حدیث نمبر: 126
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ هَارُونَ الْمَكِّيُّ الْقَزَّازُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ أَبِي شَمْلَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيِّ، عَنْ أَخِيهِ مُحَمَّدِ بْنِ يَعْقُوبَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَتْ: خَرَجَتِ الصَّعْبَةُ بِنْتُ الْحَضْرَمِيِّ، فَسَمِعْنَاهَا تَقُولُ لِابْنِهَا طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ: إِنَّ عُثْمَانَ قَدِ اشْتَدَّ حَصْرُهُ، فَلَوْ كَلَّمْتَ فِيهِ حَتَّى يُرَفَّهُ عَنْهُ، قَالَتْ: وَطَلْحَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَغْسِلُ أَحَدَ شِقَّيْ رَأْسَهِ فَلَمْ يُجِبْهَا، فَأَدْخَلَتْ يَدَيْهَا فِي كُمِّ ذَرْعِهَا فَأَخْرَجَتْ ثَدْيَيْهَا، وَقَالَتْ: أَسْأَلُكَ بِمَا حَمَلْتُكَ وَأرْضَعْتُكَ إِلَّا فَعَلْتَ، فَقَامَ وَلَوَى شِقَّ شَعْرِ رَأْسِهِ حَتَّى عَقَدَهُ وَهُوَ مَغْسُولٌ، ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى أَتَى عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ جَالِسٌ فِي جَنْبِ دَارِهِ، فَقَالَ طَلْحَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَمَعَهُ أُمُّهُ، وَأُمُّ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَافِعٍ: لَوْ رَفَّهْتَ عَنْ هَذَا فَقَدِ اشْتَدَّ حَصْرُهُ، قَالَ: فَنَقَرَ بِقَدَحٍ فِي يَدِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: «وَاللهِ مَا أُحِبُّ مِنْ هَذَا شَيْئًا تَكْرَهُهُ» قَالَ: وَأَنْشَدَنَا أَبُو خَلِيفَةَ قَالَ: أنْشَدَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَرَجِ الرِّيَاشِيُّ لِلَيْلَى الْأَخْيَلِيَّةِ:
[البحر البسيط]
أَبْعَدَ عُثْمَانَ تَرْجُو الْخَيْرَ أُمَّتُهُ ... قَدْ كَانَ أَفْضَلَ مَنْ يَمْشِي عَلَى سَاقِ
خَلِيفَةُ اللهِ أَعْطَاهُمْ وَخَوَّلَهُمْ ... مَا كَانَ مِنْ ذَهَبٍ حُلْوٍ وَأَوْرَاقِ
فَلَا تَكْذِبْ بَوْعِدِ اللهِ وَاتَّقِهِ ... وَلَا تَكُونَنَّ عَلَى شَيْءٍ بِإِشْفَاقِ
وَلَا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ سَوْفَ أَفْعَلُهُ ... قَدْ قَدَّرَ اللهُ مَا كُلُّ امْرِئٍ لَاقِ
ترجمہ

…تو سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے، جن کے ساتھ ان کی والدہ اور عبداللہ بن رافع کی والدہ بھی تھیں، کہا: کاش تم اس (عثمان) پر نرمی کرتے، ان کا محاصرہ سخت ہو چکا ہے۔ راوی کہتے ہیں: تو انہوں نے اپنے ہاتھ میں پیالے کو تین بار کھٹکھٹایا، پھر سر اٹھا کر فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں اس (عثمان) کے لیے کوئی ایسی چیز پسند نہیں کرتا جسے وہ ناپسند کریں۔“ راوی کہتے ہیں: اور ابوخلیفہ نے ہمیں سنایا، انہوں نے کہا: عباس بن فرج الریاشی نے ہمیں لیلیٰ الاخیلیہ کا یہ شعر سنایا: ”کیا عثمان کے بعد ان کی امت خیر کی امید رکھتی ہے؟ حالانکہ وہ زمین پر چلنے والوں میں سب سے افضل تھے۔
اللہ کے خلیفہ تھے، جنہوں نے انہیں سونا اور نرم و نازک چیزیں عطا کیں اور دیں۔
سو تم اللہ کے وعدے کو جھٹلاؤ نہیں اور اس سے ڈرو، اور کسی چیز کے بارے میں کنجوسی نہ کرو۔
اور کسی چیز کے بارے میں یہ نہ کہو کہ میں اسے آئندہ کروں گا، اللہ نے مقرر کر دیا ہے کہ ہر شخص کو اپنے مقدر سے ملنا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 126
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 85، حدیث 127