حدیث نمبر: 127
أَنْشَدَنَا أَبُو خَلِيفَةَ قَالَ: أنْشَدَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ التُّوزِيُّ، قَالَ أَبُو خَلِيفَةَ: وَسَأَلْتُ عَنْهُ الرِّيَاشِيَّ فَقَالَ: هُوَ لِحَسَّانِ بْنِ ثَابِتٍ: «
[البحر الكامل]
وَتَرَكْتُمُ غَزْوَ الدُّرُوبِ وَجِئْتُمُ ... لِقِتَالِ قَوْمٍ عِنْدَ قَبْرِ مُحَمَّدِ
فَلَيْسَ هَدْيُ الصَّالِحِينَ هُدِيتُمُ ... وَلَيْسَ فِعْلَ الْعَابِدِ الْمُتَهَجِّدِ»
ترجمہ

ابوخلیفہ نے ہمیں سنایا، کہا: ابومحمد التوزی نے ہمیں سنایا - ابوخلیفہ کہتے ہیں: اور میں نے اس بارے میں ریاشی سے پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا شعر ہے: ”تم نے سرحدوں پر جہاد چھوڑ دیا اور محمد ﷺ کی قبر کے پاس ایک قوم سے لڑنے آ گئے۔
یہ نیک لوگوں کا طریقہ نہیں جس پر تمہیں ہدایت دی گئی، اور نہ یہ عبادت گزار، تہجد گزار کا عمل ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 127
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 86، حدیث 128