المعجم الكبير للطبراني
العشرة— عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم
سن عثمان ووفاته رضي الله عنه باب: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی عمر اور وفات
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ، ثنا حَزْمٌ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ، قَالَ: سَمِعْتُ طَلِيقَ بْنَ خَشَّافٍ، يَقُولُ: وَفَدْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَنَنْظُرَ فِيمَ قُتِلَ عُثْمَانُ، فَلَمَّا قَدِمْنَا مَرَّ مِنَّا بَعْضٌ إِلَى عَلِيٍّ، وَبَعْضٌ إِلَى الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَبَعْضٌ إِلَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُنَّ، فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَتَيْتُ عَائِشَةَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهَا فَرَدَّتِ السَّلَامَ، فَقَالَتْ: وَمَنِ الرَّجُلُ؟ قُلْتُ: مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ، فَقَالَتْ: مِنْ أَيِّ أَهْلِ الْبَصْرَةِ؟ قُلْتُ: مِنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ، قَالَتْ: مِنْ أَيِّ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ؟ قُلْتُ: مِنْ بَنِي قَيْسِ بْنِ ثَعْلَبَةَ قَالَتْ: أَمِنْ أَهْلِ فُلَانٍ؟ فَقُلْتُ لَهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، فِيمَ قُتِلَ عُثْمَانُ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؟ قَالَتْ: «قُتِلَ وَاللهِ مَظْلُومًا، لَعَنَ اللهُ قَتَلَتَهُ، أَقَادَ اللهُ ابْنَ أَبِي بَكْرٍ بِهِ، وَسَاقَ اللهُ إِلَى أَعْيُنِ بَنِي تَمِيمٍ هَوَانًا فِي بَيْتِهِ، وَأَهْرَاقَ اللهُ دِمَاءَ بَنِي بُدَيْلٍ عَلَى ضَلَالَةٍ، وَسَاقَ اللهُ إِلَى الْأَشْتَرِ سَهْمًا مِنْ سِهَامِهِ» ، فَوَاللهِ مَا مِنَ الْقَوْمِ رَجُلٌ إِلَّا أَصَابَتْهُ دَعْوَتُهَاطلیق بن خشاف رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہم مدینہ کی طرف اس لیے آئے کہ دیکھیں عثمان کس بات پر قتل کیے گئے۔ جب ہم پہنچے تو ہم میں سے کچھ لوگ سیدنا علی کی طرف گئے، کچھ حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی طرف، اور کچھ امہات المومنین رضی اللہ عنہن کی طرف۔ میں چل کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچا اور انہیں سلام کیا، تو انہوں نے سلام کا جواب دیا اور پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: اہل بصرہ میں سے۔ انہوں نے پوچھا: اہل بصرہ کے کس قبیلے سے؟ میں نے کہا: بکر بن وائل سے۔ انہوں نے پوچھا: بنو بکر بن وائل میں سے کس قبیلے سے ہو؟ میں نے کہا: بنی قیس بن ثعلبہ سے۔ انہوں نے پوچھا: کیا فلاں قبیلے سے ہو؟ تو میں نے ان سے کہا: اے ام المومنین! امیر المومنین عثمان رضی اللہ عنہ کس بات پر قتل کیے گئے؟ انہوں نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! وہ مظلوم قتل کیے گئے، اللہ ان کے قاتلوں پر لعنت کرے۔ اللہ ابن ابی بکر سے اس (قتل) کا بدلہ لے، اللہ بنی تمیم کے اعین کو اس کے گھر میں ذلت پہنچائے، اللہ بنی بدیل کا خون گمراہی میں بہائے، اور اللہ اشتر کو اپنے تیروں میں سے ایک تیر پہنچائے۔“ راوی کہتے ہیں: اللہ کی قسم! ان لوگوں میں سے کوئی ایسا نہ تھا جسے ان کی بددعا نہ لگی ہو۔