حدیث نمبر: 119
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ثنا أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَالِمٍ، أَنَّ عُمَيْرَ بْنَ رَبِيعَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَرْسَلَ إِلَى كَعْبِ الْأَحْبَارِ فَقَالَ: يَا كَعْبُ كَيْفَ تَجِدُ نَعْتِي؟ قَالَ: «أَجِدُ نَعْتَكَ قَرْنًا مِنْ حَدِيدٍ» قَالَ: وَمَا قَرْنٌ مِنْ حَدِيدٍ؟ قَالَ: «أَمِيرٌ سَدِيدٌ لَا يَأْخُذُهُ فِي اللهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ» ، قَالَ: ثُمَّ مَهْ؟ قَالَ: «ثُمَّ يَكُونُ بَعْدَكَ خَلِيفَةٌ تَقْتُلُهُ فِئَةٌ ظَالِمَةٌ» قَالَ: ثُمَّ مَهْ؟ قَالَ: «ثُمَّ يَكُونُ الْبَلَاءُ»
ترجمہ

عمیر بن ربیعہ کہتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کعب الاحبار کو بلوایا اور فرمایا: اے کعب! تم میری (کتابوں میں) کیا صفت پاتے ہو؟ اس نے کہا: میں آپ کی صفت لوہے کا سینگ پاتا ہوں۔ آپ نے پوچھا: لوہے کا سینگ کیا ہوتا ہے؟ اس نے کہا: ایک درست فیصلہ کرنے والا امیر، جسے اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہیں ہوتی۔ آپ نے پوچھا: پھر کیا ہو گا؟ اس نے کہا: پھر آپ کے بعد ایک خلیفہ ہو گا جسے ایک ظالم گروہ قتل کر دے گا۔ آپ نے پوچھا: پھر کیا ہو گا؟ اس نے کہا: پھر فتنہ (و آزمائش) ہو گی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 119
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 84، حدیث 120