کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: غزوہ خندق اور غزوہ بنو قریظہ کا بیان
عَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيِّ ; أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَطَّ الْخَنْدَقَ مِنْ أَحْمَرِ السَّبْخَتَيْنِ طَرَفَ بَنِي حَارِثَةَ عَامَ حِزْبِ الْأَحْزَابِ حَتَّى بَلَغَ الْمَذَاحِجَ ، فَقَطَعَ لِكُلِّ عَشَرَةٍ أَرْبَعِينَ ذِرَاعًا ، وَاحْتَجَّ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ فِي سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ ، وَكَانَ رَجُلًا قَوِيًّا ، فَقَالَ الْمُهَاجِرُونَ : سَلْمَانُ مِنَّا ، وَقَالَتِ الْأَنْصَارُ : مِنَّا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَلْمَانُ مِنَّا أَهْلَ الْبَيْتِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَحَسَّنَ التِّرْمِذِيُّ حَدِيثَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ہمیں خندق کھودنے کا حکم دیا ‘ خندق میں ایک جگہ ایک چٹان ہمارے سامنے آئی ، جس پر پھاؤڑے کا اثر نہیں ہوتا تھا ‘ لوگوں نے اس کی شکایت نبی اکرم ﷺ سے کی ‘ نبی اکرم ﷺ تشریف لائے ۔ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ‘ روایت میں یہ الفاظ ہیں : آپ نے اپنا کپڑا رکھا اور آپ چٹان پر چڑھ گئے ‘ آپ نے پھاؤڑا پکڑا اور پھر فرمایا : اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، پھر آپ نے ایک ضرب لگائی ‘ تو پتھر ( یعنی چٹان ) کا ایک تہائی حصہ ٹوٹ گیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ اکبر ! مجھے شام کی کنجیاں عطا کر دی گئی ہیں ۔ اللہ کی قسم ! میں اپنی اس جگہ سے وہاں کے سرخ محلات دیکھ رہا ہوں ، پھر آپ نے فرمایا : اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ‘ اور آپ نے دوسری ضرب لگائی ‘ تو اس کا مزید ایک تہائی حصہ ٹوٹ گیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ اکبر ! مجھے فارس کی چابیاں عطا کر دی گئی ہیں ‘ اور میں مختلف شہروں کو ( یا مدائن نامی شہر کو ) دیکھ رہا ہوں ‘ اور میں اپنی اس جگہ سے ‘ وہاں کے سفید محل کو دیکھ رہا ہوں ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، پھر آپ نے ایک اور ضرب لگائی اور بقیہ پتھر کو بھی توڑ دیا ‘ آپ نے فرمایا : اللہ اکبر ! مجھے یمن کی چابیاں عطا کر دی گئی ہیں ‘ اور میں اپنی اس جگہ پر کھڑا ہوا صنعاء کے دروازوں کو دیکھ رہا ہوں ‘‘۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10137
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6040)»
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِحَفْرِ الْخَنْدَقِ ، وَعَرَضَ لَنَا صَخْرَةٌ فِي مَكَانٍ مِنَ الْخَنْدَقِ لَا تَأْخُذُ فِيهَا الْمَعَاوِلُ ، فَشَكَوْهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - - وَأَحْسَبُهُ قَالَ : وَضَعَ ثَوْبَهُ - ثُمَّ هَبَطَ إِلَى الصَّخْرَةِ فَأَخَذَ الْمِعْوَلَ ، فَقَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ " فَضَرَبَ ضَرْبَةً فَكَسَرَ ثُلُثَ الْحَجَرِ ، وَقَالَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ ، أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ الشَّامِ ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأُبْصِرُ قُصُورَهَا الْحُمْرَ مِنْ مَكَانِي هَذَا " ، ثُمَّ قَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ " وَضَرَبَ أُخْرَى ، فَكَسَرَ ثُلُثَ الْحَجَرِ ، فَقَالَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ ، أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ فَارِسَ ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأُبْصِرُ الْمَدَائِنَ ، وَأُبْصِرُ قَصْرَهَا الْأَبْيَضَ مِنْ مَكَانِي هَذَا " ، ثُمَّ قَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ " وَضَرَبَ ضَرْبَةً أُخْرَى فَقَطَعَ بَقِيَّةَ الْحَجَرِ ، فَقَالَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ ، أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ الْيَمَنِ ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأُبْصِرُ أَبْوَابَ صَنْعَاءَ مِنْ مَكَانِي هَذَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مَيْمُونُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خندق کھودنے کا حکم دیا ، خندق میں ایک جگہ ایک چٹان ہمارے سامنے آئی ، جس پر پھاؤڑے کا اثر نہیں ہوتا تھا ، لوگوں نے اس کی شکایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ۔ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ، روایت میں یہ الفاظ ہیں : آپ نے اپنا کپڑا رکھا اور آپ چٹان پر چڑھ گئے ، آپ نے پھاؤڑا پکڑا اور پھر فرمایا : اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، پھر آپ نے ایک ضرب لگائی ، تو پتھر ( یعنی چٹان ) کا ایک تہائی حصہ ٹوٹ گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ اکبر ! مجھے شام کی کنجیاں عطا کر دی گئی ہیں ۔ اللہ کی قسم ! میں اپنی اس جگہ سے وہاں کے سرخ محلات دیکھ رہا ہوں ، پھر آپ نے فرمایا : اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، اور آپ نے دوسری ضرب لگائی ، تو اس کا مزید ایک تہائی حصہ ٹوٹ گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ اکبر ! مجھے فارس کی چابیاں عطا کر دی گئی ہیں ، اور میں مختلف شہروں کو ( یا مدائن نامی شہر کو ) دیکھ رہا ہوں ، اور میں اپنی اس جگہ سے ، وہاں کے سفید محل کو دیکھ رہا ہوں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، پھر آپ نے ایک اور ضرب لگائی اور بقیہ پتھر کو بھی توڑ دیا ، آپ نے فرمایا : اللہ اکبر ! مجھے یمن کی چابیاں عطا کر دی گئی ہیں ، اور میں اپنی اس جگہ پر کھڑا ہوا صنعاء کے دروازوں کو دیکھ رہا ہوں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی میمون ابوعبداللہ ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10138
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1685) اخرجه احمد فى المسند (303/4)»
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْخَنْدَقِ فَخَنْدَقَ عَلَى الْمَدِينَةِ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا وَجَدْنَا صَفَاةً لَا نَسْتَطِيعُ حَفْرَهَا ، فَقَامَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقُمْنَا مَعَهُ ، فَلَمَّا أَتَى أَخَذَ الْمِعْوَلَ فَضَرَبَ بِهِ ضَرْبَةً وَكَبَّرَ ، فَسَمِعْتُ هَزَّةً لَمْ أَسْمَعْ مِثْلَهَا قَطُّ ، فَقَالَ : " فُتِحَتْ فَارِسُ " ، ثُمَّ ضَرَبَ أُخْرَى وَكَبَّرَ ، فَسَمِعْتُ هَزَّةً لَمْ أَسْمَعْ مِثْلَهَا قَطُّ ، فَقَالَ : " فُتِحَتِ الرُّومُ " ، ثُمَّ ضَرَبَ أُخْرَى وَكَبَّرَ ، فَسَمِعْتُ هَزَّةً لَمْ أَسْمَعْ مِثْلَهَا قَطُّ ، فَقَالَ : " جَاءَ اللَّهُ بِحِمْيَرَ أَعْوَانًا وَأَنْصَارًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خندق کھودنے کا حکم دیا ، تو مدینہ کے اردگرد خندق کھود دی گئی ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے سامنے ایک چٹان آ گئی ہے ، جسے ہم کھودنے ( یعنی توڑنے ) کی استطاعت نہیں رکھتے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھے ، آپ کے ساتھ ہم بھی اُٹھ گئے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ نے پھاؤڑا پکڑا ، تو اس کے ذریعے ضرب لگائی اور تکبیر کہی ، تو میں نے ایک ایسی آواز سنی کہ میں نے اُس طرح کی آواز کبھی نہیں سنی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : فارس فتح ہو گیا ، پھر آپ نے تکبیر کہہ کر ایک اور ضرب لگائی ، تو میں نے ایک آواز سنی ، میں نے اُس طرح کی آواز کبھی نہیں سنی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : روم فتح ہو گیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہہ کر ایک اور ضرب لگائی ، تو میں نے ایک آواز سنی ، میں نے اس طرح کی آواز کبھی نہیں سنی تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جمیر ( قبیلے کے لوگ ) مددگار اور ساتھی بن کر آ گئے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک میں ، ایک راوی حیی بن عبداللہ ہے ، جسے ابن معین نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10139
