حدیث نمبر: 116
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَسَنِ الْعَطَّارُ، ثنا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي حُذَيْفَةَ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، وَكَعْبًا، رَكِبَا سَفِينَةً فِي الْبَحْرِ، فَقَالَ مُحَمَّدٌ: يَا كَعْبُ أَمَا تَجِدُ سَفِينَتَنَا هَذِهِ فِي التَّوْرَاةِ كَيْفَ تَجْرِي؟ فَقَالَ: «لَا وَلَكِنْ أَجِدُ فِيهَا رَجُلًا أَشْقَى الْفِتْيَةَ مِنْ قُرَيْشٍ يَنْزُو فِي الْفِتْنَةِ كَمَا يَنْزُو الْحِمَارُ، لَا تَكُنْ أَنْتَ هُوَ» قَالَ ابْنُ سِيرِينَ: فَزَعَمُوا أَنَّهُ كَانَ هُوَ
ترجمہ

…کہ محمد بن ابی حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ اور کعب (الاحبار) ایک کشتی میں سوار ہوئے، تو محمد نے کہا: اے کعب! کیا تم تورات میں پاتے ہو کہ ہماری یہ کشتی کیسے چلے گی؟ کعب نے کہا: ”نہیں، لیکن میں اس میں یہ پاتا ہوں کہ قریش کے نوجوانوں میں سب سے بدبخت ایک آدمی فتنے میں اس طرح کودے گا جیسے گدھا کودتا ہے، دیکھو تم وہ نہ ہونا۔“ ابن سیرین کہتے ہیں: لوگوں نے سمجھا کہ وہی (محمد) وہ شخص تھا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 116
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 83، حدیث 117