کتب حدیثالمعجم الكبير للطبرانيابوابباب: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی عمر اور وفات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ التَّيْمِيِّ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانَ، ثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ قَالَ: «قُتِلَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فِي أَوْسَطِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ»
ترجمہ
ابوعثمان نہدی بیان کرتے ہیں: عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ ایام تشریق کے درمیانی دن شہید کیے گئے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 99
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 77، حدیث 100
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّبَيْرَ بْنَ بَكَّارٍ، يَقُولُ: «قُتِلَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، يَوْمَ الْجُمُعَةِ لِثَمَانَ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، سَنَةَ سِتٍّ وَثَلَاثِينَ بَعْدَ الْعَصْرِ، وَهُوَ ابْنُ اثْنَيْنِ وَثَمَانِينَ سَنَةً، وَكَانَ يَوْمَئِذٍ صَائِمًا»
ترجمہ
زبیر بن بکار بیان کرتے ہیں: عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن، ذی الحجہ کی اٹھارہ تاریخ گزرنے کے بعد، سن چھتیس ہجری میں عصر کے بعد شہید کیے گئے، اس وقت ان کی عمر بیاسی برس تھی، اور وہ اس دن روزے سے تھے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 100
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 77، حدیث 101
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّقِّيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، قَالَ: «قُتِلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، سَنَةَ خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ»
ترجمہ
عبداللہ بن محمد بن عقیل کہتے ہیں: عثمان رضی اللہ عنہ سنہ 35 ہجری میں شہید کر دیے گئے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 101
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 77، حدیث 102
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، قَالَ: «قُتِلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سَنَةَ خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ»
ترجمہ
عبداللہ بن محمد بن عقیل کہتے ہیں: عثمان رضی اللہ عنہ سنہ 35 ہجری میں شہید کر دیے گئے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 102
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 77، حدیث 103
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو هِلَالٍ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: «قُتِلَ عُثْمَانُ وَهُوَ ابْنُ تِسْعِينَ أَوْ ثَمَانٍ وَثَمَانِينَ»
ترجمہ
قتادہ کہتے ہیں: عثمان جب شہید ہوئے تو ان کی عمر نوے یا اٹھاسی برس تھی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 103
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 78، حدیث 104
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: «قُتِلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، سَنَةَ خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ»
ترجمہ
ابوبکر بن ابی شیبہ کہتے ہیں: عثمان رضی اللہ عنہ سنہ 35 ہجری میں شہید کر دیے گئے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 104
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 78، حدیث 105
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ: «كَانَتْ خِلَافَةُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ثِنْتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً»
ترجمہ
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: عثمان رضی اللہ عنہ کا دورِ خلافت بارہ سال تھا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 105
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 78، حدیث 106
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: «كَانَتِ الشُّورَى فَاجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، لِثَلَاثٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، سَنَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ، ثُمَّ قُتِلَ عُثْمَانُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لِثَمَانِ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، تَمَامَ سَنَةِ خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ، وَسِنُّهُ ثَمَانٍ وَثَمَانُونَ سَنَةً، وَكَانَ يُصَفِّرُ لِحْيَتَهُ، وَكَانَتْ وِلَايَةُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، اثْنَتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً»
ترجمہ
یحییٰ بن بکیر کہتے ہیں: شوریٰ ہوئی تو لوگ عثمان رضی اللہ عنہ (کی خلافت) پر متفق ہو گئے، یہ 23 ہجری کے ذی الحجہ کی آخری تین تاریخوں میں سے ایک دن تھا۔ پھر عثمان رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن، ذی الحجہ کی اٹھارہ (18) تاریخ گزرنے پر، سنہ 35 ہجری کے اختتام پر شہید کر دیے گئے۔ ان کی عمر اٹھاسی (88) برس تھی، اور وہ اپنی داڑھی کو زرد رنگ کرتے تھے۔ عثمان رضی اللہ عنہ کا دورِ خلافت بارہ سال تھا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 106
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 78، حدیث 107
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو هِلَالٍ، ثنا قَتَادَةُ «أَنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قُتِلَ وَهُوَ ابْنُ تِسْعِينَ، أَوْ ثَمَانٍ وَثَمَانِينَ سَنَةً»
ترجمہ
قتادہ کہتے ہیں کہ عثمان رضی اللہ عنہ جب شہید ہوئے تو ان کی عمر نوے یا اٹھاسی برس تھی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 107
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 78، حدیث 108
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ الْمَاجِشُونُ، قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكًا، يَقُولُ: " قُتِلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَأَقَامَ مَطْرُوحًا عَلَى كُنَاسَةِ بَنِي فُلَانٍ ثَلَاثًا، فَأَتَاهُ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا، فِيهِمْ جَدِّي مَالِكُ بْنُ أَبِي عَامِرٍ، وَحُوَيْطِبُ بْنُ عَبْدِ الْعُزَّى، وَحَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَعَائِشَةُ بِنْتُ عُثْمَانَ مَعَهُمْ مِصْبَاحٌ فِي حِقٍّ فَحَمَلُوهُ عَلَى بَابٍ، وَإِنَّ رَأْسَهُ يَقُولُ عَلَى الْبَابِ طَقْ طَقْ حَتَّى أَتَوْا بِهِ الْبَقِيعَ، فَاخْتَلَفُوا فِي الصَّلَاةِ عَلَيْهِ، فَصَلَّى عَلَيْهِ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ أَوْ حُوَيْطِبُ بْنُ عَبْدِ الْعُزَّى - شَكَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ - ثُمَّ أَرَادُوا دَفْنَهُ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي مَازِنٍ فَقَالَ: وَاللهِ لَئِنْ دَفَنْتُمُوهُ مَعَ الْمُسْلِمِينَ، لَأُخْبِرَنَّ النَّاسَ، فَحَمَلُوهُ حَتَّى أَتَوْا بِهِ إِلَى حَشِّ كَوْكَبٍ، فَلَمَّا دَلُّوهُ فِي قَبْرِهِ صَاحَتْ عَائِشَةُ بِنْتُ عُثْمَانَ، فَقَالَ لَهَا ابْنُ الزُّبَيْرِ: اسْكُتِي فَوَاللهِ لَئِنْ عُدْتِ لَأَضْرِبَنَّ الَّذِي فِيهِ عَيْنَاكِ، فَلَمَّا دَفَنُوهُ وَسَوَّوْا عَلَيْهِ التُّرَابَ قَالَ لَهَا ابْنُ الزُّبَيْرِ: صِيحِي مَا بَدَا لَكِ أَنْ تَصِيحِي، قَالَ مَالِكٌ وَكَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَبْلَ ذَلِكَ يَمُرُّ بِحُشٍّ كَوْكَبٍ فَيَقُولُ: لَيُدْفَنَنَّ هَهُنَا رَجُلٌ صَالِحٌ " قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ: " الْحُشُّ: الْبُسْتَانُ "
