھے ہوں۔“
”بلاشبہ تم میں سے مجھے سب سے زیادہ محبوب وہ شخص ہے جس کے اخلاق تم سب میں سب سے اچھے ہوں۔“
«إن من أحبكم إلي وأقربكم مني مجلسا يوم القيامة أحاسنكم أخلاقا وإن أبغضكم إلي وأبعدكم مني يوم القيامة الثرثارون والمتشدقون والمتفيهقون قالوا: يا رسول الله ما المتفيهقون؟ قال: المتكبرون»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ تم میں سے میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب اور قیامت کے دن میری مجلس کے سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہوں گے جن کے اخلاق سب سے اچھے ہوں گے۔ اور بے شک تم میں سے مجھے سب سے زیادہ ناپسند اور قیامت کے دن مجھ سے سب سے زیادہ دور وہ لوگ ہوں گے جو بہت زیادہ باتیں بنانے والے، تکلف سے بولنے والے اور «المُتَفَيْهِقُونَ» ہوں گے۔ صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! «المُتَفَيْهِقُونَ» کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تکبر کرنے والے۔“
”بلاشبہ تم میں سے میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب اور قیامت کے دن میری مجلس کے سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہوں گے جن کے اخلاق سب سے اچھے ہوں گے۔ اور بے شک تم میں سے مجھے سب سے زیادہ ناپسند اور قیامت کے دن مجھ سے سب سے زیادہ دور وہ لوگ ہوں گے جو بہت زیادہ باتیں بنانے والے، تکلف سے بولنے والے اور «المُتَفَيْهِقُونَ» ہوں گے۔ صحابہ نے پوچھا: یا رسول اللہ! «المُتَفَيْهِقُونَ» کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تکبر کرنے والے۔“
«إن من أحسن الناس صوتا بالقرآن الذي إذا سمعته يقرأ رأيت أنه يخشى الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ لوگوں میں قرآن کو سب سے اچھی آواز کے ساتھ پڑھنے والا وہ شخص ہے کہ جب تم اسے پڑھتے ہوئے سنو تو تمہیں یہ محسوس ہو کہ وہ اللہ سے ڈر رہا ہے۔“
”بلاشبہ لوگوں میں قرآن کو سب سے اچھی آواز کے ساتھ پڑھنے والا وہ شخص ہے کہ جب تم اسے پڑھتے ہوئے سنو تو تمہیں یہ محسوس ہو کہ وہ اللہ سے ڈر رہا ہے۔“
«إن من أربى الربا الاستطالة في عرض المسلم بغير حق»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ سود در سود (یعنی بدترین سود) یہ ہے کہ کسی مسلمان کی عزت میں ناحق زبان درازی کی جائے۔“
”بلاشبہ سود در سود (یعنی بدترین سود) یہ ہے کہ کسی مسلمان کی عزت میں ناحق زبان درازی کی جائے۔“
«إن من أشد الناس عذابا يوم القيامة الذين يشبهون بخلق الله»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ قیامت کے دن لوگوں میں سب سے سخت عذاب ان لوگوں کو ہوگا جو اللہ کی تخلیق کی نقل کرتے ہیں (یعنی جانداروں کی تصویریں اور مجسمے بناتے ہیں)۔“
”بلاشبہ قیامت کے دن لوگوں میں سب سے سخت عذاب ان لوگوں کو ہوگا جو اللہ کی تخلیق کی نقل کرتے ہیں (یعنی جانداروں کی تصویریں اور مجسمے بناتے ہیں)۔“
