❮
❯
حدیث نمبر: 117
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَدَقَةَ الْبَغْدَادِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ دَاوُدَ الصَّوَّافُ التُّسْتَرِيُّ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خِدَاشٍ، ثنا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا مُبَارَكٌ، عَنِ الْحَسَنِ، حَدَّثَنِي سَيَّافُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ دَخَلَ عَلَى عُثْمَانَ فَقَالَ: ارْجِعِ ابْنَ أَخِي فَلَسْتَ بِقَاتِلِي، قَالَ: وَكَيْفَ عَلِمْتَ ذَاكَ؟ قَالَ: لِأَنَّهُ «أُتِيَ بِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ سَابِعِكَ فَحَنَّكَكَ، وَدَعَا لكَ بِالْبَرَكَةِ» ، ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ آخَرُ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: ارْجِعِ ابْنَ أَخِي فَلَسْتَ بِقَاتِلِي، قَالَ: بِمَ تَدْرِي ذَلِكَ؟ قَالَ: لِأَنَّهُ «أُتِيَ بِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ سَابِعِكَ فَحَنَّكَكَ وَدَعَا لكَ بِالْبَرَكَةِ» قَالَ: ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ: أَنْتَ قَاتِلِي، قَالَ: وَمَا يُدْرِيكَ يَا نَعْثَلُ؟ قَالَ: لِأَنَّهُ «أُتِيَ بِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ سَابِعِكَ لَيُحَنِّكَكَ وَيَدْعُو لَكَ بِالْبَرَكَةِ فَخَرَيْتَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» قَالَ: فَوَثَبَ عَلَى صَدْرِهِ وَقَبَضَ عَلَى لِحْيَتِهِ، فَقَالَ: إِنْ تَفْعَلْ كَانَ يَعِزُّ عَلَى أَبِيكَ أَنْ تَسُوءَهُ، قَالَ: فَوَجَأَهُ فِي نَحْرِهِ بِمَشَاقِصَ كَانَتْ فِي يَدِهِ
ترجمہ

عثمان رضی اللہ عنہ کے تلوار بردار (محافظ) کہتے ہیں: انصار میں سے ایک آدمی عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: اے بھتیجے! واپس چلے جاؤ، تم میرے قاتل نہیں ہو۔ اس نے کہا: آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا؟ آپ نے فرمایا: اس لیے کہ تمہاری پیدائش کے ساتویں دن تمہیں نبی کریم ﷺ کے پاس لایا گیا تھا، تو آپ ﷺ نے تمہیں گھٹی دی اور تمہارے لیے برکت کی دعا فرمائی۔ پھر انصار میں سے ایک اور آدمی ان کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا: اے بھتیجے! واپس چلے جاؤ، تم میرے قاتل نہیں ہو۔ اس نے کہا: آپ یہ کیسے جانتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: اس لیے کہ تمہاری پیدائش کے ساتویں دن تمہیں نبی کریم ﷺ کے پاس لایا گیا تھا، تو آپ ﷺ نے تمہیں گھٹی دی اور تمہارے لیے برکت کی دعا فرمائی۔ راوی کہتے ہیں: پھر ان کے پاس محمد بن ابی بکر آئے تو آپ نے فرمایا: تم میرے قاتل ہو۔ اس نے کہا: اے نعثل! تمہیں یہ کیسے معلوم ہے؟ آپ نے فرمایا: اس لیے کہ تمہاری پیدائش کے ساتویں دن تمہیں نبی کریم ﷺ کے پاس لایا گیا تھا تاکہ آپ ﷺ تمہیں گھٹی دیں اور تمہارے لیے برکت کی دعا کریں، تو تم نے رسول اللہ ﷺ پر گندگی کر دی۔ راوی کہتے ہیں: پھر وہ ان کے سینے پر چڑھ گیا اور ان کی داڑھی پکڑ لی، تو آپ نے فرمایا: اگر تم ایسا کرو گے تو تمہارے والد کو یہ بات ناگوار گزرے گی کہ تم انہیں ناراض کرو۔ راوی کہتے ہیں: تو اس نے اپنے ہاتھ میں موجود نوکیلے آلے سے ان کے حلق میں وار کر دیا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 117
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 83، حدیث 118