حدیث نمبر: 110
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمُنْعِمِ بْنُ بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ غُرَابٍ الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَعَنْ يَمِينِهِ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ، وَعَنْ يَسَارِهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، إِذْ جَاءَ غُرَابُ بْنُ فُلَانٍ الصَّيْدَنِيُّ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَا تَقُولُ فِي عُثْمَانَ؟ فَبَدَرَهُ الرَّجُلَانِ، فَقَالَا: عَمَّ تَسْأَلُ؟ عَنْ رَجُلٍ كَفَرَ بِاللهِ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِهِ وَنَافَقَ؟ فَقَالَ الرَّجُلُ لَهُمَا: لَسْتُ إِيَّاكُمَا أَسْأَلُ، وَلَا إِلَيْكُمَا جِئْتُ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: «لَسْتُ أَقُولُ مَا قَالَا» ، فَقَالَا لَهُ جَمِيعًا: فِلِمَ قَتَلْنَاهُ إِذًا؟ قَالَ: " وُلِّيَ عَلَيْكُمْ فَأَسَاءَ الْوَلَايَةَ فِي آخِرِ أَيَّامِهِ، وَجَزَعْتُمْ، فَأَسَأْتُمُ الْجَزَعَ، وَاللهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا وَعُثْمَانُ كَمَا قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ} [الحجر: ٤٧] "
ترجمہ

…تو ان دونوں نے کہا: تم کس کے بارے میں پوچھ رہے ہو؟ اس شخص کے بارے میں جس نے ایمان لانے کے بعد اللہ کا انکار کیا اور نفاق اختیار کیا؟ اس شخص نے ان دونوں سے کہا: میں تم سے نہیں پوچھ رہا، اور نہ ہی تمہارے پاس آیا ہوں۔ اس پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: ”میں وہ بات نہیں کہتا جو ان دونوں نے کہی۔“ تو دونوں نے مل کر ان سے کہا: پھر ہم نے انہیں کیوں قتل کیا؟ آپ نے فرمایا: ”انہیں تم پر حکمرانی دی گئی تو انہوں نے اپنے آخری ایام میں بدانتظامی کی، اور تم نے بےصبری دکھائی تو بری طرح بےصبری کی۔ اللہ کی قسم! مجھے امید ہے کہ میں اور عثمان اسی طرح ہوں گے جیسا اللہ عزوجل نے فرمایا ہے: ”اور ہم ان کے دلوں سے کینہ نکال دیں گے، وہ بھائی بھائی بن کر تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے“ [الحجر: 47]۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 110
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 79، حدیث 111