«إن من أشراط الساعة أن تقاتلوا قوما ينتعلون نعال الشعر وإن من أشراط الساعة أن تقاتلوا قوما عراض الوجوه كأن وجوههم المجان المطرقة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ تم ایک ایسی قوم سے جنگ کرو گے جو بالوں کے جوتے پہنتی ہوگی، اور قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ تم ایک ایسی قوم سے جنگ کرو گے جن کے چہرے چوڑے ہوں گے، گویا ان کے چہرے تہہ در تہہ چمڑی مڑھی ہوئی ڈھالیں ہوں۔“
”بلاشبہ قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ تم ایک ایسی قوم سے جنگ کرو گے جو بالوں کے جوتے پہنتی ہوگی، اور قیامت کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ تم ایک ایسی قوم سے جنگ کرو گے جن کے چہرے چوڑے ہوں گے، گویا ان کے چہرے تہہ در تہہ چمڑی مڑھی ہوئی ڈھالیں ہوں۔“
«إن من أشراط الساعة أن يرفع العلم ويظهر الجهل ويفشو الزنا ويشرب الخمر ويذهب الرجال وتبقى النساء حتى يكون لخمسين امرأة قيم واحد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ (دینی) علم اٹھا لیا جائے گا، جہالت غالب آ جائے گی، زنا عام ہو جائے گا، شراب پی جائے گی، اور مرد کم ہو جائیں گے جبکہ عورتیں باقی رہ جائیں گی، یہاں تک کہ پچاس عورتوں کا نگران صرف ایک مرد ہوگا۔“
”بلاشبہ قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ (دینی) علم اٹھا لیا جائے گا، جہالت غالب آ جائے گی، زنا عام ہو جائے گا، شراب پی جائے گی، اور مرد کم ہو جائیں گے جبکہ عورتیں باقی رہ جائیں گی، یہاں تک کہ پچاس عورتوں کا نگران صرف ایک مرد ہوگا۔“
«إن من أشراط الساعة أن يلتمس العلم عند الأصاغر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ علم چھوٹوں (یعنی کم علم اور حقیر لوگوں) کے پاس تلاش کیا جائے گا۔“
”بلاشبہ قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ علم چھوٹوں (یعنی کم علم اور حقیر لوگوں) کے پاس تلاش کیا جائے گا۔“
«إن من أطيب ما أكل الرجل من كسبه وولده من كسبه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ انسان جو کچھ کھاتا ہے اس میں سب سے پاکیزہ وہ ہے جو اس کی اپنی کمائی سے ہو، اور اس کی اولاد بھی اس کی کمائی کا حصہ ہے۔“
”بلاشبہ انسان جو کچھ کھاتا ہے اس میں سب سے پاکیزہ وہ ہے جو اس کی اپنی کمائی سے ہو، اور اس کی اولاد بھی اس کی کمائی کا حصہ ہے۔“
«إن من أعظم الجهاد كلمة عدل عند سلطان جائر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ ظالم حکمران کے سامنے حق (اور انصاف) کی بات کہنا سب سے عظیم جہاد ہے۔“
”بلاشبہ ظالم حکمران کے سامنے حق (اور انصاف) کی بات کہنا سب سے عظیم جہاد ہے۔“
«إن من أعظم الفرى أن يدعى الرجل إلى غير أبيه أو يرى عينيه ما لم تريا ويقول على رسول الله صلى الله عليه وسلم ما لم يقل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ سب سے بڑے جھوٹ یہ ہیں کہ کوئی شخص اپنے حقیقی باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنا نسب منسوب کرے، یا اپنی آنکھوں کو وہ کچھ دکھائے جو انہوں نے نہیں دیکھا (یعنی جھوٹا خواب بیان کرے)، اور رسول اللہ ﷺ کی طرف کوئی ایسی بات منسوب کرے جو آپ ﷺ نے نہ کہی ہو۔“
”بلاشبہ سب سے بڑے جھوٹ یہ ہیں کہ کوئی شخص اپنے حقیقی باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف اپنا نسب منسوب کرے، یا اپنی آنکھوں کو وہ کچھ دکھائے جو انہوں نے نہیں دیکھا (یعنی جھوٹا خواب بیان کرے)، اور رسول اللہ ﷺ کی طرف کوئی ایسی بات منسوب کرے جو آپ ﷺ نے نہ کہی ہو۔“