ترجمہ
امام مالک کہتے ہیں: عثمان رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے تو ان کا جسد تین دن تک فلاں قبیلے کے کوڑا خانے پر پڑا رہا، پھر بارہ آدمی ان کے پاس آئے، جن میں میرے دادا مالک بن ابی عامر، حویطب بن عبدالعزیٰ، حکیم بن حزام، عبداللہ بن زبیر، اور عائشہ بنت عثمان بھی تھیں، جن کے ساتھ ایک ڈبیا میں چراغ تھا۔ انہوں نے ان کے جسد کو ایک دروازے پر اٹھایا، اور ان کے سر کی (ہڈیوں کی) آواز ”ٹک ٹک“ آ رہی تھی، یہاں تک کہ وہ انہیں بقیع لے آئے۔ پھر ان کی نماز جنازہ پڑھانے میں اختلاف ہوا، تو حکیم بن حزام یا حویطب بن عبدالعزیٰ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی - عبدالرحمن کو اس میں شک تھا - پھر انہوں نے انہیں دفن کرنے کا ارادہ کیا تو بنی مازن کے ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا: اللہ کی قسم! اگر تم نے انہیں مسلمانوں کے ساتھ دفن کیا تو میں لوگوں کو اس کی خبر کر دوں گا۔ چنانچہ وہ انہیں اٹھا کر حش کوکب لے گئے۔ جب انہوں نے انہیں قبر میں اتارا تو عائشہ بنت عثمان چیخ اٹھیں، تو ابن زبیر نے ان سے کہا: خاموش ہو جاؤ، اللہ کی قسم اگر تم دوبارہ ایسا کرو گی تو میں اس جگہ کو ماروں گا جہاں تمہاری آنکھیں ہیں۔ جب انہوں نے انہیں دفن کر کے مٹی برابر کر دی تو ابن زبیر نے ان سے کہا: اب جتنا چاہو چیخو۔
امام مالک کہتے ہیں: عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اس سے پہلے حش کوکب کے پاس سے گزرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے: یہاں ضرور ایک نیک آدمی دفن ہو گا۔
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”الحش“ سے مراد باغ ہے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 108
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 78، حدیث 109
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرَّحَبِيُّ، ثنا سَهْمُ بْنُ حُبَيْشٍ - وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ قَتْلَ عُثْمَانَ - قَالَ: " فَلَمَّا أَمْسَيْنَا قُلْتُ: لَئِنْ تَرَكْتُمْ صَاحِبَكُمْ حَتَّى يُصْبِحَ مَثَّلُوا بِهِ، فَانْطَلِقُوا بِهِ إِلَى بَقِيعِ الْغَرْقَدِ فَأَمْكَنَّا لَهُ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ، ثُمَّ حَمَلْنَاهُ وَغَشِيَنَا سَوَادٌ مِنْ خَلْفِنَا، فَهِبْنَاهُمْ حَتَّى كِدْنَا أَنَّ نَتَفَرَّقَ عَنْهُ، فَنَادَى مُنَادٍ: لَا رَوْعَ عَلَيْكُمْ، اثْبُتُوا، فَإِنَّا قَدْ جِئْنَا لِنَشْهَدَهُ مَعَكُمْ، وَكَانَ ابْنُ حُبَيْشٍ يَقُولُ: هُمْ وَاللهِ الْمَلَائِكَةُ "
ترجمہ
سہم بن حبیش - جو عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کے وقت موجود تھے - کہتے ہیں: جب ہم پر شام ہوئی تو میں نے کہا: اگر تم نے اپنے ساتھی (کی میت) کو صبح تک یونہی چھوڑا تو لوگ ان کا مثلہ کر دیں گے۔ چنانچہ وہ انہیں بقیع الغرقد لے گئے اور رات کے کسی حصے میں انہیں دفن کرنے کا موقع پایا۔ پھر ہم نے انہیں اٹھایا تو ہمارے پیچھے سے کچھ سیاہی (لوگوں کا ہجوم) نمودار ہوئی، ہم ان سے خوفزدہ ہو گئے یہاں تک کہ قریب تھا کہ ہم منتشر ہو جائیں، تو ایک پکارنے والے نے آواز دی: تمہیں کوئی خوف نہ ہو، ثابت قدم رہو، ہم تو تمہارے ساتھ اس تدفین میں شریک ہونے آئے ہیں۔ ابن حبیش کہا کرتے تھے: اللہ کی قسم! وہ فرشتے تھے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 109
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 79، حدیث 110
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمُنْعِمِ بْنُ بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ غُرَابٍ الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَعَنْ يَمِينِهِ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ، وَعَنْ يَسَارِهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، إِذْ جَاءَ غُرَابُ بْنُ فُلَانٍ الصَّيْدَنِيُّ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَا تَقُولُ فِي عُثْمَانَ؟ فَبَدَرَهُ الرَّجُلَانِ، فَقَالَا: عَمَّ تَسْأَلُ؟ عَنْ رَجُلٍ كَفَرَ بِاللهِ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِهِ وَنَافَقَ؟ فَقَالَ الرَّجُلُ لَهُمَا: لَسْتُ إِيَّاكُمَا أَسْأَلُ، وَلَا إِلَيْكُمَا جِئْتُ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: «لَسْتُ أَقُولُ مَا قَالَا» ، فَقَالَا لَهُ جَمِيعًا: فِلِمَ قَتَلْنَاهُ إِذًا؟ قَالَ: " وُلِّيَ عَلَيْكُمْ فَأَسَاءَ الْوَلَايَةَ فِي آخِرِ أَيَّامِهِ، وَجَزَعْتُمْ، فَأَسَأْتُمُ الْجَزَعَ، وَاللهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا وَعُثْمَانُ كَمَا قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ} [الحجر: ٤٧] "
ترجمہ
…تو ان دونوں نے کہا: تم کس کے بارے میں پوچھ رہے ہو؟ اس شخص کے بارے میں جس نے ایمان لانے کے بعد اللہ کا انکار کیا اور نفاق اختیار کیا؟ اس شخص نے ان دونوں سے کہا: میں تم سے نہیں پوچھ رہا، اور نہ ہی تمہارے پاس آیا ہوں۔ اس پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: ”میں وہ بات نہیں کہتا جو ان دونوں نے کہی۔“ تو دونوں نے مل کر ان سے کہا: پھر ہم نے انہیں کیوں قتل کیا؟ آپ نے فرمایا: ”انہیں تم پر حکمرانی دی گئی تو انہوں نے اپنے آخری ایام میں بدانتظامی کی، اور تم نے بےصبری دکھائی تو بری طرح بےصبری کی۔ اللہ کی قسم! مجھے امید ہے کہ میں اور عثمان اسی طرح ہوں گے جیسا اللہ عزوجل نے فرمایا ہے: ”اور ہم ان کے دلوں سے کینہ نکال دیں گے، وہ بھائی بھائی بن کر تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے“ [الحجر: 47]۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 110
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 79، حدیث 111
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ زَوْدِيٍّ، قَالَ: خَطَبَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ النَّاسَ فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ: إِنَّهُ وَاللهِ لَئِنْ لَمْ يَدْخُلِ النَّارَ إِلَّا مَنْ قَتَلَ عُثْمَانَ، لَا أَدْخَلُهَا، وَلَئِنْ لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ قَتَلَ عُثْمَانَ لَا أَدْخَلُهَا "، قَالَ: فَلَمَّا نَزَلَ قِيلَ لَهُ: تَكَلَّمْتَ بِكَلِمَةٍ فَرَّقْتَ عَلَيْكَ بِهَا أَصْحَابَكَ، فَخَطَبَهُمْ، فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَلَا إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَتَلَ عُثْمَانَ وَأَنَا مَعَهُ» . قَالَ حَمَّادٌ، وَحَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ " قَالَ: كَلِمَةٌ قُرَشِيَّةٌ لَهَا وَجْهَانِ " قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ: كَأَنَّهُ يَعْنِي «أَنَّ اللهَ تَعَالَى قَتَلَهُ وَأَنَا مَعَهُ مَقْتُولٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا»
