حدیث نمبر: 108
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ الْمَاجِشُونُ، قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكًا، يَقُولُ: " قُتِلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَأَقَامَ مَطْرُوحًا عَلَى كُنَاسَةِ بَنِي فُلَانٍ ثَلَاثًا، فَأَتَاهُ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا، فِيهِمْ جَدِّي مَالِكُ بْنُ أَبِي عَامِرٍ، وَحُوَيْطِبُ بْنُ عَبْدِ الْعُزَّى، وَحَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَعَائِشَةُ بِنْتُ عُثْمَانَ مَعَهُمْ مِصْبَاحٌ فِي حِقٍّ فَحَمَلُوهُ عَلَى بَابٍ، وَإِنَّ رَأْسَهُ يَقُولُ عَلَى الْبَابِ طَقْ طَقْ حَتَّى أَتَوْا بِهِ الْبَقِيعَ، فَاخْتَلَفُوا فِي الصَّلَاةِ عَلَيْهِ، فَصَلَّى عَلَيْهِ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ أَوْ حُوَيْطِبُ بْنُ عَبْدِ الْعُزَّى - شَكَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ - ثُمَّ أَرَادُوا دَفْنَهُ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي مَازِنٍ فَقَالَ: وَاللهِ لَئِنْ دَفَنْتُمُوهُ مَعَ الْمُسْلِمِينَ، لَأُخْبِرَنَّ النَّاسَ، فَحَمَلُوهُ حَتَّى أَتَوْا بِهِ إِلَى حَشِّ كَوْكَبٍ، فَلَمَّا دَلُّوهُ فِي قَبْرِهِ صَاحَتْ عَائِشَةُ بِنْتُ عُثْمَانَ، فَقَالَ لَهَا ابْنُ الزُّبَيْرِ: اسْكُتِي فَوَاللهِ لَئِنْ عُدْتِ لَأَضْرِبَنَّ الَّذِي فِيهِ عَيْنَاكِ، فَلَمَّا دَفَنُوهُ وَسَوَّوْا عَلَيْهِ التُّرَابَ قَالَ لَهَا ابْنُ الزُّبَيْرِ: صِيحِي مَا بَدَا لَكِ أَنْ تَصِيحِي، قَالَ مَالِكٌ وَكَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَبْلَ ذَلِكَ يَمُرُّ بِحُشٍّ كَوْكَبٍ فَيَقُولُ: لَيُدْفَنَنَّ هَهُنَا رَجُلٌ صَالِحٌ " قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ: " الْحُشُّ: الْبُسْتَانُ "
ترجمہ

امام مالک کہتے ہیں: عثمان رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے تو ان کا جسد تین دن تک فلاں قبیلے کے کوڑا خانے پر پڑا رہا، پھر بارہ آدمی ان کے پاس آئے، جن میں میرے دادا مالک بن ابی عامر، حویطب بن عبدالعزیٰ، حکیم بن حزام، عبداللہ بن زبیر، اور عائشہ بنت عثمان بھی تھیں، جن کے ساتھ ایک ڈبیا میں چراغ تھا۔ انہوں نے ان کے جسد کو ایک دروازے پر اٹھایا، اور ان کے سر کی (ہڈیوں کی) آواز ”ٹک ٹک“ آ رہی تھی، یہاں تک کہ وہ انہیں بقیع لے آئے۔ پھر ان کی نماز جنازہ پڑھانے میں اختلاف ہوا، تو حکیم بن حزام یا حویطب بن عبدالعزیٰ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی - عبدالرحمن کو اس میں شک تھا - پھر انہوں نے انہیں دفن کرنے کا ارادہ کیا تو بنی مازن کے ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا: اللہ کی قسم! اگر تم نے انہیں مسلمانوں کے ساتھ دفن کیا تو میں لوگوں کو اس کی خبر کر دوں گا۔ چنانچہ وہ انہیں اٹھا کر حش کوکب لے گئے۔ جب انہوں نے انہیں قبر میں اتارا تو عائشہ بنت عثمان چیخ اٹھیں، تو ابن زبیر نے ان سے کہا: خاموش ہو جاؤ، اللہ کی قسم اگر تم دوبارہ ایسا کرو گی تو میں اس جگہ کو ماروں گا جہاں تمہاری آنکھیں ہیں۔ جب انہوں نے انہیں دفن کر کے مٹی برابر کر دی تو ابن زبیر نے ان سے کہا: اب جتنا چاہو چیخو۔
امام مالک کہتے ہیں: عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اس سے پہلے حش کوکب کے پاس سے گزرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے: یہاں ضرور ایک نیک آدمی دفن ہو گا۔
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”الحش“ سے مراد باغ ہے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / العشرة / حدیث: 108
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 1، صفحہ 78، حدیث 109