المعجم الكبير للطبراني
العشرة— عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم
سن عثمان ووفاته رضي الله عنه باب: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی عمر اور وفات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ زَوْدِيٍّ، قَالَ: خَطَبَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ النَّاسَ فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ: إِنَّهُ وَاللهِ لَئِنْ لَمْ يَدْخُلِ النَّارَ إِلَّا مَنْ قَتَلَ عُثْمَانَ، لَا أَدْخَلُهَا، وَلَئِنْ لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ قَتَلَ عُثْمَانَ لَا أَدْخَلُهَا "، قَالَ: فَلَمَّا نَزَلَ قِيلَ لَهُ: تَكَلَّمْتَ بِكَلِمَةٍ فَرَّقْتَ عَلَيْكَ بِهَا أَصْحَابَكَ، فَخَطَبَهُمْ، فَقَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَلَا إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَتَلَ عُثْمَانَ وَأَنَا مَعَهُ» . قَالَ حَمَّادٌ، وَحَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ " قَالَ: كَلِمَةٌ قُرَشِيَّةٌ لَهَا وَجْهَانِ " قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ: كَأَنَّهُ يَعْنِي «أَنَّ اللهَ تَعَالَى قَتَلَهُ وَأَنَا مَعَهُ مَقْتُولٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا»عمیر بن زودی کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا: ”اے لوگو! اللہ کی قسم، اگر عثمان کے قاتل کے سوا کوئی جہنم میں داخل نہ ہو تو میں اس میں داخل نہ ہوں گا، اور اگر عثمان کے قاتل کے سوا کوئی جنت میں داخل نہ ہو تو میں اس میں داخل نہ ہوں گا۔“ راوی کہتے ہیں: جب وہ منبر سے اترے تو ان سے کہا گیا: آپ نے ایک ایسی بات کہی جس سے آپ کے ساتھی آپ سے متفرق ہو گئے، تو انہوں نے دوبارہ خطبہ دیا اور فرمایا: ”لوگو! سن لو، اللہ عزوجل نے عثمان کو قتل کیا اور میں اس کے ساتھ ہوں۔“ حماد کہتے ہیں: اور ہمیں حبیب بن شہید نے محمد بن سیرین کے واسطے سے بتایا، انہوں نے کہا: یہ ایک قریشی جملہ ہے جس کے دو معنی ہیں۔ ابوالقاسم (امام طبرانی رحمہ اللہ) فرماتے ہیں: گویا ان کی مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں قتل کروایا اور میں بھی ان کے ساتھ مقتول ہونے والا ہوں، رضی اللہ عنہما۔