«إن من أفرى الفرى أن يرى الرجل عينه في المنام ما لم تر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ سب سے بڑے جھوٹوں میں سے یہ ہے کہ آدمی اپنی آنکھوں کو خواب میں وہ کچھ دکھائے جو انہوں نے نہیں دیکھا (یعنی جھوٹا خواب بیان کرے)۔“
”بلاشبہ سب سے بڑے جھوٹوں میں سے یہ ہے کہ آدمی اپنی آنکھوں کو خواب میں وہ کچھ دکھائے جو انہوں نے نہیں دیکھا (یعنی جھوٹا خواب بیان کرے)۔“
«إن من أفضل أيامكم يوم الجمعة فيه خلق آدم وفيه قبض وفيه النفخة وفيه الصعقة فأكثروا علي من الصلاة فيه فإن صلاتكم معروضة علي إن الله حرم على الأرض أن تأكل أجساد الأنبياء»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ تمہارے دنوں میں سب سے افضل دن جمعہ کا دن ہے۔ اسی میں آدم (علیہ السلام) پیدا کیے گئے، اسی میں ان کی روح قبض کی گئی، اسی دن صور پھونکا جائے گا اور اسی دن سب پر بے ہوشی طاری ہوگی۔ لہٰذا اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو، کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیاء کے جسموں کو کھانا حرام کر دیا ہے۔“
”بلاشبہ تمہارے دنوں میں سب سے افضل دن جمعہ کا دن ہے۔ اسی میں آدم (علیہ السلام) پیدا کیے گئے، اسی میں ان کی روح قبض کی گئی، اسی دن صور پھونکا جائے گا اور اسی دن سب پر بے ہوشی طاری ہوگی۔ لہٰذا اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو، کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیاء کے جسموں کو کھانا حرام کر دیا ہے۔“
"إن من أكبر الكبائر الشرك بالله وعقوق الوالدين واليمين الغموس وما حلف حالف بالله يمين صبر فأدخل فيها مثل
جناح بعوضة إلا جعلت نكتة في قلبه إلى يوم القيامة"
جناح بعوضة إلا جعلت نكتة في قلبه إلى يوم القيامة"
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ سب سے بڑے گناہوں (کبیرہ گناہوں) میں اللہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا اور «اليَمِين الغَمُوس» (جان بوجھ کر کھائی جانے والی جھوٹی قسم) شامل ہے۔ اور جو کوئی قسم کھانے والا اللہ کے نام پر کوئی ایسی قسم کھائے جس پر اسے مجبور کیا گیا ہو (یا وہ خود کھائے)، اور اس میں مچھر کے پر کے برابر بھی (جھوٹ) شامل کر لے، تو اس کے دل پر قیامت کے دن تک کے لیے ایک سیاہ دھبہ لگا دیا جاتا ہے۔“
”بلاشبہ سب سے بڑے گناہوں (کبیرہ گناہوں) میں اللہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا اور «اليَمِين الغَمُوس» (جان بوجھ کر کھائی جانے والی جھوٹی قسم) شامل ہے۔ اور جو کوئی قسم کھانے والا اللہ کے نام پر کوئی ایسی قسم کھائے جس پر اسے مجبور کیا گیا ہو (یا وہ خود کھائے)، اور اس میں مچھر کے پر کے برابر بھی (جھوٹ) شامل کر لے، تو اس کے دل پر قیامت کے دن تک کے لیے ایک سیاہ دھبہ لگا دیا جاتا ہے۔“
