المعجم الكبير للطبراني
العشرة— عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم
سن عثمان ووفاته رضي الله عنه باب: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی عمر اور وفات
حدیث نمبر: 134
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، ثنا عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، قَالَ: لَقِيَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ الْوَلِيدَ بْنَ عُقْبَةَ فَقَالَ: مَا لِي أَرَاكَ قَدْ جَفَوْتَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؟ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أُبَلِّغُهُ أَنِّي لَمْ أَتَخَلَّفْ عَنْ بَدْرٍ، فَخُبِّرَ بِذَلِكَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: «أَمَّا قَوْلُهُ إِنِّي لَمْ أَتَخَلَّفْ عَنْ بَدْرٍ، فَإِنِّي كُنْتُ أُمَرِّضُ رُقَيَّةَ بِنْتَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَاتَتْ» وَلَقَدْ ضَرَبَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمٍ، وَمَنْ ضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَهْمٍ فَقَدْ شَهِدَ "ترجمہ
…کیا تم نے امیر المومنین عثمان رضی اللہ عنہ سے بےرخی اختیار کی ہے؟ تو سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: انہیں پہنچا دو کہ میں بدر سے پیچھے نہیں رہا۔ جب عثمان رضی اللہ عنہ کو یہ بات پہنچائی گئی تو انہوں نے فرمایا: ”جہاں تک ان کے اس کہنے کی بات ہے کہ میں بدر سے پیچھے نہیں رہا، تو میں رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی رقیہ کی تیمارداری کر رہا تھا یہاں تک کہ وہ انتقال کر گئیں۔ اور رسول اللہ ﷺ نے میرے لیے بھی مال غنیمت میں حصہ مقرر فرمایا تھا، اور جس کے لیے رسول اللہ ﷺ نے حصہ مقرر فرمایا وہ گویا خود بھی موجود ہی تھا۔“