ترجمہ
… تو میں اس میں داخل نہ ہوں گا، اور اگر عثمان کے قاتل کے سوا کوئی جنت میں داخل نہ ہو تو میں اس میں داخل نہ ہوں گا۔“ راوی کہتے ہیں: جب وہ منبر سے اترے تو ان سے کہا گیا: آپ نے ایک ایسی بات کہی جس سے آپ کے ساتھی آپ سے متفرق ہو گئے، تو انہوں نے دوبارہ خطبہ دیا اور فرمایا: ”لوگو! سن لو، اللہ عزوجل نے عثمان کو قتل کروایا اور میں بھی اسی (انجام) کے ساتھ ہوں۔“ حماد کہتے ہیں، اور ہمیں حبیب بن شہید نے محمد بن سیرین کے واسطے سے بتایا: یہ ایک قریشی جملہ ہے جس کے دو معنی ہیں۔
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: گویا ان کی مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں قتل کروایا اور میں بھی ان کے ساتھ مقتول ہونے والا ہوں، رضی اللہ عنہما۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 111
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 80، حدیث 112
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ زَوْدِيٍّ، قَالَ: خَطَبَهُمْ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَطَعُوا عَلَيْهِ خُطْبَتَهُ، فَقَالَ: " إِنَّمَا وَهَنْتُ يَوْمَ قُتِلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَضَرَبَ لَهُمْ مَثَلًا، مَثَلَ ثَلَاثَةِ أَثْوَارٍ وَأَسَدٍ اجْتَمَعْنَ فِي أَجَمَةٍ أَسْوَدَ وَأَحْمَرَ وَأَبْيَضَ، وَكَانَ الْأَسَدُ إِذَا أَرَادَ وَاحِدًا مِنْهُنَّ اجْتَمَعْنَ عَلَيْهِ فَامْتَنَعْنَ عَلَيْهِ، فَقَالَ الْأَسَدُ لِلْأَسْوَدِ وَالْأَحْمَرِ: إِنَّمَا يَفْضَحُنَا فِي أَجَمَتِنَا، وَيُشْهِرُنَا هَذَا الْأَبْيَضُ، فَدَعَانِي حَتَّى آكُلَهُ، فَلَوْنُكُمَا عَلَى لَوْنِي، وَلَوْنِي عَلَى لَوْنِكُمَا، فَحَمَلَ عَلَيْهِ الْأَسَدُ، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ قَتَلَهُ، ثُمَّ قَالَ لِلْأَسْوَدِ: إِنَّمَا يَفْضَحُنَا وَيُشْهِرُنَا فِي أَجَمَتِنَا هَذَا الْأَحْمَرُ، فَدَعْنِي حَتَّى آكُلَهُ، فَلَوْنِي عَلَى لَوْنِكَ، وَلَوْنُكَ عَلَى لَوْنِي، فَحَمَلَ عَلَيْهِ فَقَتَلَهُ، ثُمَّ قَالَ لِلْأَسْوَدِ: إِنِّي آكُلُكَ قَالَ: دَعْنِي أُصَوِّتُ ثَلَاثَةَ أَصْوَاتٍ، فَقَالَ: أَلَا إِنَّمَا أُكِلْتُ يَوْمَ أُكِلَ الْأَبْيَضُ، أَلَا إِنَّمَا أُكِلْتُ يَوْمَ أُكِلَ الْأَبْيَضُ، أَلَا إِنَّمَا أُكِلْتُ يَوْمَ أُكِلَ الْأَبْيَضُ، أَلَا إِنَّمَا وَهَنْتُ يَوْمَ قُتِلَ عُثْمَانُ "
ترجمہ
عمیر بن زودی کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انہیں خطبہ دیا تو انہوں نے آپ کا خطبہ کاٹ دیا، تو آپ نے فرمایا: ”میں تو اسی دن کمزور پڑ گیا تھا جس دن عثمان رضی اللہ عنہ شہید کیے گئے۔“ اور آپ نے ان کے لیے ایک مثال بیان کی: تین بیل اور ایک شیر کی مثال، جو ایک جنگل میں اکٹھے تھے: ایک کالا، ایک سرخ اور ایک سفید۔ شیر جب بھی ان میں سے کسی ایک کا ارادہ کرتا تو وہ سب مل کر اس کے خلاف جمع ہو جاتے اور اسے روک دیتے۔ تو شیر نے کالے اور سرخ سے کہا: یہ سفید (بیل) ہمیں اپنے جنگل میں رسوا اور مشہور کرتا ہے، اسے میرے حوالے کر دو تاکہ میں اسے کھا لوں، پھر تمہارا رنگ میرے رنگ جیسا ہو جائے گا اور میرا رنگ تمہارے رنگ جیسا۔ چنانچہ شیر نے اس پر حملہ کیا اور تھوڑی ہی دیر میں اسے قتل کر دیا۔ پھر اس نے کالے سے کہا: یہ سرخ (بیل) ہمیں جنگل میں رسوا اور مشہور کرتا ہے، مجھے اس کے حوالے کر دو تاکہ میں اسے کھا لوں، پھر میرا رنگ تمہارے رنگ جیسا ہو گا اور تمہارا رنگ میرے رنگ جیسا۔ چنانچہ اس نے اس پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیا۔ پھر اس نے کالے سے کہا: اب میں تجھے کھاؤں گا۔ اس نے کہا: مجھے تین بار آواز لگانے دے۔ تو اس نے کہا: خبردار! میں اسی دن کھایا جا چکا تھا جس دن سفید کھایا گیا تھا، خبردار! میں اسی دن کھایا جا چکا تھا جس دن سفید کھایا گیا تھا، خبردار! میں اسی دن کھایا جا چکا تھا جس دن سفید کھایا گیا تھا، خبردار! میں تو اسی دن کمزور پڑ گیا تھا جس دن عثمان قتل کیے گئے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 112
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 80، حدیث 113
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا مُجَالِدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: لَقِيَ مَسْرُوقٌ الْأَشْتَرَ، فَقَالَ مَسْرُوقٌ للأَشْتَرِ: «قَتَلْتُمْ عُثْمَانَ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «أَمَا وَاللهِ لَقَدْ قَتَلْتُمُوهُ صَوَّامًا قَوَّامًا» قَالَ: فَانْطَلَقَ الْأَشْتَرُ فَأَخْبَرَ عَمَّارًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَأَتَى عَمَّارٌ مَسْرُوقًا، فَقَالَ: وَاللهِ لَيُجْلَدَنَّ عَمَّارٌ، وَلَيُسَيِّرَنَّ أَبَا ذَرٍّ، وَلَيَحْمِيَنَّ الْحِمَى، وَتَقُولُ: قَتَلْتُمُوهُ صَوَّامًا قَوَّامًا، فَقَالَ لَهُ مَسْرُوقٌ: «فَوَاللهِ مَا فَعَلْتُمْ وَاحِدًا مِنْ ثِنْتَيْنِ، مَا عَاقَبْتُمْ بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ، وَمَا صَبَرْتُمْ فَهُوَ خَيْرٌ لِلصَّابِرِينَ» قَالَ: فَكَأَنَّمَا ألْقَمَهُ حَجَرًا قَالَ: وَقَالَ الشَّعْبِيُّ: «وَمَا وَلَدَتْ هَمْدَانِيَّةٌ مِثْلَ مَسْرُوقٍ»
ترجمہ
شعبی کہتے ہیں: مسروق نے اشتر سے ملاقات کی تو مسروق نے اشتر سے کہا: ”کیا تم نے عثمان کو قتل کیا؟“ اس نے کہا: ہاں۔ مسروق نے کہا: ”سن لو، اللہ کی قسم! تم نے انہیں اس حال میں قتل کیا کہ وہ بہت روزہ رکھنے والے اور بہت نماز پڑھنے والے تھے۔“ راوی کہتے ہیں: اشتر گیا اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو خبر دی، تو عمار مسروق کے پاس آئے اور کہا: اللہ کی قسم! عمار کو کوڑے لگائے جائیں گے، ابوذر کو جلاوطن کیا جائے گا، حمیٰ (چراگاہ) کی حفاظت کی جائے گی، اور تم کہتے ہو کہ ہم نے انہیں بہت روزہ اور نماز پڑھنے کی حالت میں قتل کیا! تو مسروق نے ان سے کہا: ”اللہ کی قسم! تم نے دونوں میں سے کوئی کام نہیں کیا: نہ تم نے اس جیسی سزا دی جیسی سزا تمہیں دی گئی تھی، اور جو تم نے صبر کیا وہ صبر کرنے والوں کے لیے بہتر ہے۔“ راوی کہتے ہیں: گویا اس نے اشتر کے منہ میں پتھر ٹھونس دیا۔ شعبی نے مزید کہا: ”ہمدان (قبیلے) نے مسروق جیسا کوئی نہیں جنا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 113
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 81، حدیث 114
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حُمَيْدٍ الطَّوِيلُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ قَالَ: " اجْتَمَعْنَا فِي دَارِ مَخْرَمَةَ بَعْدَمَا قُتِلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نُرِيدُ الْبَيْعَةَ، فَقَالَ أَبُو جَهْمِ بْنُ حُذَيْفَةَ: إِنَّا مَنْ بَايَعَنَا مِنْكُمْ فَإِنَّا لَا نَحُولُ دُونَ قِصَاصٍ، فَقَالَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ: أَمَّا مِنْ دَمِ عُثْمَانَ فَلَا، فَقَالَ أَبُو جَهْمٍ: يَا ابْنَ سُمَيَّةَ وَاللهِ لَتُقَادَنَّهُ مِنْ جَلَدَاتٍ جُلِدْتَهَا، وَلَا يُقَادُ لِدَمِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَانْصَرَفُوا يَوْمَئِذٍ عَنْ غَيْرِ بَيْعَةٍ "
ترجمہ