«إن من أكبر الكبائر أن يلعن الرجل والديه: يلعن أبا الرجل فيلعن أباه ويلعن أمه فيلعن أمه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ سب سے بڑے گناہوں میں سے یہ ہے کہ آدمی اپنے والدین پر لعنت کرے۔ (صحابہ کے پوچھنے پر آپ ﷺ نے فرمایا: وہ اس طرح کہ) وہ کسی دوسرے آدمی کے باپ کو گالی دیتا ہے تو وہ پلٹ کر اس کے باپ کو گالی دیتا ہے، اور وہ اس کی ماں کو گالی دیتا ہے تو وہ پلٹ کر اس کی ماں کو گالی دیتا ہے۔“
”بلاشبہ سب سے بڑے گناہوں میں سے یہ ہے کہ آدمی اپنے والدین پر لعنت کرے۔ (صحابہ کے پوچھنے پر آپ ﷺ نے فرمایا: وہ اس طرح کہ) وہ کسی دوسرے آدمی کے باپ کو گالی دیتا ہے تو وہ پلٹ کر اس کے باپ کو گالی دیتا ہے، اور وہ اس کی ماں کو گالی دیتا ہے تو وہ پلٹ کر اس کی ماں کو گالی دیتا ہے۔“
«إن من البيان سحرا وإن من الشعر حكما»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ بعض بیانات (اور تقریروں) میں جادو (جیسی تاثیر) ہوتی ہے اور بلاشبہ بعض اشعار میں حکمت (کی باتیں) ہوتی ہیں۔“
”بلاشبہ بعض بیانات (اور تقریروں) میں جادو (جیسی تاثیر) ہوتی ہے اور بلاشبہ بعض اشعار میں حکمت (کی باتیں) ہوتی ہیں۔“
«إن من البيان لسحرا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ بعض بیانات (تقریروں) میں ضرور جادو (جیسی تاثیر) ہوتی ہے۔“
”بلاشبہ بعض بیانات (تقریروں) میں ضرور جادو (جیسی تاثیر) ہوتی ہے۔“
«إن من الحنطة خمرا وإن من الشعير خمرا وإن من التمر خمرا وإن من الزبيب خمرا وإن من العسل خمرا وأنا أنهى عن كل مسكر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ گندم سے بھی شراب بنتی ہے، جو سے بھی شراب بنتی ہے، کھجور سے بھی شراب بنتی ہے، کشمش سے بھی شراب بنتی ہے اور شہد سے بھی شراب بنتی ہے، اور میں ہر نشہ آور چیز (کے استعمال) سے منع کرتا ہوں۔“
”بلاشبہ گندم سے بھی شراب بنتی ہے، جو سے بھی شراب بنتی ہے، کھجور سے بھی شراب بنتی ہے، کشمش سے بھی شراب بنتی ہے اور شہد سے بھی شراب بنتی ہے، اور میں ہر نشہ آور چیز (کے استعمال) سے منع کرتا ہوں۔“
«إن من الشجر شجرة لا يسقط ورقها وإنها مثل المسلم فحدثوني ما هي؟ ثم قال: هي النخلة»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ درختوں میں ایک ایسا درخت ہے جس کے پتے نہیں گرتے، اور بلاشبہ اس کی مثال مسلمان جیسی ہے۔ پس مجھے بتاؤ وہ کون سا درخت ہے؟“ (لوگوں کے خاموش رہنے پر) پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کھجور کا درخت ہے۔“
”بلاشبہ درختوں میں ایک ایسا درخت ہے جس کے پتے نہیں گرتے، اور بلاشبہ اس کی مثال مسلمان جیسی ہے۔ پس مجھے بتاؤ وہ کون سا درخت ہے؟“ (لوگوں کے خاموش رہنے پر) پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کھجور کا درخت ہے۔“
«إن من العنب خمرا وإن من التمر خمرا وإن من العسل خمرا وإن من البر خمرا وإن من الشعير خمرا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ انگور سے بھی شراب بنتی ہے، کھجور سے بھی شراب بنتی ہے، شہد سے بھی شراب بنتی ہے، گندم سے بھی شراب بنتی ہے اور جو سے بھی شراب بنتی ہے۔“
”بلاشبہ انگور سے بھی شراب بنتی ہے، کھجور سے بھی شراب بنتی ہے، شہد سے بھی شراب بنتی ہے، گندم سے بھی شراب بنتی ہے اور جو سے بھی شراب بنتی ہے۔“