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : احْتَفَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْخَنْدَقَ وَأَصْحَابُهُ قَدْ شَدُّوا الْحِجَارَةَ عَلَى بُطُونِهِمْ مِنَ الْجُوعِ ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " هَلْ دُلِلْتُمْ عَلَى أَحَدٍ يُطْعِمُنَا أَكَلَةً ؟ " ، قَالَ رَجُلٌ : نَعَمْ ، قَالَ : " أَمَّا لَا فَتَقَدَّمْ ، فَدُلَّنَا عَلَيْهِ " ، فَانْطَلَقُوا إِلَى رَجُلٍ فَإِذَا هُوَ فِي الْخَنْدَقِ يُعَالِجُ نَصِيبَهُ مِنْهُ ، فَأَرْسَلَتِ امْرَأَتُهُ أَنْ جِئْ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ أَتَانَا ، فَجَاءَ الرَّجُلُ يَسْعَى فَقَالَ : بِأَبِي وَأُمِّي وَلَهُ مَعْزَةٌ وَمَعَهَا جَدْيُهَا ، فَوَثَبَ إِلَيْهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْجَدْيُ مِنْ وَرَائِنَا " فَذَبَحَ الْجَدْيَ ، وَعَمَدَتِ امْرَأَتُهُ إِلَى طَحِينَةٍ لَهَا فَعَجَنَتْهَا وَخَبَزَتْ وَأَدْرَكَتِ الْقِدْرَ وَثَرَدَتْ قَصْعَتَهَا ، فَقَرَّبَتْهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابِهِ ، فَوَضَعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِصْبَعَهُ فِيهَا ، فَقَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ ، اللَّهُمَّ بَارِكْ فِيهَا ، اللَّهُمَّ بَارِكْ فِيهَا ، اطَّعِمُوا " ، فَأَكَلُوا مِنْهَا حَتَّى صَدَرُوا ، وَلَمْ يَأْكُلُوا مِنْهَا إِلَّا ثُلُثَهَا وَبَقِيَ ثُلُثَاهَا ، فَسَرَحَ أُولَئِكَ الْعَشَرَةُ الَّذِينَ كَانُوا مَعَهُ : أَنِ اذْهَبُوا وَسَرِّحُوا إِلَيْنَا نُغَدِّيكُمْ ، فَذَهَبُوا وَجَاءَ أُولَئِكَ الْعَشْرَةُ مَكَانَهُ فَأَكَلُوا مِنْهَا حَتَّى شَبِعُوا ، ثُمَّ قَامَ وَدَعَا لِرَبَّةِ الْبَيْتِ وَشَمَتَ عَلَيْهَا وَعَلَى أَهْلِهَا ، ثُمَّ مَشَوْا إِلَى الْخَنْدَقِ ، فَقَالَ : " اذْهَبُوا بِنَا إِلَى سَلْمَانَ " ، وَإِذَا صَخْرَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ قَدْ ضَعُفَ عَنْهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَصْحَابِهِ " دَعُونِي فَأَكُونَ أَوَّلَ مَنْ ضَرَبَهَا " ، فَقَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ " فَضَرَبَهَا فَوَقَعَتْ فِلْقَةُ ثُلُثِهَا ، فَقَالَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ ، قُصُورُ الرُّومِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ " ، ثُمَّ ضَرَبَ أُخْرَى فَوَقَعَتْ فِلْقَةٌ ، فَقَالَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ قُصُورُ فَارِسَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ " ، فَقَالَ عِنْدَهَا الْمُنَافِقُونَ : نَحْنُ بِخَنْدَقٍ عَلَى أَنْفُسِنَا ] وَهُوَ يَعِدُنَا قُصُورَ فَارِسَ وَالرُّومِ ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ، وَنُعَيْمٍ الْعَنْبَرِيِّ ، وَهُمَا ثِقَتَانِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب خندق کھود رہے تھے ، اُن حضرات نے بھوک کی شدت کی وجہ سے پتھر باندھے ہوئے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ملاحظہ فرمائی ، تو آپ نے فرمایا : کیا تمہاری رہنمائی کسی ایسے شخص کی طرف کی جا سکتی ہے ؟ جو ہمیں کھانا کھلا دے ؟ ایک صاحب نے کہا: جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہے ، تم آگے آؤ اور اس کے بارے میں ہماری رہنمائی کر دو ، پھر وہ لوگ اس شخص کے پاس گئے ، وہ خندق میں موجود تھا ، اور اپنے حصے کا کام کر رہا تھا ، اُس نے اپنی بیوی کو پیغام بھیجا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائیں گے ، پھر وہ شخص دوڑتا ہوا آیا اور بولا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، میرے پاس ایک بکری ہے اور ایک بکیر کا بچہ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بکری کا بچہ ہمارے پیچھے ہے ، تو اس نے بکری کے بچے کو ذبح کر دیا ، پھر اس کی بیوی آٹا گوندھنے لگی اس نے گوندھ لیا اور روٹی پکا لی ، اسی دوران ہنڈیا تیار ہو گئی ، تو اس نے ثرید تیار کیا اُسے پیالے میں رکھا اور اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اور آپ کے اصحاب کے سامنے پیش کر دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں اس میں ڈالیں اور فرمایا : اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، اے اللہ ! اس میں برکت رکھ دے ، اے اللہ ! اس میں برکت رکھ دے ! ( پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا : ) تم لوگ کھاؤ ! ان لوگوں نے اس میں سے کھایا اور جب وہ لوگ اُٹھ کر واپس گئے تو وہ اس کا صرف ایک تہائی حصہ کھا سکے تھے ، اس کا دو تہائی حصہ باقی تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن دس افراد