علقمہ بن وقاص کہتے ہیں: ہم عثمان رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے کے بعد مخرمہ کے گھر میں بیعت کے ارادے سے جمع ہوئے، تو سیدنا ابوجہم بن حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم میں سے جو بھی تم سے بیعت کرے گا، ہم قصاص کی راہ میں حائل نہیں ہوں گے۔ اس پر سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے کہا: عثمان کے خون کے معاملے میں ہرگز نہیں۔ ابوجہم نے کہا: اے ابن سمیہ! اللہ کی قسم! جو کوڑے تجھے لگائے گئے تھے ان کا بدلہ تجھ سے لیا جائے گا، لیکن عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کا بدلہ نہیں لیا جائے گا۔ چنانچہ وہ اس دن بغیر بیعت کیے واپس چلے گئے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 114
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 81، حدیث 115
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي وَثَّابٌ، وَكَانَ مِمَّنْ أَدْرَكَهُ عِتْقُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَكَانَ يَقُومُ بَيْنَ يَدَيْ عُثْمَانَ، قَالَ: بَعَثَنِي عُثْمَانُ فَدَعَوْتُ لَهُ الْأَشْتَرَ - فَقَالَ ابْنُ عَوْنٍ: فَأَظُنُّهُ قَالَ: فَطَرَحْتُ لِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ وِسَادَةً، وَلَهُ وِسَادَةٌ - فَقَالَ: «يَا أَشْتَرُ مَا يُرِيدُ النَّاسُ مِنِّي؟» قَالَ: ثَلَاثًا مَا مِنْ إِحْدَاهُنِّ بُدٌّ، قَالَ: «مَا هُنَّ؟» قَالَ: يُخَيِّرُونَكَ بَيْنَ أَنْ تَخْلَعَ لَهُمْ أَمْرَهُمْ، فَتَقُولَ: هَذَا أَمْرُكُمْ، فَاخْتَارُوا لَهُ مَنْ شِئْتُمْ، وَبَيْنَ أَنْ تَقُصَّ مِنْ نَفْسِكَ، فَإِنْ أَبَيْتَ هَذَيْنِ فَإِنَّ الْقَوْمَ قَاتِلُوكَ، قَالَ: «مَا مِنْ إِحْدَاهُنَّ بُدٌّ؟» قَالَ: مَا مِنْ إِحْدَاهُنَّ بُدٌّ قَالَ: «أَمَّا أَنْ أَخْلَعَ لَهُمْ أَمْرَهُمْ فَمَا كُنْتُ لِأَخْلَعَ سِرْبَالًا سُرْبِلْتُهُ» قَالَ: وَقَالَ الْحَسَنُ: قَالَ: " وَاللهِ لَأَنْ أُقَدَّمَ فَيُضْرَبَ عُنُقِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَخْلَعَ أَمْرَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضُهَا عَلَى بَعْضٍ - قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: وَهَذَا أَشْبَهُ بِكَلَامِ عُثْمَانَ - وَأَمَّا أَنْ أَقُصَّ مِنْ نَفْسِي، فَوَاللهِ لَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّ صَاحِبَيْ بَيْنَ يَدَيْ كَانَا يُعَاقَبَانِ، وَمَا يَقُومُ بَدَنِي للقِصَاصِ، وَأَمَّا أَنْ تَقْتُلُونِي فَوَاللهِ لَئِنْ قَتَلْتُمُونِي لَا تُحَابُّونَ بَعْدِي أَبَدًا، وَلَا تُقَاتِلُونَ بَعْدِي عَدُوًّا جَمِيعًا أَبَدًا "، فَقَامَ الْأَشْتَرُ فَانْطَلَقَ، فَمَكَثْنَا، فَقُلْنَا: لَعَلَّ النَّاسَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ كَأَنَّهُ ذِئْبٌ فَاطَّلَعَ مِنْ بَابٍ، ثُمَّ رَجَعَ، ثُمَّ جَاءَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ فِي ثَلَاثَةَ عَشَرَ رَجُلًا حَتَّى انْتَهَوْا إِلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَأَخَذَ بِلِحْيَتِهِ، فَقَالَ بِهَا، وَقَالَ بِهَا، حَتَّى سَمِعْتُ وَقْعَ أَضْرَاسِهِ، وَقَالَ مَا أَغْنَى عَنْكَ مُعَاوِيَةُ، مَا أَغْنَى عَنْكَ ابْنُ عَامِرٍ، مَا أَغْنَى عَنْكَ كُتُبُكَ، قَالَ: «أَرْسِلْ لِحْيَتِي يَا ابْنَ أَخِي، أَرْسِلْ لِحْيَتِي يَا ابْنَ أَخِي» ، قَالَ: فَأَنَا رَأَيْتُهُ اسْتَدْعَى رَجُلًا مِنَ الْقَوْمِ بِعَيْنِهِ فَقَامَ إِلَيْهِ بِمِشْقَصٍ حَتَّى وَجَأَهُ بِهِ فِي رَأْسَهِ، قُلْتُ: ثُمَّ مَهْ قَالَ: ثُمَّ تَعَانُوا عَلَيْهِ، وَاللهِ حَتَّى قَتَلُوهُ "
ترجمہ
… وہ عثمان کے سامنے کھڑے ہوا کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں: عثمان نے مجھے بھیجا تو میں نے ان کے لیے اشتر کو بلایا - ابن عون نے کہا: میرا خیال ہے راوی نے یہ بھی کہا: میں نے امیر المومنین کے لیے ایک تکیہ رکھا، اور ان (اشتر) کے لیے بھی ایک تکیہ تھا - تو عثمان نے فرمایا: ”اے اشتر! لوگ مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟“ اس نے کہا: تین باتیں، ان میں سے کسی ایک کے بغیر چارہ نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”وہ کیا ہیں؟“ اس نے کہا: وہ آپ کو اختیار دیتے ہیں کہ یا تو آپ اپنا معاملہ (خلافت) ان کے سپرد کر دیں اور کہیں: یہ تمہارا معاملہ ہے، جسے چاہو منتخب کر لو، یا آپ اپنے آپ سے قصاص لینے دیں، اور اگر آپ ان دونوں سے انکار کریں تو یہ لوگ آپ کو قتل کر دیں گے۔ آپ نے فرمایا: ”کیا ان میں سے کسی ایک کے بغیر چارہ نہیں؟“ اس نے کہا: ان میں سے کسی ایک کے بغیر چارہ نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”جہاں تک میرا اپنا معاملہ ان کے سپرد کرنے کی بات ہے، تو میں ایسا اتارنے والا نہیں جو ایک قمیص میں نے پہن رکھی ہے۔“ راوی کہتے ہیں: اور حسن (بصری) نے کہا: آپ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! مجھے آگے کر کے میری گردن اڑا دی جائے، یہ مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں محمد ﷺ کی امت کا معاملہ ان کے آپس میں تقسیم کر دوں“ - ابن عون کہتے ہیں: یہ عثمان کے کلام سے زیادہ مشابہ ہے - ”اور جہاں تک اپنے آپ سے قصاص دلوانے کی بات ہے، تو اللہ کی قسم! مجھے معلوم ہے کہ میرے دونوں پیشرو (ابوبکر و عمر) سے کچھ لوگوں کو سزا دلوائی گئی تھی، اور میرا بدن قصاص کی تاب نہیں لا سکتا۔ اور جہاں تک تمہارے مجھے قتل کرنے کی بات ہے، تو اللہ کی قسم! اگر تم نے مجھے قتل کر دیا تو تم میرے بعد کبھی آپس میں محبت نہ کر سکو گے، اور نہ کبھی میرے بعد مل کر کسی دشمن سے جنگ کر سکو گے۔“ راوی کہتے ہیں: اشتر کھڑا ہو کر چلا گیا، تو ہم رک گئے، ہم نے کہا: شاید لوگ (رک جائیں)، اتنے میں ایک آدمی آیا گویا وہ بھیڑیا ہو، اس نے دروازے سے جھانکا، پھر واپس چلا گیا، پھر محمد بن ابی بکر تیرہ آدمیوں کے ساتھ آئے یہاں تک کہ وہ عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے، تو اس نے ان کی داڑھی پکڑ لی اور اسے کھینچا، یہاں تک کہ میں نے ان کے دانتوں کی چرچراہٹ سنی، اور کہا: تجھے معاویہ نے کیا فائدہ دیا؟ تجھے ابن عامر نے کیا فائدہ دیا؟ تیرے خطوط نے تجھے کیا فائدہ دیا؟ آپ نے فرمایا: ”اے میرے بھتیجے! میری داڑھی چھوڑ دو، اے میرے بھتیجے! میری داڑھی چھوڑ دو۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ اس نے قوم میں سے ایک خاص آدمی کو بلایا، وہ ایک تیز دھار آلے کے ساتھ ان کی طرف بڑھا یہاں تک کہ اس نے وہ آلہ ان کے سر میں گھونپ دیا۔ میں نے پوچھا: پھر کیا ہوا؟ راوی نے کہا: پھر سب مل کر ان پر ٹوٹ پڑے، اللہ کی قسم، یہاں تک کہ انہیں قتل کر دیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 115
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 82، حدیث 116
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ، ثنا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي حُذَيْفَةَ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَكَعْبًا، رَكِبَا سَفِينَةً فِي الْبَحْرِ، فَقَالَ مُحَمَّدٌ: يَا كَعْبُ أَمَا تَجِدُ سَفِينَتَنَا هَذِهِ فِي التَّوْرَاةِ كَيْفَ تَجْرِي؟ فَقَالَ: «لَا وَلَكِنْ أَجِدُ فِيهَا رَجُلًا أَشْقَى الْفِتْيَةَ مِنْ قُرَيْشٍ يَنْزُو فِي الْفِتْنَةِ كَمَا يَنْزُو الْحِمَارُ، لَا تَكُنْ أَنْتَ هُوَ» قَالَ ابْنُ سِيرِينَ: فَزَعَمُوا أَنَّهُ كَانَ هُوَ
ترجمہ
