حدیث نمبر: 130
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْمُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يَقُولُ: أَدْرَكْتُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ رَاهَقْتُ الْحُلُمَ، فَسَمِعْتُهُ يَخْطُبُ، وَشَهِدْتُهُ يَقُولُ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، مَا تَنْقِمُونَ عَلَيَّ؟» قَالَ: وَمَا مِنْ يَوْمٍ إِلَّا وَهُمْ يَقْتَسِمُونَ فِيهِ خَيْرًا، يَقُولُ: «يَا مَعْشَرَ النَّاسِ، اغْدُوا عَلَى عَطِيَّاتِكُمْ» فَيَغْدُونَ فَيَأْخُذُونَهَا وَافِرَةً، ثُمَّ يُقَالُ: «يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ اغْدُوا عَلَى كِسْوَتِكُمْ» ، فَيُجَاءُ بِالْحُلَلِ فَتُقْسَمُ بَيْنَهُمْ قَالَ الْحَسَنُ: «وَالْعَدُوُّ مَنْفِيُّ، وَالْعَطِيَّاتُ دَارَّةٌ، وَذَاتُ الْبَيْنِ حَسَنٌ، وَالْخَيْرُ كَثِيرٌ، مَا عَلَى الْأَرْضِ مُؤْمِنٌ يَخَافُ مُؤْمِنًا، مَنْ لَقِيَ مِنْ أَيِّ الْأَحْيَاءِ كَانَ فَهُوَ أَخُوهُ وَمَوَدَّتُهُ وَنُصْرَتُهُ، وَالْفِتْنَةُ أَنْ يَسُلَّ عَلَيْهِ سَيْفًا»
ترجمہ

مبارک بن فضالہ کہتے ہیں: میں نے حسن (بصری) کو یہ کہتے سنا: میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کا زمانہ پایا، اور اس وقت میں بلوغت کے قریب تھا، تو میں نے انہیں خطبہ دیتے سنا، اور انہیں یہ فرماتے دیکھا: ”اے لوگو! تم مجھ پر کس بات کا عیب لگاتے ہو؟“ راوی کہتے ہیں: اور کوئی دن ایسا نہ ہوتا جس میں لوگ خیر (مال غنیمت) تقسیم نہ کرتے ہوں، آپ فرماتے: ”اے لوگو! اپنے عطیات کے لیے صبح آؤ“ تو وہ صبح آتے اور بھرپور عطیات لے جاتے۔ پھر کہا جاتا: ”اے مسلمانو! اپنے کپڑوں کے لیے صبح آؤ“ تو جوڑے لائے جاتے اور ان میں تقسیم کر دیے جاتے۔ حسن کہتے ہیں: ”اور دشمن دور تھا، عطیات جاری تھے، آپس کے تعلقات اچھے تھے، خیر بہت زیادہ تھی، زمین پر کوئی مومن ایسا نہ تھا جو کسی مومن سے خوفزدہ ہو، جس قبیلے سے بھی کوئی ملتا وہ اس کا بھائی، اس سے محبت کرنے والا اور اس کا مددگار ہوتا، اور فتنہ صرف یہ تھا کہ کوئی کسی پر تلوار سونت لے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 130
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 87، حدیث 131