المعجم الكبير للطبراني
العشرة— عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم
سن عثمان ووفاته رضي الله عنه باب: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی عمر اور وفات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ زَوْدِيٍّ، قَالَ: خَطَبَهُمْ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَطَعُوا عَلَيْهِ خُطْبَتَهُ، فَقَالَ: " إِنَّمَا وَهَنْتُ يَوْمَ قُتِلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَضَرَبَ لَهُمْ مَثَلًا، مَثَلَ ثَلَاثَةِ أَثْوَارٍ وَأَسَدٍ اجْتَمَعْنَ فِي أَجَمَةٍ أَسْوَدَ وَأَحْمَرَ وَأَبْيَضَ، وَكَانَ الْأَسَدُ إِذَا أَرَادَ وَاحِدًا مِنْهُنَّ اجْتَمَعْنَ عَلَيْهِ فَامْتَنَعْنَ عَلَيْهِ، فَقَالَ الْأَسَدُ لِلْأَسْوَدِ وَالْأَحْمَرِ: إِنَّمَا يَفْضَحُنَا فِي أَجَمَتِنَا، وَيُشْهِرُنَا هَذَا الْأَبْيَضُ، فَدَعَانِي حَتَّى آكُلَهُ، فَلَوْنُكُمَا عَلَى لَوْنِي، وَلَوْنِي عَلَى لَوْنِكُمَا، فَحَمَلَ عَلَيْهِ الْأَسَدُ، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ قَتَلَهُ، ثُمَّ قَالَ لِلْأَسْوَدِ: إِنَّمَا يَفْضَحُنَا وَيُشْهِرُنَا فِي أَجَمَتِنَا هَذَا الْأَحْمَرُ، فَدَعْنِي حَتَّى آكُلَهُ، فَلَوْنِي عَلَى لَوْنِكَ، وَلَوْنُكَ عَلَى لَوْنِي، فَحَمَلَ عَلَيْهِ فَقَتَلَهُ، ثُمَّ قَالَ لِلْأَسْوَدِ: إِنِّي آكُلُكَ قَالَ: دَعْنِي أُصَوِّتُ ثَلَاثَةَ أَصْوَاتٍ، فَقَالَ: أَلَا إِنَّمَا أُكِلْتُ يَوْمَ أُكِلَ الْأَبْيَضُ، أَلَا إِنَّمَا أُكِلْتُ يَوْمَ أُكِلَ الْأَبْيَضُ، أَلَا إِنَّمَا أُكِلْتُ يَوْمَ أُكِلَ الْأَبْيَضُ، أَلَا إِنَّمَا وَهَنْتُ يَوْمَ قُتِلَ عُثْمَانُ "عمیر بن زودی کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انہیں خطبہ دیا تو انہوں نے آپ کا خطبہ کاٹ دیا، تو آپ نے فرمایا: ”میں تو اسی دن کمزور پڑ گیا تھا جس دن عثمان رضی اللہ عنہ شہید کیے گئے۔“ اور آپ نے ان کے لیے ایک مثال بیان کی: تین بیل اور ایک شیر کی مثال، جو ایک جنگل میں اکٹھے تھے: ایک کالا، ایک سرخ اور ایک سفید۔ شیر جب بھی ان میں سے کسی ایک کا ارادہ کرتا تو وہ سب مل کر اس کے خلاف جمع ہو جاتے اور اسے روک دیتے۔ تو شیر نے کالے اور سرخ سے کہا: یہ سفید (بیل) ہمیں اپنے جنگل میں رسوا اور مشہور کرتا ہے، اسے میرے حوالے کر دو تاکہ میں اسے کھا لوں، پھر تمہارا رنگ میرے رنگ جیسا ہو جائے گا اور میرا رنگ تمہارے رنگ جیسا۔ چنانچہ شیر نے اس پر حملہ کیا اور تھوڑی ہی دیر میں اسے قتل کر دیا۔ پھر اس نے کالے سے کہا: یہ سرخ (بیل) ہمیں جنگل میں رسوا اور مشہور کرتا ہے، مجھے اس کے حوالے کر دو تاکہ میں اسے کھا لوں، پھر میرا رنگ تمہارے رنگ جیسا ہو گا اور تمہارا رنگ میرے رنگ جیسا۔ چنانچہ اس نے اس پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیا۔ پھر اس نے کالے سے کہا: اب میں تجھے کھاؤں گا۔ اس نے کہا: مجھے تین بار آواز لگانے دے۔ تو اس نے کہا: خبردار! میں اسی دن کھایا جا چکا تھا جس دن سفید کھایا گیا تھا، خبردار! میں اسی دن کھایا جا چکا تھا جس دن سفید کھایا گیا تھا، خبردار! میں اسی دن کھایا جا چکا تھا جس دن سفید کھایا گیا تھا، خبردار! میں تو اسی دن کمزور پڑ گیا تھا جس دن عثمان قتل کیے گئے۔“