…کہ محمد بن ابی حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ اور کعب (الاحبار) ایک کشتی میں سوار ہوئے، تو محمد نے کہا: اے کعب! کیا تم تورات میں پاتے ہو کہ ہماری یہ کشتی کیسے چلے گی؟ کعب نے کہا: ”نہیں، لیکن میں اس میں یہ پاتا ہوں کہ قریش کے نوجوانوں میں سب سے بدبخت ایک آدمی فتنے میں اس طرح کودے گا جیسے گدھا کودتا ہے، دیکھو تم وہ نہ ہونا۔“ ابن سیرین کہتے ہیں: لوگوں نے سمجھا کہ وہی (محمد) وہ شخص تھا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 116
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 83، حدیث 117
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَدَقَةَ الْبَغْدَادِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ دَاوُدَ الصَّوَّافُ التُّسْتَرِيُّ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خِدَاشٍ، ثنا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا مُبَارَكٌ، عَنِ الْحَسَنِ، حَدَّثَنِي سَيَّافُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ دَخَلَ عَلَى عُثْمَانَ فَقَالَ: ارْجِعِ ابْنَ أَخِي فَلَسْتَ بِقَاتِلِي، قَالَ: وَكَيْفَ عَلِمْتَ ذَاكَ؟ قَالَ: لِأَنَّهُ «أُتِيَ بِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ سَابِعِكَ فَحَنَّكَكَ، وَدَعَا لكَ بِالْبَرَكَةِ» ، ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ آخَرُ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: ارْجِعِ ابْنَ أَخِي فَلَسْتَ بِقَاتِلِي، قَالَ: بِمَ تَدْرِي ذَلِكَ؟ قَالَ: لِأَنَّهُ «أُتِيَ بِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ سَابِعِكَ فَحَنَّكَكَ وَدَعَا لكَ بِالْبَرَكَةِ» قَالَ: ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ: أَنْتَ قَاتِلِي، قَالَ: وَمَا يُدْرِيكَ يَا نَعْثَلُ؟ قَالَ: لِأَنَّهُ «أُتِيَ بِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ سَابِعِكَ لَيُحَنِّكَكَ وَيَدْعُو لَكَ بِالْبَرَكَةِ فَخَرَيْتَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» قَالَ: فَوَثَبَ عَلَى صَدْرِهِ وَقَبَضَ عَلَى لِحْيَتِهِ، فَقَالَ: إِنْ تَفْعَلْ كَانَ يَعِزُّ عَلَى أَبِيكَ أَنْ تَسُوءَهُ، قَالَ: فَوَجَأَهُ فِي نَحْرِهِ بِمَشَاقِصَ كَانَتْ فِي يَدِهِ
ترجمہ
…مبارک نے حسن (بصری) کے واسطے سے بیان کیا، مجھے عثمان رضی اللہ عنہ کے تلوار بردار (محافظ) نے بتایا کہ انصار میں سے ایک آدمی عثمان کے پاس آیا اور کہا: اے بھتیجے! واپس چلے جاؤ، تم میرے قاتل نہیں ہو۔ آپ نے فرمایا: تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا؟ اس نے کہا: کیونکہ تمہارے ساتویں دن تمہیں نبی کریم ﷺ کے پاس لایا گیا تھا، تو آپ نے تمہیں گھٹی دی اور تمہارے لیے برکت کی دعا فرمائی۔ پھر انصار میں سے ایک اور آدمی ان کے پاس آیا اور کہا: اے بھتیجے! واپس چلے جاؤ، تم میرے قاتل نہیں ہو۔ آپ نے فرمایا: تمہیں یہ کیسے معلوم ہے؟ اس نے کہا: کیونکہ تمہارے ساتویں دن تمہیں نبی کریم ﷺ کے پاس لایا گیا تھا، تو آپ نے تمہیں گھٹی دی اور تمہارے لیے برکت کی دعا فرمائی۔ پھر ان کے پاس محمد بن ابی بکر آئے اور کہا: تم میرے قاتل ہو۔ آپ نے فرمایا: اے نعثل! تمہیں یہ کیسے معلوم ہے؟ اس نے کہا: کیونکہ تمہارے ساتویں دن تمہیں نبی کریم ﷺ کے پاس لایا گیا تھا تاکہ آپ تمہیں گھٹی دیں اور تمہارے لیے برکت کی دعا کریں، مگر تم نے رسول اللہ ﷺ پر بے ادبی کی حد تک گندگی کر دی۔ راوی کہتے ہیں: پھر وہ ان کے سینے پر چڑھ گیا اور ان کی داڑھی پکڑ لی، تو آپ نے فرمایا: اگر تم ایسا کرو گے تو تمہارے والد کو یہ بات ناگوار گزرے گی کہ تم انہیں ناراض کرو۔ راوی کہتے ہیں: تو اس نے اپنے ہاتھ میں موجود نوکیلے آلے سے ان کے حلق میں وار کر دیا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 117
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 83، حدیث 118
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْبَاقِي الْأَذَنِيُّ، ثنا الْمُسَيَّبُ بْنُ وَاضِحٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: " لَمَّا ضَرَبَ الرَّجُلُ يَدَ عُثْمَانَ قَالَ: إِنَّهَا لَأَوَّلُ يَدٍ خَطَّتِ الْمُفَصَّلَ "
ترجمہ
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں: جب اس آدمی نے عثمان کے ہاتھ پر وار کیا تو انہوں نے فرمایا: یہ پہلا ہاتھ ہے جس نے مفصل (قرآن کا آخری حصہ) لکھا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 118
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 84، حدیث 119
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ثنا أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَالِمٍ، أَنَّ عُمَيْرَ بْنَ رَبِيعَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَرْسَلَ إِلَى كَعْبِ الْأَحْبَارِ فَقَالَ: يَا كَعْبُ كَيْفَ تَجِدُ نَعْتِي؟ قَالَ: «أَجِدُ نَعْتَكَ قَرْنًا مِنْ حَدِيدٍ» قَالَ: وَمَا قَرْنٌ مِنْ حَدِيدٍ؟ قَالَ: «أَمِيرٌ سَدِيدٌ لَا يَأْخُذُهُ فِي اللهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ» ، قَالَ: ثُمَّ مَهْ؟ قَالَ: «ثُمَّ يَكُونُ بَعْدَكَ خَلِيفَةٌ تَقْتُلُهُ فِئَةٌ ظَالِمَةٌ» قَالَ: ثُمَّ مَهْ؟ قَالَ: «ثُمَّ يَكُونُ الْبَلَاءُ»
ترجمہ
عمیر بن ربیعہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کعب الاحبار کو بلوایا اور فرمایا: اے کعب! تم میری (کتابوں میں) کیا صفت پاتے ہو؟ اس نے کہا: میں آپ کی صفت لوہے کا سینگ پاتا ہوں۔ آپ نے پوچھا: لوہے کا سینگ کیا ہوتا ہے؟ اس نے کہا: ایک درست فیصلہ کرنے والا امیر، جسے اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہیں ہوتی۔ آپ نے پوچھا: پھر کیا ہو گا؟ اس نے کہا: پھر آپ کے بعد ایک خلیفہ ہو گا جسے ایک ظالم گروہ قتل کر دے گا۔ آپ نے پوچھا: پھر کیا ہو گا؟ اس نے کہا: پھر فتنہ (و آزمائش) ہو گی۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 119
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 84، حدیث 120
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ، يَقُولُ: «وَاللهِ لَوِ انْقَضَّ أَحَدٌ فِيمَا فَعَلْتُمْ بِابْنِ عَفَّانَ لَكَانَ مَحْقُوقًا أَنْ يَنْقَضَّ»
ترجمہ
قیس کہتے ہیں: میں نے سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: ”اللہ کی قسم! اگر تم نے ابن عفان کے ساتھ جو کچھ کیا اس پر پہاڑ (احد) ٹوٹ کر گر پڑتا تو یہ اس کا حق تھا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 120
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 84، حدیث 121
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، وَالْحَسَنُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالُوا: ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا الصَّعْقُ بْنُ حَزْنٍ، ثنا قَتَادَةُ، عَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيُّ، قَالَ: خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ: «لَوْ أَنَّ النَّاسَ لَمْ يَطْلُبُوا بِدَمِ عُثْمَانَ لَرُجِمُوا بِالْحِجَارَةِ مِنَ السَّمَاءِ»
ترجمہ
زہدم الجرمی کہتے ہیں: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: ”اگر لوگ عثمان کے خون کا مطالبہ نہ کرتے تو آسمان سے ان پر پتھر برسائے جاتے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 121
