حدیث نمبر: 124
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، ثنا كُلَيْبُ بْنُ وَائِلٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ يُكَنَّى أَبَا ثَوْرٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ عُثْمَانَ؟ هَلْ شَهِدَ بَدْرًا؟ فَقَالَ: لَا، أَمَّا يَوْمَ بَدْرٍ، فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اللهُمَّ إِنَّ عُثْمَانَ فِي حَاجَتِكَ وَحَاجَةِ رَسُولِكَ» فَضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمِهِ
ترجمہ

… راوی کہتے ہیں: میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا اور پوچھا: بتائیے، کیا عثمان بدر میں شریک ہوئے تھے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، البتہ بدر کے دن رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا: ”اے اللہ! عثمان تیرے اور تیرے رسول کے کام میں مصروف ہیں۔“ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے بھی مال غنیمت کا حصہ مقرر فرمایا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 124
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 85، حدیث 125