«إن من الغيرة ما يحب الله ومنها ما يبغض الله وإن من الخيلاء ما يحب الله ومنها ما يبغض الله فأما الغيرة التي يحبها الله فالغيرة في الريبة وأما الغيرة التي يبغض الله فالغيرة في غير الريبة وأما الخيلاء التي يحبها الله فاختيال الرجل في القتال واختياله عند الصدقة وأما الخيلاء التي يبغض الله فاختيال الرجل في البغي والفخر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ غیرت کی ایک قسم وہ ہے جسے اللہ پسند فرماتا ہے اور ایک وہ ہے جسے اللہ ناپسند فرماتا ہے۔ اسی طرح فخر و غرور (کی چال) کی ایک قسم وہ ہے جسے اللہ پسند فرماتا ہے اور ایک وہ ہے جسے اللہ ناپسند فرماتا ہے۔ پس وہ غیرت جسے اللہ پسند فرماتا ہے، وہ شک کی بنیاد پر (حرام کام کے اندیشے کے وقت) غیرت کرنا ہے، اور وہ غیرت جسے اللہ ناپسند فرماتا ہے، وہ بلاوجہ (بغیر کسی شک کے) غیرت کرنا ہے۔ اور وہ غرور جسے اللہ پسند فرماتا ہے، وہ آدمی کا میدانِ جنگ میں اور صدقہ دیتے وقت اکڑ کر چلنا ہے، اور وہ غرور جسے اللہ ناپسند فرماتا ہے، وہ آدمی کا سرکشی اور تکبر کی بنا پر اکڑ کر چلنا ہے۔“
”بلاشبہ غیرت کی ایک قسم وہ ہے جسے اللہ پسند فرماتا ہے اور ایک وہ ہے جسے اللہ ناپسند فرماتا ہے۔ اسی طرح فخر و غرور (کی چال) کی ایک قسم وہ ہے جسے اللہ پسند فرماتا ہے اور ایک وہ ہے جسے اللہ ناپسند فرماتا ہے۔ پس وہ غیرت جسے اللہ پسند فرماتا ہے، وہ شک کی بنیاد پر (حرام کام کے اندیشے کے وقت) غیرت کرنا ہے، اور وہ غیرت جسے اللہ ناپسند فرماتا ہے، وہ بلاوجہ (بغیر کسی شک کے) غیرت کرنا ہے۔ اور وہ غرور جسے اللہ پسند فرماتا ہے، وہ آدمی کا میدانِ جنگ میں اور صدقہ دیتے وقت اکڑ کر چلنا ہے، اور وہ غرور جسے اللہ ناپسند فرماتا ہے، وہ آدمی کا سرکشی اور تکبر کی بنا پر اکڑ کر چلنا ہے۔“
«إن من الفطرة: المضمضة والاستنشاق والسواك وقص الشوارب وتقليم الأظفار ونتف الإبط والاستحداد وغسل البراجم والانتضاح بالماء والاختتان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ فطرت کی سنتوں میں سے یہ امور ہیں: کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، مسواک کرنا، مونچھیں تراشنا، ناخن کاٹنا، بغل کے بال اکھاڑنا، زیرِ ناف بال صاف کرنا، انگلیوں کے جوڑوں کو (اچھی طرح) دھونا، (استنجاء کے بعد پیشاب کے وہم سے بچنے کے لیے کپڑوں پر) پانی کے چھینٹے مارنا اور ختنہ کرنا۔“
”بلاشبہ فطرت کی سنتوں میں سے یہ امور ہیں: کلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، مسواک کرنا، مونچھیں تراشنا، ناخن کاٹنا، بغل کے بال اکھاڑنا، زیرِ ناف بال صاف کرنا، انگلیوں کے جوڑوں کو (اچھی طرح) دھونا، (استنجاء کے بعد پیشاب کے وہم سے بچنے کے لیے کپڑوں پر) پانی کے چھینٹے مارنا اور ختنہ کرنا۔“
«إن من الناس ناسا مفاتيح للخير مغاليق للشر وإن من الناس ناسا مفاتيح للشر مغاليق للخير فطوبى لمن جعل الله مفاتيح الخير على يديه وويل لمن جعل الله مفاتيح الشر على يديه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ لوگوں میں سے کچھ لوگ بھلائی کی چابیاں اور برائی کے تالے ہوتے ہیں، اور بے شک لوگوں میں سے کچھ لوگ برائی کی چابیاں اور بھلائی کے تالے ہوتے ہیں۔ پس خوشخبری ہے اس شخص کے لیے جس کے ہاتھوں میں اللہ تعالیٰ نے بھلائی کی چابیاں دے دی ہیں، اور ہلاکت و بربادی ہے اس شخص کے لیے جس کے ہاتھوں میں اللہ تعالیٰ نے برائی کی چابیاں دے دی ہیں۔“