کو جو آپ کے ساتھ تھے انہیں رخصت کیا اور فرمایا : تم لوگ جاؤ ، اور اپنے جتنی تعداد کے افراد ہماری طرف بھجوا دو ! وہ لوگ گئے ، اور ان کی جگہ دوسرے دس افراد آ گئے انہوں نے بھی کھانا کھایا ، یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے ، اور اُٹھ گئے ، انہوں نے گھر کے مالک کے لئے دعا کی ، اُسے اور اس کی بیوی کو دعائیں دیں ، پھر وہ لوگ خندق کی طرف چلے گئے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہمارے ساتھ سلمان کی طرف چلو ! وہاں آپ کے سامنے ایک چٹان موجود تھی ، جسے وہ توڑ نہیں پائے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا : مجھے موقع دو ! تاکہ میں اس پر ضرب لگاؤں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ضرب لگائی ، تو اس کا ایک تہائی حصہ ٹوٹ گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ اکبر ! رب کعبہ کی قسم ! روم کے محلات ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور ضرب لگائی ، تو اس کا ایک اور حصہ ٹوٹ گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ اکبر ! رب کعبہ کی قسم ! فارس کے محلات ، اُس وقت منافقین نے کہا: ہم خندق خود کھود رہے ہیں ، اور یہ ہمارے ساتھ فارس اور روم کے محلات کا وعدہ کر رہے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن أحمد بن حنبل اور نعیم عنبری کا معاملہ مختلف ہے اور یہ دونوں ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10140
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12052)»
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : جَاءَ الْحَارِثُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : نَاصِفْنَا تَمْرَ الْمَدِينَةِ ، وَإِلَّا مَلَأْتُهَا عَلَيْكَ خَيْلًا وَرِجَالًا ، فَقَالَ : " حَتَّى أَسْتَأْمِرَ السُّعُودَ : سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ ، وَسَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ " يَعْنِي : يُشَاوِرُهُمَا ، فَقَالَا : لَا وَاللَّهِ ، مَا أُعْطِينَا الدَّنِيَّةَ مِنْ أَنْفُسِنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَكَيْفَ وَقَدْ جَاءَ اللَّهُ بِالْإِسْلَامِ ؟ ! فَرَجَعَ إِلَى الْحَارِثِ فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ : غَدَرْتَ يَا مُحَمَّدُ ، قَالَ : فَقَالَ حَسَّانُ : ¤ يَا حَارِ مَنْ يَغْدِرْ بِذِمَّةِ جَارِهِ مِنْكُمْ فَإِنَّ مُحَمَّدًا لَا يَغْدِرْ إِنْ تَغْدِرُوا فَالْغَدْرُ مِنْ عَادَاتِكُمْ ¤ وَاللُّؤْمُ يَنْبُتُ فِي أُصُولِ السَّخْبَرِ وَأَمَانَةُ النَّهْدِيِّ حِينَ لَقِيتُهَا ¤ مِثْلُ الزُّجَاجَةِ صَدْعُهَا لَا يُجْبَرُ ¤ قَالَ : فَقَالَ الْحَارِثُ : كُفَّ عَنَّا يَا مُحَمَّدُ لِسَانَ حَسَّانَ ، فَلَوْ مُزِجَ بِهِ مَاءُ الْبَحْرِ لَمُزِجَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ . ¤ وَلَفْظُهُ : عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : جَاءَ الْحَارِثُ الْغَطَفَانِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، شَاطِرْنَا تَمْرَ الْمَدِينَةِ ، فَقَالَ : " حَتَّى أَسْتَأْمِرَ السُّعُودَ " ، فَبَعَثَ إِلَى سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، وَسَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ، وَسَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ ، وَسَعْدِ بْنِ خَيْثَمَةَ ، وَسَعْدِ بْنِ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ : " إِنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ الْعَرَبَ قَدْ رَمَتْكُمْ عَنْ قَوْسٍ وَاحِدَةٍ ، وَإِنَّ الْحَارِثَ سَأَلَكُمْ تُشَاطِرُوهُ تَمْرَ الْمَدِينَةِ ، فَإِنْ أَرَدْتُمْ أَنْ تَدْفَعُوهُ عَامَكُمْ هَذَا فِي أَمْرِكُمْ بَعْدُ ؟ " . فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُوحِيَ مِنَ السَّمَاءِ فَالتَّسُلَيْمُ لِأَمْرِ اللَّهِ ، أَوْ عَنْ رَأْيِكَ وَهَوَاكَ ؟ فَرَأْيُنَا نَتَّبِعُ هَوَاكَ وَرَأْيَكَ ؟ فَإِنْ كُنْتَ إِنَّمَا تُرِيدُ الْإِبْقَاءَ عَلَيْنَا ، فَوَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتَنَا وَإِيَّاهُمْ عَلَى سَوَاءٍ ، مَا يَنَالُونَ مِنَّا تَمْرَةً إِلَّا شِرَاءً أَوْ قِرًى ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هُوَ ذَا ، تَسْمَعُونَ مَا يَقُولُونَ ؟ " ، قَالُوا : غَدَرْتَ يَا مُحَمَّدُ ، فَقَالَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ - رِضَى اللَّهِ عَنْهُ : ¤ ¤ يَا حَارِ مَنْ يَغْدِرْ بِذِمَّةِ جَارِهِ مِنْكُمْ فَإِنَّ مُحَمَّدًا لَا يَغْدِرُ ¤ وَأَمَانَةُ الْمُرِّيِّ حِينَ لَقِيتُهَا كَسْرُ الزُّجَاجَةِ صَدْعُهَا لَا يُجْبَرُ ¤ إِنْ تَغْدِرُوا فَالْغَدْرُ مِنْ عَادَاتِكُمْ وَاللُّؤْمُ يَنْبُتُ فِي أُصُولِ السَّخْبَرِ ¤ . ¤ وَرِجَالُ الْبَزَّارِ وَالطَّبَرَانِيِّ فِيهِمَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حارث ( غطفانی ) ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: مدینہ کی کھجوروں کا نصف ہمیں دیں ، ورنہ میں آپ کے خلاف گھڑ سواروں اور پیادہ افراد کو اکٹھا کر لوں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے سعد نامی افراد سے مشورہ کر لینے دو ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد ، سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ تھے ، اُن دونوں نے عرض کی : جی نہیں ! اللہ کی قسم ! ہم نے تو زمانہ جاہلیت میں ، اپنی ذات کے حوالے سے کبھی کمتر ہونے کو منظور نہیں کیا تو اس وقت کیسے ہو سکتا ہے ؟ جبکہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کی دولت عطا کر دی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حارث کے پاس واپس تشریف لائے اور اُسے اس بارے میں بتایا ، تو اس نے کہا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! آپ نے عہد شکنی کی ہے ۔ راوی کہتے ہیں : تو سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں یہ اشعار کہے : ” اے حارث ! پناہ دینے والے کی پناہ کی تم سے زیادہ عہد شکنی اور کون کرتا ہے ، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو عہد شکنی نہیں کرتے ہیں ، اگر تم لوگ عہد شکنی کرتے ہو تو عہد شکنی تمہاری عادتوں کا حصہ ہے ، اور کمینگی ، سخبر کی جڑوں میں اگتی ہے ، اور نہدی کی امانت سے جب میں ملا تو وہ شیشے کی مانند تھی جو ٹوٹ جائے تو اس کو جوڑا نہیں جا سکتا “ ۔ راوی کہتے ہیں ؟ تو حارث نے کہا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! حسان کی زبان ہمارے حوالے سے روک کے رکھیں ! کیونکہ اگر اسے سمندر کے پانی میں ملا دیا جائے ، تو یہ اسے بھی کڑوا کر دے ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ان کی روایت کے الفاظ یہ ہیں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حارث غطفانی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! مدینہ کی کھجوروں کا نصف ہمیں دو ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں ، پہلے سعد نامی افراد سے مشورہ کر لوں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سعد بن معاذ ، سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ ، سیدنا سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ ، سیدنا سعد بن خیثمہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا سعد بن مسعود رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا اور بلوایا ، آپ نے ارشاد فرمایا : میں یہ بات جانتا ہوں کہ عرب ایک کمان سے تم پر تیر اندازی کریں گے ، حارث نے تم سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ تم مدینہ کی کھجوروں کا نصف اسے دیدو ، اگر تم اس سال یہ ادائیگی اُسے کر دیتے ہو ، تو بعد میں یہ تمہارے معاملے میں بہتر رہے گا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا یہ آسمان کی طرف سے آنے والی وحی ہے ؟ اگر ایسا ہے ، تو ہم اللہ کے حکم کو تسلیم کرتے ہیں ، یا پھر یہ آپ کی ذاتی رائے اور آپ کی خواہش ہے ، تو ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں آپ کی خواہش اور آپ کی رائے کی پیروی کرنی چاہیے ، اور اگر آپ کا مقصد ہماری بقاء کا خیال رکھنا ہے ، تو اللہ کی قسم ! اپنے بارے میں اور ان لوگوں کے بارے میں ہم یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہم سے کھجوریں صرف اس صورت میں لے سکتے ہیں ، جب وہ ہم سے خریدیں یا وہ ( ہمارے ) مہمان بنیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ سن رہے ہو ؟ کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں ؟ تو ان لوگوں نے کہا: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! آپ نے عہد شکنی کی ہے ۔ تو سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار کہے : ” اے حارث ! پناہ دینے والے کی پناہ کی تم سے زیادہ عہد شکنی اور کون کرتا ہے ، سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو عہد شکنی نہیں کرتے ہیں ، اور مری کی امانت سے جب میں ملا تو وہ شیشے کی مانند تھی جو ٹوٹ جائے تو اس کو جوڑا نہیں جا سکتا اگر تم لوگ عہد شکنی کرتے ہو تو عہد شکنی تمہاری عادتوں کا حصہ ہے ، اور کمینگی ، سخبر کی جڑوں میں اگتی ہے “ ۔ امام بزار اور امام طبرانی کے رجال میں ، ایک راوی محمد بن عمرو ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10141
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1803)»
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ : " ¤ وَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا صُمْنَا وَلَا صَلَّيْنَا فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا ¤ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ خندق کے دن ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ اشعار پڑھ رہے تھے : ” اللہ کی قسم ! اگر اللہ تعالیٰ کی ذات نہ ہوتی ، تو ہم نے ہدایت حاصل نہیں کرنی تھی ، ہم نے روزے نہیں رکھنے تھے اور ہم نے نماز نہیں پڑھنی تھی ، ( اے اللہ ! ) تو ہم پر سکینت نازل فرما ! “ ۔
یہ روایت امام بزار اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10142
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزارقي المسند (1804) اخرجها ابو يعلى فى المسند (3410 و 3395)»
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : مَا نَسِيتُ قَوْلَهُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ يُعَاطِيهِمُ اللَّبَنَ قَدِ اغْبَرَّ شَعْرُ صَدْرِهِ وَهُوَ يَقُولُ : " ¤ اللَّهُمَّ إِنِ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : مجھے غزوہ خندق کے دن ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ نہیں بھولے ، آپ اُن لوگوں کو اینٹیں پکڑا رہے تھے ، آپ کے سینے کا حصہ غبار آلود ہو چکا تھا ، اور آپ یہ کہہ رہے تھے : اے اللہ ! بھلائی ، صرف آخرت کی بھلائی ہے ، تو انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما دے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ،
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10143
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (2516 و 4570) اخرجه احمد فى المسند (289/6)»
وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ : لَمْ يَكُنْ حِصْنٌ أَحْصَنَ مِنْ حِصْنِ بَنِي حَارِثَةَ ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - النِّسَاءَ وَالصِّبْيَانَ وَالذَّرَارِيَ فِيهِ ، وَقَالَ : إِنْ أَلَمَّ بِكُنَّ أَحَدٌ فَالْمَعْنَ بِالسَّيْفِ " . ¤ فَجَاءَهُنَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِي ثَعْلَبَةَ بْنِ سَعْدٍ يُقَالُ لَهُ : نَجْدَانُ ، أَحَدُ بَنِي حَشَّاشٍ عَلَى فَرَسٍ حَتَّى كَانَ فِي أَصْلِ الْحِصْنِ ، ثُمَّ جَعَلَ يَقُولُ لِلنِّسَاءِ : انْزِلْنَ إِلَيَّ خَيْرٌ لَكُنَّ ، فَحَرَّكْنَ السَّيْفَ فَأَبْصَرَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَابْتَدَرَ الْحِصْنَ قَوْمٌ فِيهِمْ رَجُلٌ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ ، يُقَالُ لَهُ : ظُهَيْرُ بْنُ رَافِعٍ ، فَقَالَ : يَا نَجْدَانُ ، ابْرُزْ فَبَرَزَ إِلَيْهِ ، فَحَمَلَ عَلَيْهِ فَرَسَهُ فَقَتَلَهُ ، وَأَخَذَ رَأْسَهُ فَذَهَبَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بنو حارثہ کے قلعے سے زیادہ مضبوط قلعہ اور کوئی نہیں تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین ، بچوں اور قیدیوں کو اس میں رکھا اور ارشاد فرمایا : اگر کوئی تمہاری طرف آنے کی کوشش کرے ، تو اسے تلوار کے ذریعے روکنا ، بنو ثعلبہ بن سعد سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ، جس کا نام نجدان تھا ، وہ ان خواتین کی طرف آیا ، وہ گھوڑے پر سوار ہو کے آیا تھا ، یہاں تک کہ جب وہ قلعے کی بنیاد کے پاس پہنچا ، تو اس نے خواتین سے کہنا شروع کیا کہ تم اُتر کر میری طرف آ جاؤ ، ان خواتین نے تلوار کو حرکت دی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے اُسے دیکھ لیا ، وہ تیزی سے قلعے کی طرف گئے ، اُن لوگوں میں بنو حارثہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص بھی تھا ، جس کا نام ظہیر بن رافع تھا ، اس نے کہا: اے نجدان ! سامنے آؤ ، وہ نکل کر اس کے سامنے آیا ، اس نے اپنے گھوڑے کے ذریعے اس پر حملہ کر کے اسے قتل کیا ، اُس کا سر پکڑا اور اُسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10144
