المعجم الكبير للطبراني
العشرة— عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم
سن عثمان ووفاته رضي الله عنه باب: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی عمر اور وفات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ هَارُونَ الْمَكِّيُّ الْقَزَّازُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ أَبِي شَمْلَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيِّ، عَنْ أَخِيهِ مُحَمَّدِ بْنِ يَعْقُوبَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَتْ: خَرَجَتِ الصَّعْبَةُ بِنْتُ الْحَضْرَمِيِّ، فَسَمِعْنَاهَا تَقُولُ لِابْنِهَا طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ: إِنَّ عُثْمَانَ قَدِ اشْتَدَّ حَصْرُهُ، فَلَوْ كَلَّمْتَ فِيهِ حَتَّى يُرَفَّهُ عَنْهُ، قَالَتْ: وَطَلْحَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَغْسِلُ أَحَدَ شِقَّيْ رَأْسَهِ فَلَمْ يُجِبْهَا، فَأَدْخَلَتْ يَدَيْهَا فِي كُمِّ ذَرْعِهَا فَأَخْرَجَتْ ثَدْيَيْهَا، وَقَالَتْ: أَسْأَلُكَ بِمَا حَمَلْتُكَ وَأرْضَعْتُكَ إِلَّا فَعَلْتَ، فَقَامَ وَلَوَى شِقَّ شَعْرِ رَأْسِهِ حَتَّى عَقَدَهُ وَهُوَ مَغْسُولٌ، ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى أَتَى عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ جَالِسٌ فِي جَنْبِ دَارِهِ، فَقَالَ طَلْحَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَمَعَهُ أُمُّهُ، وَأُمُّ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَافِعٍ: لَوْ رَفَّهْتَ عَنْ هَذَا فَقَدِ اشْتَدَّ حَصْرُهُ، قَالَ: فَنَقَرَ بِقَدَحٍ فِي يَدِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: «وَاللهِ مَا أُحِبُّ مِنْ هَذَا شَيْئًا تَكْرَهُهُ» قَالَ: وَأَنْشَدَنَا أَبُو خَلِيفَةَ قَالَ: أنْشَدَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَرَجِ الرِّيَاشِيُّ لِلَيْلَى الْأَخْيَلِيَّةِ:
[البحر البسيط]
أَبْعَدَ عُثْمَانَ تَرْجُو الْخَيْرَ أُمَّتُهُ ... قَدْ كَانَ أَفْضَلَ مَنْ يَمْشِي عَلَى سَاقِ
خَلِيفَةُ اللهِ أَعْطَاهُمْ وَخَوَّلَهُمْ ... مَا كَانَ مِنْ ذَهَبٍ حُلْوٍ وَأَوْرَاقِ
فَلَا تَكْذِبْ بَوْعِدِ اللهِ وَاتَّقِهِ ... وَلَا تَكُونَنَّ عَلَى شَيْءٍ بِإِشْفَاقِ
وَلَا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ سَوْفَ أَفْعَلُهُ ... قَدْ قَدَّرَ اللهُ مَا كُلُّ امْرِئٍ لَاقِعبداللہ بن رافع کی والدہ کہتی ہیں: صعبہ بنت الحضرمی باہر نکلیں، تو ہم نے انہیں اپنے بیٹے طلحہ بن عبیداللہ سے یہ کہتے سنا: عثمان کا محاصرہ سخت ہو چکا ہے، کاش تم ان کے بارے میں بات کرو تاکہ ان پر نرمی کی جائے۔ وہ کہتی ہیں: اس وقت طلحہ رضی اللہ عنہ اپنے سر کا ایک پہلو دھو رہے تھے، انہوں نے کوئی جواب نہ دیا، تو انہوں (صعبہ) نے اپنے ہاتھ اپنی آستین میں ڈال کر اپنی چھاتیاں باہر نکالیں اور کہا: میں تمہیں اس حق کا واسطہ دیتی ہوں جو میں نے تمہیں پیٹ میں اٹھا کر اور دودھ پلا کر تم پر رکھا ہے کہ تم یہ کام کرو۔ تو وہ کھڑے ہو گئے اور اپنے سر کے اس دھلے ہوئے پہلو کے بال لپیٹ کر باندھ لیے، پھر نکل کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، وہ اپنے گھر کے ایک کونے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ تو سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے، جن کے ساتھ ان کی والدہ اور عبداللہ بن رافع کی والدہ بھی تھیں، کہا: کاش تم اس (عثمان) پر نرمی کرتے، ان کا محاصرہ سخت ہو چکا ہے۔ راوی کہتے ہیں: تو انہوں نے اپنے ہاتھ میں پیالے کو تین بار کھٹکھٹایا، پھر سر اٹھا کر فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں اس (معاملے) میں سے کوئی ایسی چیز پسند نہیں کرتا جسے تم ناپسند کرو۔“ راوی کہتے ہیں: اور ابوخلیفہ نے ہمیں سنایا، انہوں نے کہا: عباس بن فرج الریاشی نے ہمیں لیلیٰ الاخیلیہ کا یہ شعر سنایا: ”کیا عثمان کے بعد ان کی امت خیر کی امید رکھتی ہے؟ حالانکہ وہ زمین پر چلنے والوں میں سب سے افضل تھے۔ اللہ کے خلیفہ تھے، جنہوں نے انہیں عمدہ سونا اور چاندی عطا کی اور ان کا مالک بنایا۔ سو تم اللہ کے وعدے کو جھٹلاؤ نہیں اور اس سے ڈرو، اور کسی چیز پر اندیشہ مند نہ رہو۔ اور کسی چیز کے بارے میں یہ نہ کہو کہ میں اسے آئندہ کروں گا، اللہ نے مقرر کر دیا ہے کہ ہر شخص کو اپنے مقدر سے ملنا ہے۔“