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 84، حدیث 122
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، ثنا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يَقُولُ: «أُخِذَ الْفَاسِقُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ فِي شِعْبٍ مِنْ شِعَابِ مِصْرَ فَأُدْخِلَ فِي جَوْفِ حِمَارٍ فَأُحْرِقَ»
ترجمہ
قرہ بن خالد کہتے ہیں: میں نے حسن (بصری) کو یہ کہتے سنا: ”فاسق محمد بن ابی بکر کو مصر کی ایک گھاٹی میں پکڑا گیا، پھر اسے ایک گدھے کے پیٹ میں ڈال کر جلا دیا گیا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 122
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 84، حدیث 123
حَدَّثَنَا الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَبُو الْأَسْوَدِ النَّضْرُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْمَعَافِرِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ثَوْرٍ الْفَهْمِيَّ يُحَدِّثُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: «لَقَدِ اخْتَبَأْتُ عِنْدَ رَبِّي عَشْرًا، إِنِّي لَرَابِعُ أَرْبَعَةٍ فِي الْإِسْلَامِ، وَمَا تَعَنَّيْتُ، وَلَا تَمَنَّيْتُ، وَلَا وَضَعْتُ يَمِينِي عَلَى فَرْجِي، مُنْذُ بَايَعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا مَرَّتْ عَلَيَّ جُمُعَةٌ مُنْذُ أَسْلَمْتُ إِلَّا وَأَنَا أَعْتِقُ فِيهَا رَقَبَةً، إِلَّا أَنْ لَا يَكُونَ عِنْدِي فَأَعْتِقَهَا بَعْدَ ذَلِكَ، وَلَا زَنَيْتُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ»
ترجمہ
…یزید بن عمرو المعافری کہتے ہیں: میں نے ابوثور الفہمی کو یہ بیان کرتے سنا کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب کے پاس دس چیزیں چھپا رکھی ہیں: میں اسلام میں چار میں سے چوتھا شخص ہوں، اور میں نے کبھی تکلف سے کوئی کام نہیں کیا، نہ کوئی ناجائز تمنا کی، اور جب سے میں نے رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی ہے میں نے کبھی اپنا دایاں ہاتھ اپنی شرمگاہ پر نہیں رکھا۔ اور جب سے میں مسلمان ہوا ہوں مجھ پر کوئی جمعہ ایسا نہیں گزرا جس میں، میں نے ایک غلام آزاد نہ کیا ہو، سوائے اس کے کہ میرے پاس غلام نہ ہو تو پھر بعد میں آزاد کروں۔ اور میں نے نہ زمانہ جاہلیت میں زنا کیا اور نہ اسلام میں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 123
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 85، حدیث 124
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، ثنا كُلَيْبُ بْنُ وَائِلٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ يُكَنَّى أَبَا ثَوْرٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ عُثْمَانَ؟ هَلْ شَهِدَ بَدْرًا؟ فَقَالَ: لَا، أَمَّا يَوْمَ بَدْرٍ، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اللهُمَّ إِنَّ عُثْمَانَ فِي حَاجَتِكَ وَحَاجَةِ رَسُولِكَ» فَضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمِهِ
ترجمہ
… راوی کہتے ہیں: میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا اور پوچھا: بتائیے، کیا عثمان بدر میں شریک ہوئے تھے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، البتہ بدر کے دن رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ”اے اللہ! عثمان تیرے اور تیرے رسول کے کام میں مصروف ہیں۔“ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے بھی مال غنیمت کا حصہ مقرر فرمایا۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 124
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 85، حدیث 125
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ: " تَخَلَّفَ فِي الْمَدِينَةِ عَلَى امْرَأَتِهِ بِنْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَتْ وَجِعَةً مَعَرَّةً، فَضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمِهِ، قَالَ: وَأَجْرِي يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «وَأَجْرُكَ»
ترجمہ
…وہ اپنی اہلیہ، رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی، کی تیمارداری کے لیے مدینہ میں رہ گئے تھے، اور وہ سخت بیمار تھیں، تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے بھی حصہ مقرر فرمایا۔ انہوں نے عرض کیا: اور کیا مجھے اجر بھی ملے گا، یا رسول اللہ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور اجر بھی۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 125
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 85، حدیث 126
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ هَارُونَ الْمَكِّيُّ الْقَزَّازُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ أَبِي شَمْلَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيِّ، عَنْ أَخِيهِ مُحَمَّدِ بْنِ يَعْقُوبَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَتْ: خَرَجَتِ الصَّعْبَةُ بِنْتُ الْحَضْرَمِيِّ، فَسَمِعْنَاهَا تَقُولُ لِابْنِهَا طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ: إِنَّ عُثْمَانَ قَدِ اشْتَدَّ حَصْرُهُ، فَلَوْ كَلَّمْتَ فِيهِ حَتَّى يُرَفَّهُ عَنْهُ، قَالَتْ: وَطَلْحَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَغْسِلُ أَحَدَ شِقَّيْ رَأْسَهِ فَلَمْ يُجِبْهَا، فَأَدْخَلَتْ يَدَيْهَا فِي كُمِّ ذَرْعِهَا فَأَخْرَجَتْ ثَدْيَيْهَا، وَقَالَتْ: أَسْأَلُكَ بِمَا حَمَلْتُكَ وَأرْضَعْتُكَ إِلَّا فَعَلْتَ، فَقَامَ وَلَوَى شِقَّ شَعْرِ رَأْسِهِ حَتَّى عَقَدَهُ وَهُوَ مَغْسُولٌ، ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى أَتَى عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ جَالِسٌ فِي جَنْبِ دَارِهِ، فَقَالَ طَلْحَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَمَعَهُ أُمُّهُ، وَأُمُّ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَافِعٍ: لَوْ رَفَّهْتَ عَنْ هَذَا فَقَدِ اشْتَدَّ حَصْرُهُ، قَالَ: فَنَقَرَ بِقَدَحٍ فِي يَدِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: «وَاللهِ مَا أُحِبُّ مِنْ هَذَا شَيْئًا تَكْرَهُهُ» قَالَ: وَأَنْشَدَنَا أَبُو خَلِيفَةَ قَالَ: أنْشَدَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَرَجِ الرِّيَاشِيُّ لِلَيْلَى الْأَخْيَلِيَّةِ:
[البحر البسيط]
أَبْعَدَ عُثْمَانَ تَرْجُو الْخَيْرَ أُمَّتُهُ ... قَدْ كَانَ أَفْضَلَ مَنْ يَمْشِي عَلَى سَاقِ
خَلِيفَةُ اللهِ أَعْطَاهُمْ وَخَوَّلَهُمْ ... مَا كَانَ مِنْ ذَهَبٍ حُلْوٍ وَأَوْرَاقِ
فَلَا تَكْذِبْ بَوْعِدِ اللهِ وَاتَّقِهِ ... وَلَا تَكُونَنَّ عَلَى شَيْءٍ بِإِشْفَاقِ
وَلَا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ سَوْفَ أَفْعَلُهُ ... قَدْ قَدَّرَ اللهُ مَا كُلُّ امْرِئٍ لَاقِ
ترجمہ
…تو سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے، جن کے ساتھ ان کی والدہ اور عبداللہ بن رافع کی والدہ بھی تھیں، کہا: کاش تم اس (عثمان) پر نرمی کرتے، ان کا محاصرہ سخت ہو چکا ہے۔ راوی کہتے ہیں: تو انہوں نے اپنے ہاتھ میں پیالے کو تین بار کھٹکھٹایا، پھر سر اٹھا کر فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں اس (عثمان) کے لیے کوئی ایسی چیز پسند نہیں کرتا جسے وہ ناپسند کریں۔“ راوی کہتے ہیں: اور ابوخلیفہ نے ہمیں سنایا، انہوں نے کہا: عباس بن فرج الریاشی نے ہمیں لیلیٰ الاخیلیہ کا یہ شعر سنایا:
”کیا عثمان کے بعد ان کی امت خیر کی امید رکھتی ہے؟ حالانکہ وہ زمین پر چلنے والوں میں سب سے افضل تھے۔
اللہ کے خلیفہ تھے، جنہوں نے انہیں سونا اور نرم و نازک چیزیں عطا کیں اور دیں۔
سو تم اللہ کے وعدے کو جھٹلاؤ نہیں اور اس سے ڈرو، اور کسی چیز کے بارے میں کنجوسی نہ کرو۔
اور کسی چیز کے بارے میں یہ نہ کہو کہ میں اسے آئندہ کروں گا، اللہ نے مقرر کر دیا ہے کہ ہر شخص کو اپنے مقدر سے ملنا ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 126
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 85، حدیث 127
أَنْشَدَنَا أَبُو خَلِيفَةَ قَالَ: أنْشَدَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ التُّوزِيُّ، قَالَ أَبُو خَلِيفَةَ: وَسَأَلْتُ عَنْهُ الرِّيَاشِيَّ فَقَالَ: هُوَ لِحَسَّانِ بْنِ ثَابِتٍ: «
[البحر الكامل]
وَتَرَكْتُمُ غَزْوَ الدُّرُوبِ وَجِئْتُمُ ... لِقِتَالِ قَوْمٍ عِنْدَ قَبْرِ مُحَمَّدِ
فَلَيْسَ هَدْيُ الصَّالِحِينَ هُدِيتُمُ ... وَلَيْسَ فِعْلَ الْعَابِدِ الْمُتَهَجِّدِ»
ترجمہ
ابوخلیفہ نے ہمیں سنایا، کہا: ابومحمد التوزی نے ہمیں سنایا - ابوخلیفہ کہتے ہیں: اور میں نے اس بارے میں ریاشی سے پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا شعر ہے:
”تم نے سرحدوں پر جہاد چھوڑ دیا اور محمد ﷺ کی قبر کے پاس ایک قوم سے لڑنے آ گئے۔
یہ نیک لوگوں کا طریقہ نہیں جس پر تمہیں ہدایت دی گئی، اور نہ یہ عبادت گزار، تہجد گزار کا عمل ہے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 127
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 86، حدیث 128
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو هِلَالٍ الرَّاسِبِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، كَانَ إِذَا جَاءَهُ مَنْ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ، قَالَ: «مَرْحَبًا بِالْقَائِلِينَ عَدْلًا، وَبِالصَّلَاةِ مَرْحَبًا وَأَهْلًا»
ترجمہ
قتادہ سے مروی ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس جب کوئی نماز کی اذان دینے والا آتا تو آپ فرماتے: ”عدل کی بات کہنے والوں کو خوش آمدید، اور نماز کو خوش آمدید اور مرحبا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 128
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 87، حدیث 129
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: قَالَت امْرَأَةُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ أَطَافُوا بِهِ يُرِيدُونَ قَتْلَهُ: «إِنْ تَقْتُلُوهُ أَوْ تَتْرُكُوهُ فَإِنَّهُ كَانَ يُحْيِي اللَّيْلَ كُلَّهُ فِي رَكْعَةٍ يَجْمَعُ فِيهَا الْقُرْآنَ»
ترجمہ
محمد بن سیرین کہتے ہیں: جب لوگوں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو گھیر لیا اور انہیں قتل کرنے کا ارادہ کیا تو ان کی اہلیہ نے کہا: ”تم چاہے انہیں قتل کر دو یا چھوڑ دو، وہ تو ساری رات ایک ہی رکعت میں قیام کرتے ہوئے پورا قرآن جمع کر لیا کرتے تھے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 129
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 87، حدیث 130
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْمُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يَقُولُ: أَدْرَكْتُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ رَاهَقْتُ الْحُلُمَ، فَسَمِعْتُهُ يَخْطُبُ، وَشَهِدْتُهُ يَقُولُ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، مَا تَنْقِمُونَ عَلَيَّ؟» قَالَ: وَمَا مِنْ يَوْمٍ إِلَّا وَهُمْ يَقْتَسِمُونَ فِيهِ خَيْرًا، يَقُولُ: «يَا مَعْشَرَ النَّاسِ، اغْدُوا عَلَى عَطِيَّاتِكُمْ» فَيَغْدُونَ فَيَأْخُذُونَهَا وَافِرَةً، ثُمَّ يُقَالُ: «يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ اغْدُوا عَلَى كِسْوَتِكُمْ» ، فَيُجَاءُ بِالْحُلَلِ فَتُقْسَمُ بَيْنَهُمْ قَالَ الْحَسَنُ: «وَالْعَدُوُّ مَنْفِيُّ، وَالْعَطِيَّاتُ دَارَّةٌ، وَذَاتُ الْبَيْنِ حَسَنٌ، وَالْخَيْرُ كَثِيرٌ، مَا عَلَى الْأَرْضِ مُؤْمِنٌ يَخَافُ مُؤْمِنًا، مَنْ لَقِيَ مِنْ أَيِّ الْأَحْيَاءِ كَانَ فَهُوَ أَخُوهُ وَمَوَدَّتُهُ وَنُصْرَتُهُ، وَالْفِتْنَةُ أَنْ يَسُلَّ عَلَيْهِ سَيْفًا»
ترجمہ
مبارک بن فضالہ کہتے ہیں: میں نے حسن (بصری) کو یہ کہتے سنا: میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کا زمانہ پایا، اور اس وقت میں بلوغت کے قریب تھا، تو میں نے انہیں خطبہ دیتے سنا، اور انہیں یہ فرماتے دیکھا: ”اے لوگو! تم مجھ پر کس بات کا عیب لگاتے ہو؟“ راوی کہتے ہیں: اور کوئی دن ایسا نہ ہوتا جس میں لوگ خیر (مال غنیمت) تقسیم نہ کرتے ہوں، آپ فرماتے: ”اے لوگو! اپنے عطیات کے لیے صبح آؤ“ تو وہ صبح آتے اور بھرپور عطیات لے جاتے۔ پھر کہا جاتا: ”اے مسلمانو! اپنے کپڑوں کے لیے صبح آؤ“ تو جوڑے لائے جاتے اور ان میں تقسیم کر دیے جاتے۔ حسن کہتے ہیں: ”اور دشمن دور تھا، عطیات جاری تھے، آپس کے تعلقات اچھے تھے، خیر بہت زیادہ تھی، زمین پر کوئی مومن ایسا نہ تھا جو کسی مومن سے خوفزدہ ہو، جس قبیلے سے بھی کوئی ملتا وہ اس کا بھائی، اس سے محبت کرنے والا اور اس کا مددگار ہوتا، اور فتنہ صرف یہ تھا کہ کوئی کسی پر تلوار سونت لے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 130
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 87، حدیث 131
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ، ثنا حَزْمُ بْنُ أَبِي حَزْمٍ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَكْرَةَ، يَقُولُ: «لَأَنْ أَخِرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَأَنْقَطِعَ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَكُونَ شَرِكْتُ فِي دَمِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ»
ترجمہ
ابوالاسود کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: ”اگر میں آسمان سے گر کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جاؤں تو یہ مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میں عثمان رضی اللہ عنہ کے خون میں شریک ہوا ہوں۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 131
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 87، حدیث 132
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ، ثنا حَزْمٌ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، قَالَ: سَمِعْتُ طَلِيقَ بْنَ خَشَّافٍ، يَقُولُ: وَفَدْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَنَنْظُرَ فِيمَ قُتِلَ عُثْمَانُ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَرَّ مِنَّا بَعْضٌ إِلَى عَلِيٍّ، وَبَعْضٌ إِلَى الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَبَعْضٌ إِلَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُنَّ، فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَتَيْتُ عَائِشَةَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهَا فَرَدَّتِ السَّلَامَ، فَقَالَتْ: وَمَنِ الرَّجُلُ؟ قُلْتُ: مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، فَقَالَتْ: مِنْ أَيِّ أَهْلِ الْبَصْرَةِ؟ قُلْتُ: مِنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ، قَالَتْ: مِنْ أَيِّ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ؟ قُلْتُ: مِنْ بَنِي قَيْسِ بْنِ ثَعْلَبَةَ قَالَتْ: أَمِنْ أَهْلِ فُلَانٍ؟ فَقُلْتُ لَهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، فِيمَ قُتِلَ عُثْمَانُ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؟ قَالَتْ: «قُتِلَ وَاللهِ مَظْلُومًا، لَعَنَ اللهُ قَتَلَتَهُ، أَقَادَ اللهُ ابْنَ أَبِي بَكْرٍ بِهِ، وَسَاقَ اللهُ إِلَى أَعْيُنِ بَنِي تَمِيمٍ هَوَانًا فِي بَيْتِهِ، وَأَهْرَاقَ اللهُ دِمَاءَ بَنِي بُدَيْلٍ عَلَى ضَلَالَةٍ، وَسَاقَ اللهُ إِلَى الْأَشْتَرِ سَهْمًا مِنْ سِهَامِهِ» ، فَوَاللهِ مَا مِنَ الْقَوْمِ رَجُلٌ إِلَّا أَصَابَتْهُ دَعْوَتُهَا