”بلاشبہ لوگوں میں سے کچھ لوگ بھلائی کی چابیاں اور برائی کے تالے ہوتے ہیں، اور بے شک لوگوں میں سے کچھ لوگ برائی کی چابیاں اور بھلائی کے تالے ہوتے ہیں۔ پس خوشخبری ہے اس شخص کے لیے جس کے ہاتھوں میں اللہ تعالیٰ نے بھلائی کی چابیاں دے دی ہیں، اور ہلاکت و بربادی ہے اس شخص کے لیے جس کے ہاتھوں میں اللہ تعالیٰ نے برائی کی چابیاں دے دی ہیں۔“
«إن من أمتي قوما يعطون مثل أجور أولهم ينكرون المنكر»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ میری امت میں کچھ ایسے لوگ بھی ہوں گے جنہیں اس امت کے اولین لوگوں (یعنی صحابہ کرام) جیسا اجر عطا کیا جائے گا، وہ برائی (اور منکرات) سے روکنے والے ہوں گے۔“
”بلاشبہ میری امت میں کچھ ایسے لوگ بھی ہوں گے جنہیں اس امت کے اولین لوگوں (یعنی صحابہ کرام) جیسا اجر عطا کیا جائے گا، وہ برائی (اور منکرات) سے روکنے والے ہوں گے۔“
«إن من تمام الصلاة إقامة الصف»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ صفوں کو سیدھا کرنا نماز کے مکمل ہونے کا حصہ ہے۔“
”بلاشبہ صفوں کو سیدھا کرنا نماز کے مکمل ہونے کا حصہ ہے۔“
«إن من شر الناس عند الله يوم القيامة ذا الوجهين»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک لوگوں میں سب سے برا وہ شخص ہوگا جو دوغلا (دو چہروں والا منافق) ہو۔“
”بلاشبہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک لوگوں میں سب سے برا وہ شخص ہوگا جو دوغلا (دو چہروں والا منافق) ہو۔“
«إن من ضئضئ هذا قوما يقرءون القرآن لا يجاوز حناجرهم يقتلون أهل الإسلام ويدعون أهل الأوثان يمرقون من الإسلام كما يمرق السهم من الرمية لئن أدركتهم لأقتلنهم قتل عاد»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اس شخص کی نسل سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے۔ وہ دینِ اسلام سے اس طرح تیزی سے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کے جسم سے پار نکل جاتا ہے۔ اگر میں نے ان کا زمانہ پایا تو میں انہیں قوم عاد کی طرح (جڑ سے اکھاڑ کر) قتل کروں گا۔“
”بلاشبہ اس شخص کی نسل سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے۔ وہ دینِ اسلام سے اس طرح تیزی سے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کے جسم سے پار نکل جاتا ہے۔ اگر میں نے ان کا زمانہ پایا تو میں انہیں قوم عاد کی طرح (جڑ سے اکھاڑ کر) قتل کروں گا۔“
«إن من عباد الله من لو أقسم على الله لأبره»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں کہ اگر وہ اللہ کے بھروسے پر قسم کھا لیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم پوری فرما دیتا ہے۔“
”بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں کہ اگر وہ اللہ کے بھروسے پر قسم کھا لیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم پوری فرما دیتا ہے۔“
