حدیث نمبر: 111
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ زَوْدِيٍّ، قَالَ: خَطَبَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ النَّاسَ فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ: إِنَّهُ وَاللهِ لَئِنْ لَمْ يَدْخُلِ النَّارَ إِلَّا مَنْ قَتَلَ عُثْمَانَ، لَا أَدْخَلُهَا، وَلَئِنْ لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ قَتَلَ عُثْمَانَ لَا أَدْخَلُهَا "، قَالَ: فَلَمَّا نَزَلَ قِيلَ لَهُ: تَكَلَّمْتَ بِكَلِمَةٍ فَرَّقْتَ عَلَيْكَ بِهَا أَصْحَابَكَ، فَخَطَبَهُمْ، فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَلَا إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَتَلَ عُثْمَانَ وَأَنَا مَعَهُ» . قَالَ حَمَّادٌ، وَحَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ " قَالَ: كَلِمَةٌ قُرَشِيَّةٌ لَهَا وَجْهَانِ " قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ: كَأَنَّهُ يَعْنِي «أَنَّ اللهَ تَعَالَى قَتَلَهُ وَأَنَا مَعَهُ مَقْتُولٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا»
ترجمہ

… تو میں اس میں داخل نہ ہوں گا، اور اگر عثمان کے قاتل کے سوا کوئی جنت میں داخل نہ ہو تو میں اس میں داخل نہ ہوں گا۔“ راوی کہتے ہیں: جب وہ منبر سے اترے تو ان سے کہا گیا: آپ نے ایک ایسی بات کہی جس سے آپ کے ساتھی آپ سے متفرق ہو گئے، تو انہوں نے دوبارہ خطبہ دیا اور فرمایا: ”لوگو! سن لو، اللہ عزوجل نے عثمان کو قتل کروایا اور میں بھی اسی (انجام) کے ساتھ ہوں۔“ حماد کہتے ہیں، اور ہمیں حبیب بن شہید نے محمد بن سیرین کے واسطے سے بتایا: یہ ایک قریشی جملہ ہے جس کے دو معنی ہیں۔
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: گویا ان کی مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں قتل کروایا اور میں بھی ان کے ساتھ مقتول ہونے والا ہوں، رضی اللہ عنہما۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 111
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 80، حدیث 112