المعجم الكبير للطبراني
العشرة— عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم
سن عثمان ووفاته رضي الله عنه باب: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی عمر اور وفات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرَّحَبِيُّ، ثنا سَهْمُ بْنُ حُبَيْشٍ - وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ قَتْلَ عُثْمَانَ - قَالَ: " فَلَمَّا أَمْسَيْنَا قُلْتُ: لَئِنْ تَرَكْتُمْ صَاحِبَكُمْ حَتَّى يُصْبِحَ مَثَّلُوا بِهِ، فَانْطَلِقُوا بِهِ إِلَى بَقِيعِ الْغَرْقَدِ فَأَمْكَنَّا لَهُ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ، ثُمَّ حَمَلْنَاهُ وَغَشِيَنَا سَوَادٌ مِنْ خَلْفِنَا، فَهِبْنَاهُمْ حَتَّى كِدْنَا أَنَّ نَتَفَرَّقَ عَنْهُ، فَنَادَى مُنَادٍ: لَا رَوْعَ عَلَيْكُمْ، اثْبُتُوا، فَإِنَّا قَدْ جِئْنَا لِنَشْهَدَهُ مَعَكُمْ، وَكَانَ ابْنُ حُبَيْشٍ يَقُولُ: هُمْ وَاللهِ الْمَلَائِكَةُ "سہم بن حبیش - جو عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کے وقت موجود تھے - کہتے ہیں: جب ہم پر شام ہوئی تو میں نے کہا: اگر تم نے اپنے ساتھی (کی میت) کو صبح تک یونہی چھوڑا تو لوگ ان کا مثلہ کر دیں گے۔ چنانچہ وہ انہیں بقیع الغرقد لے گئے اور رات کے کسی حصے میں انہیں دفن کرنے کا موقع پایا۔ پھر ہم نے انہیں اٹھایا تو ہمارے پیچھے سے کچھ سیاہی (لوگوں کا ہجوم) نمودار ہوئی، ہم ان سے خوفزدہ ہو گئے یہاں تک کہ قریب تھا کہ ہم منتشر ہو جائیں، تو ایک پکارنے والے نے آواز دی: تمہیں کوئی خوف نہ ہو، ثابت قدم رہو، ہم تو تمہارے ساتھ اس تدفین میں شریک ہونے آئے ہیں۔ ابن حبیش کہا کرتے تھے: اللہ کی قسم! وہ فرشتے تھے۔