«إن من قبل مغرب الشمس بابا مفتوحا عرضه سبعون سنة فلا يزال ذلك الباب مفتوحا حتى تطلع الشمس نحوه فإذا طلعت من نحوه لم ينفع نفسا إيمانها لم تكن آمنت من قبل أو كسبت في إيمانها خيرا»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ سورج غروب ہونے کی سمت (مغرب میں توبہ کا) ایک دروازہ کھلا ہوا ہے جس کی چوڑائی ستر سال کی مسافت کے برابر ہے۔ وہ دروازہ مسلسل کھلا رہے گا یہاں تک کہ سورج اسی سمت (مغرب) سے طلوع ہو۔ پس جب سورج اس سمت سے طلوع ہوگا تو اس وقت ﴿لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا﴾ ”کسی ایسی جان کو اس کا ایمان نفع نہیں دے گا جو اس سے پہلے ایمان نہ لائی ہو، یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی نیکی نہ کمائی ہو۔“ [سورة الأنعام: 158]“
”بلاشبہ سورج غروب ہونے کی سمت (مغرب میں توبہ کا) ایک دروازہ کھلا ہوا ہے جس کی چوڑائی ستر سال کی مسافت کے برابر ہے۔ وہ دروازہ مسلسل کھلا رہے گا یہاں تک کہ سورج اسی سمت (مغرب) سے طلوع ہو۔ پس جب سورج اس سمت سے طلوع ہوگا تو اس وقت ﴿لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا﴾ ”کسی ایسی جان کو اس کا ایمان نفع نہیں دے گا جو اس سے پہلے ایمان نہ لائی ہو، یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی نیکی نہ کمائی ہو۔“ [سورة الأنعام: 158]“
«إن مما أدرك الناس من كلام النبوة الأولى: إذا لم تستح فاصنع ما شئت»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ پہلی نبوتوں کے کلام میں سے جو لوگوں تک پہنچا ہے وہ یہ ہے: جب تم میں حیا نہ رہے تو پھر جو چاہو کرو۔“
”بلاشبہ پہلی نبوتوں کے کلام میں سے جو لوگوں تک پہنچا ہے وہ یہ ہے: جب تم میں حیا نہ رہے تو پھر جو چاہو کرو۔“
«إن مما يلحق المؤمن من عمله وحسناته بعد موته علما نشره وولدا صالحا تركه ومصحفا ورثه أو مسجدا بناه أو بيتا لابن السبيل بناه أو نهرا أجراه أو صدقة أخرجها من ماله في صحته وحياته تلحقه من بعد موته»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ مومن کو اس کے مرنے کے بعد اس کے عمل اور نیکیوں میں سے جن چیزوں کا ثواب پہنچتا رہتا ہے، وہ یہ ہیں: وہ علم جو اس نے پھیلایا، نیک اولاد جو وہ پیچھے چھوڑ گیا، قرآن مجید کا نسخہ جو اس نے وراثت میں چھوڑا، یا کوئی مسجد جو اس نے تعمیر کی، یا مسافر کے لیے کوئی گھر جو اس نے بنایا، یا کوئی نہر جو اس نے جاری کی، یا وہ صدقہ جو اس نے اپنی صحت اور زندگی کی حالت میں اپنے مال سے نکالا، تو ان سب کا ثواب اسے موت کے بعد بھی ملتا رہتا ہے۔“
”بلاشبہ مومن کو اس کے مرنے کے بعد اس کے عمل اور نیکیوں میں سے جن چیزوں کا ثواب پہنچتا رہتا ہے، وہ یہ ہیں: وہ علم جو اس نے پھیلایا، نیک اولاد جو وہ پیچھے چھوڑ گیا، قرآن مجید کا نسخہ جو اس نے وراثت میں چھوڑا، یا کوئی مسجد جو اس نے تعمیر کی، یا مسافر کے لیے کوئی گھر جو اس نے بنایا، یا کوئی نہر جو اس نے جاری کی، یا وہ صدقہ جو اس نے اپنی صحت اور زندگی کی حالت میں اپنے مال سے نکالا، تو ان سب کا ثواب اسے موت کے بعد بھی ملتا رہتا ہے۔“
«إن موجبات المغفرة بذل السلام وحسن الكلام»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ مغفرت کو واجب کرنے والے اعمال میں سے کثرت سے سلام کو پھیلانا اور عمدہ و نرم گفتگو کرنا ہے۔“