ترجمہ
…انہوں نے پوچھا: بنو بکر بن وائل میں سے کس قبیلے سے ہو؟ میں نے کہا: بنو قیس بن ثعلبہ سے۔ انہوں نے پوچھا: کیا فلاں قبیلے سے ہو؟ تو میں نے ان سے کہا: اے ام المومنین! امیر المومنین عثمان رضی اللہ عنہ کس بات پر قتل کیے گئے؟ انہوں نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! وہ مظلوم قتل کیے گئے، اللہ ان کے قاتلوں پر لعنت کرے۔ اللہ ابن ابی بکر سے اس (قتل) کا بدلہ لے، اللہ بنی تمیم کی آنکھوں کے سامنے ان کے گھر میں ذلت لے آئے، اللہ بنی بدیل کا خون گمراہی میں بہائے، اور اللہ اشتر کو اپنے تیروں میں سے ایک تیر پہنچائے۔“ راوی کہتے ہیں: اللہ کی قسم! ان لوگوں میں سے کوئی ایسا نہ تھا جسے ان کی بددعا نہ لگی ہو۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 132
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 88، حدیث 133
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ زِيَادٍ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ «أَنَّ عَامَّةَ الرَّكْبِ الَّذِينَ سَارُوا إِلَى عُثْمَانَ جُنُّوا»
ترجمہ
یزید بن ابی حبیب سے مروی ہے کہ عثمان (کے خلاف حملے) کی طرف جانے والے قافلے کے اکثر لوگ پاگل ہو گئے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 133
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 88، حدیث 134
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، ثنا عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: لَقِيَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ فَقَالَ: مَا لِي أَرَاكَ قَدْ جَفَوْتَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؟ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أُبَلِّغُهُ أَنِّي لَمْ أَتَخَلَّفْ عَنْ بَدْرٍ، فَخُبِّرَ بِذَلِكَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: «أَمَّا قَوْلُهُ إِنِّي لَمْ أَتَخَلَّفْ عَنْ بَدْرٍ، فَإِنِّي كُنْتُ أُمَرِّضُ رُقَيَّةَ بِنْتَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَاتَتْ» وَلَقَدْ ضَرَبَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمٍ، وَمَنْ ضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمٍ فَقَدْ شَهِدَ "
ترجمہ
…کیا تم نے امیر المومنین عثمان رضی اللہ عنہ سے بےرخی اختیار کی ہے؟ تو سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: انہیں پہنچا دو کہ میں بدر سے پیچھے نہیں رہا۔ جب عثمان رضی اللہ عنہ کو یہ بات پہنچائی گئی تو انہوں نے فرمایا: ”جہاں تک ان کے اس کہنے کی بات ہے کہ میں بدر سے پیچھے نہیں رہا، تو میں رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی رقیہ کی تیمارداری کر رہا تھا یہاں تک کہ وہ انتقال کر گئیں۔ اور رسول اللہ ﷺ نے میرے لیے بھی مال غنیمت میں حصہ مقرر فرمایا تھا، اور جس کے لیے رسول اللہ ﷺ نے حصہ مقرر فرمایا وہ گویا خود بھی موجود ہی تھا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 134
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 88، حدیث 135
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ، عَنْ سَفِينَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْخِلَافَةُ بَعْدِي فِي أُمَّتِي ثَلَاثُونَ سَنَةً» ، قَالَ: " فَحَسِبْنَا، فَوَجَدْنَا: أَبُو بَكْرٍ سَنَتَيْنِ وَعُمَرُ عَشْرٍ، وَعُثْمَانُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ، وَعَلِيٌّ سِتٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ "
ترجمہ
سعید بن جمہان، سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے بعد میری امت میں خلافت تیس سال رہے گی۔“ سعید کہتے ہیں: ہم نے شمار کیا تو پایا: ابوبکر کی خلافت دو سال، عمر کی دس سال، عثمان کی بارہ سال، اور علی کی چھ سال رضی اللہ عنہم۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 135
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 89، حدیث 136
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَنْطَاكِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ كَعْبٍ الْحَلَبِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، وَعَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ الْأَشْعَرِيِّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ زَعَمُوا أَنَّكَ قُلْتَ: «سَيْكَفُرُ قَوْمٌ بَعْدَ إِيمَانِهِمْ» ، قَالَ: «أَجَلْ، وَلَسْتَ مِنْهُمْ» فَتُوُفِّيَ أَبُو الدَّرْدَاءِ قَبْلَ قَتْلِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا
ترجمہ
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں، فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! لوگ کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”کچھ لوگ اپنے ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کریں گے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اور تم ان میں سے نہیں ہو۔“ راوی کہتے ہیں: ابودرداء رضی اللہ عنہ عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل سے پہلے ہی انتقال کر گئے تھے۔
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 136
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 89، حدیث 137
حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَلِيٍّ السِّيرِينِيُّ، حَدَّثَنَا بَكَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ السِّيرِينِيُّ، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: «عُثْمَانُ ذُو النُّورَيْنِ قُتِلَ مَظْلُومًا»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”عثمان ذوالنورین مظلوم قتل کیے گئے۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 137
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 89، حدیث 138
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: «أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ أَصَبْتُمْ، اسْمُهُ عُمَرُ قَرْنٌ مِنْ حَدِيدٍ، عُثْمَانُ ذُو النُّورَيْنِ أَصَبْتُمُ اسْمَهُ، قُتِلَ مَظْلُومًا أُوتِيَ كِفْلَيْنِ مِنَ الْأَجْرِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”ابوبکر صدیق - تم نے ان کا نام درست پایا۔ عمر لوہے کا سینگ تھے۔ عثمان ذوالنورین - تم نے ان کا نام درست پایا، وہ مظلوم قتل کیے گئے، انہیں اس پر دوہرا اجر دیا گیا۔“
حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 138
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 89، حدیث 139