”بلاشبہ مغفرت کو واجب کرنے والے اعمال میں سے کثرت سے سلام کو پھیلانا اور عمدہ و نرم گفتگو کرنا ہے۔“
«إن من ورائكم أياما ينزل فيها الجهل ويرفع فيها العلم ويكثر فيها الهرج: القتل»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ تمہارے آگے ایسے دن آنے والے ہیں جن میں جہالت طاری ہو جائے گی، علم اٹھا لیا جائے گا اور ان میں «الْهَرْجُ» یعنی قتل و غارت گری بہت زیادہ ہو جائے گی۔“
”بلاشبہ تمہارے آگے ایسے دن آنے والے ہیں جن میں جہالت طاری ہو جائے گی، علم اٹھا لیا جائے گا اور ان میں «الْهَرْجُ» یعنی قتل و غارت گری بہت زیادہ ہو جائے گی۔“
«إن من ورائكم زمان صبر للمتمسك فيه أجر خمسين شهيدا منكم»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ تمہارے بعد صبر کا ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ اس میں (دین پر) مضبوطی سے قائم رہنے والے کے لیے تم میں سے پچاس شہیدوں کے برابر اجر ہوگا۔“
”بلاشبہ تمہارے بعد صبر کا ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ اس میں (دین پر) مضبوطی سے قائم رہنے والے کے لیے تم میں سے پچاس شہیدوں کے برابر اجر ہوگا۔“
«إن من يمن المرأة تيسير خطبتها وتيسير صداقها وتيسير رحمها»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ عورت کی برکتوں میں سے یہ ہے کہ اس کا پیغامِ نکاح آسان ہو، اس کا مہر آسان ہو، اور اس کا رحم (یعنی ولادت کا مرحلہ) آسان ہو۔“
”بلاشبہ عورت کی برکتوں میں سے یہ ہے کہ اس کا پیغامِ نکاح آسان ہو، اس کا مہر آسان ہو، اور اس کا رحم (یعنی ولادت کا مرحلہ) آسان ہو۔“
«إن منكم رجالا لا أعطيهم شيئا أكلهم إلى إيمانهم منهم فرات بن حيان»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ تم میں سے کچھ ایسے مرد ہیں جنہیں میں (تالیفِ قلب کے لیے مال میں سے) کچھ نہیں دیتا، بلکہ میں انہیں ان کے ایمان کے حوالے کر دیتا ہوں (یعنی ان کے پختہ ایمان پر بھروسہ کرتا ہوں)، انہی میں سے فرات بن حیان (رضی اللہ عنہ) بھی ہیں۔“
”بلاشبہ تم میں سے کچھ ایسے مرد ہیں جنہیں میں (تالیفِ قلب کے لیے مال میں سے) کچھ نہیں دیتا، بلکہ میں انہیں ان کے ایمان کے حوالے کر دیتا ہوں (یعنی ان کے پختہ ایمان پر بھروسہ کرتا ہوں)، انہی میں سے فرات بن حیان (رضی اللہ عنہ) بھی ہیں۔“
«إن منهم من تأخذه النار إلى كعبيه ومنهم من تأخذه إلى ركبتيه ومنهم من تأخذه إلى حجزته ومنهم من تأخذه إلى عنقه»
ترجمہ
(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”بلاشبہ جہنمیوں میں سے کچھ ایسے ہوں گے جنہیں آگ ان کے ٹخنوں تک پکڑے گی، اور ان میں سے کچھ ایسے ہوں گے جنہیں آگ ان کے گھٹنوں تک پکڑے گی، اور ان میں سے کچھ ایسے ہوں گے جنہیں آگ ان کی کمر تک پکڑے گی، اور ان میں سے کچھ ایسے ہوں گے جنہیں آگ ان کی گردن تک پکڑے گی۔“
”بلاشبہ جہنمیوں میں سے کچھ ایسے ہوں گے جنہیں آگ ان کے ٹخنوں تک پکڑے گی، اور ان میں سے کچھ ایسے ہوں گے جنہیں آگ ان کے گھٹنوں تک پکڑے گی، اور ان میں سے کچھ ایسے ہوں گے جنہیں آگ ان کی کمر تک پکڑے گی، اور ان میں سے کچھ ایسے ہوں گے جنہیں آگ ان کی گردن تک پکڑے گی۔“
…