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4378)»
وَعَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ إِلَى الْخَنْدَقِ ، فَجَعَلَ نِسَاءَهُ وَعَمَّتَهُ صَفِيَّةَ فِي أُطُمٍ يُقَالُ لَهُ : فَارِعٌ ، وَجَعَلَ مَعَهُمْ حَسَّانَ بْنَ ثَابِتٍ ، وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى أُحُدٍ ، فَرَقِيَ يَهُودِيٌّ حَتَّى أَشْرَفَ عَلَى نِسَاءِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَى عَمَّتِهِ ، فَقَالَتْ صَفِيَّةُ : يَا حَسَّانُ ، قُمْ إِلَيْهِ حَتَّى تَقْتُلَهُ قَالَ : وَاللَّهِ مَا ذَاكَ فِيَّ ، وَلَوْ كَانَ ذَاكَ فِيَّ لَخَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ صَفِيَّةُ : فَارْبُطِ السَّيْفَ عَلَى ذِرَاعِي قَالَ : ثُمَّ تَقَدَّمَتْ إِلَيْهِ حَتَّى قَتَلَتْهُ وَقَطَعَتْ رَأْسَهُ ، فَقَالَتْ لَهُ : خُذِ الرَّأْسَ فَارْمِ بِهِ عَلَى الْيَهُودِ قَالَ : مَا ذَاكَ فِيَّ ، فَأَخَذَتْ هِيَ الرَّأْسَ فَرَمَتْ بِهِ عَلَى الْيَهُودِ ، فَقَالَتِ الْيَهُودُ : قَدْ عَلِمْنَا أَنَّ مُحَمَّدًا لَمْ يَكُنْ يَتْرُكُ أَهْلَهُ خُلُوفًا لَيْسَ مَعَهُمْ أَحَدٌ ، فَتَفَرَّقُوا وَذَهَبُوا ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَمَرَّ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ وَهُوَ يَقُولُ : ¤ مَهْلًا قَلِيلًا يُدْرِكُ الْهَيْجَا جَمَلْ لَا بَأْسَ بِالْمَوْتِ إِذَا حَانَ الْأَجَلْ قَالَتْ : وَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَجْمَلَ مِنْهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ ، وَكَانَ عَلَيْهِ أَثَرُ صُفْرَةٍ ، وَكَانَ عَلَيْهِ دِرْعٌ مُقَلَّصَةٌ ، وَقَدْ تَزَوَّجَ فَبَنَى بِأَهْلِهِ قَبْلَ ذَلِكَ فَعَلَيْهِ أَثَرُ زَعْفَرَانَ . ¤ قَالَ : وَكَانَ حَسَّانُ إِذَا شَدَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْكُفَّارِ يَفْتَحُ الْأُطُمَ ، وَإِذَا كَرُّوا رَجَعَ مَعَهُمْ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ ، وَقَالَ : فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَضَرَبَ لِصَفِيَّةَ بِسَهْمٍ كَمَا كَانَ يَضْرِبُ لِلرِّجَالِ . وَإِسْنَادُهُمَا ضَعِيفٌ ، وَقَدْ تَقَدَّمَ الْحَدِيثُ مِنْ رِوَايَةِ صَفِيَّةَ فِي وَقْعَةِ أُحُدٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خندق کی طرف تشریف لے گئے ، آپ نے اپنی ازواج ، اپنی پھوپھی سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو ایک بلند عمارت میں رکھا ، جس کا نام ” فارع “ تھا ، آپ نے ان کے ساتھ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو رکھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم احد کی طرف تشریف لے گئے ، ایک یہودی چڑھ کر خواتین کے پاس اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی کے پاس پہنچنے لگا ، تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے حسان ! تم اٹھ کر اس کے پاس جاؤ ، اور اسے قتل کر دو ، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ! میرے اندر یہ ہمت نہیں ہے اگر میرے اندر یہ چیز ہوتی ، تو میں اللہ کے رسول کے ساتھ چلا جاتا ، سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے کہا: پھر تم تلوار مجھے دو ۔ راوی کہتے ہیں : پھر سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا اس کے پاس گئیں اور اسے قتل کر دیا ، انہوں نے اس کا سر کاٹا اور سیدنا حسان رضی اللہ عنہ سے کہا: تم یہ سر لو ، اور اسے یہودیوں پر پھینک دو ، انہوں نے کہا: یہ میں کیسے کر سکتا ہوں ؟ تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے وہ سر لیا اور اسے خود یہودیوں پر پھینک دیا ، تو یہودیوں نے کہا: ہمیں یہ پتہ ہے کہ سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنے اہل خانہ کو ایسے نہیں چھوڑیں گے کہ ان کے ساتھ کوئی نہ ہو ، تو وہ لوگ ادھر ادھر بکھر گئے ، اور چلے گئے ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا وہ یہ کہہ رہے تھے : ” تھوڑا سا وقت رہ گیا ہے ، پھر اونٹ جنگ تک پہنچ جائے گا ، اور جب ( آخری ) وقت آ جائے تو موت میں کوئی حرج نہیں ہے “ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : اس دن ، میں نے ان سے زیادہ تیار شخص کوئی نہیں دیکھا ، ان پر زرد رنگ کا نشان موجود تھا ، اور انہوں نے عمدہ قمیص پہنی ہوئی تھی ، ان کی شادی ہوئی تھی ، کچھ عرصہ پہلے انہوں نے رخصتی کروائی تھی ، تو ان پر زعفران کا نشان موجود تھا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کفار پر حملہ آور ہوئے ، تو سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے عمارت کا دروازہ کھول دیا اور جب وہ لوگ پلٹ گئے ، تو وہ ان کے ساتھ واپس آ گئے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں پتہ چلا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے لئے بھی ایک حصہ مقرر کیا ، جس طرح آپ نے مردوں کے لئے حصہ مقرر کیا تھا ۔ ان دونوں روایات کی سند ضعیف ہے ۔ اس سے پہلے واقعہ احد سے متعلق باب میں ، سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی نقل کردہ روایت پہلے گزر چکی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10145
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1807)»
وَعَنْ عُرْوَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَدْخَلَ نِسَاءَهُ يَوْمَ الْأَحْزَابِ أُطُمًا مِنْ آطَامِ الْمَدِينَةِ ، وَكَانَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ رَجُلًا جَبَانًا ; فَأَدْخَلَهُ مَعَ النِّسَاءِ ، فَأَغْلَقَ الْبَابَ ، فَجَاءَ يَهُودِيٌّ فَقَعَدَ عَلَى بَابِ الْأُطُمِ ، فَقَالَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ : انْزِلْ يَا حَسَّانُ إِلَى هَذَا الْعِلْجِ فَاقْتُلْهُ ، فَقَالَ : مَا كُنْتُ لِأَجْعَلَ نَفْسِي خَطَرًا لِهَذَا الْعِلْجِ ، فَأْتَزَرَتْ بِكِسَاءٍ وَأَخَذَتْ فِهْرًا ، فَنَزَلَتْ إِلَيْهِ فَقَطَعَتْ رَأْسَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ إِلَى عُرْوَةَ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَلَكِنَّهُ مُرْسَلٌ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بیان کرتے ہیں : غزوہ احزاب کے موقع پر ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو مدینہ منورہ کی ، ایک بلند عمارت میں داخل کروا دیا ، سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ ایک کمزور دل کے شخص تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی خواتین کے ساتھ رکھا ، انہوں نے دروازہ بند کر دیا ، ایک یہودی آیا اور اس عمارت کے دروازے پر بیٹھ گیا ، سیدہ صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا نے کہا: اے حسان ! اُتر کر اس نالائق کی طرف جاؤ ، اور اسے قتل کر دو ، انہوں نے کہا: میں اس نالائق کو قتل کرنے کے قابل نہیں ہوں ، تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے چادر اوڑھی ، فہر ( دوا پیسنے کا پتھر ) لیا ، اتر کر اس کے پاس گئیں اور اس کا سر کاٹ دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور عروہ تک اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، تاہم
یہ روایت ” مرسل “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10146
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ مرسل
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (319/24)»
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَنْزَى أَخِي عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ فَرَسَهُ خَنْدَقًا ، فَضَرَبَ الْفَرَسَ ، فَدَقَّ جِدَارُ الْخَنْدَقِ سَاقَهُ ، فَأَتَيْنَا بِهِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى فَرَسِهِ ، فَمَسَحَ سَاقَهُ فَمَا نَزَلَ عَنْهَا حَتَّى بَرَأَ . ¤ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ فِي قَصِيدَةٍ لَهُ : ¤ فَأَنْزَاهَا عَلَيَّ فَهْيَ تَهْوِي هَوَى الدَّلْوِ مُتَرَّعَةً بِسُدْلِ صُفُوفَ الْخَنْدَقَيْنِ فَأَهْرَقَتْهُ ¤ هَوِيَّةَ مُظْلِمِ الْحَالَيْنِ عَمْلِ فَعَصَّبَ رِجْلَهُ فَمَشَى عَلَيْهَا ¤ سُمُوَّ الصَّقْرِ صَادَفَ يَوْمَ طَلِّ فَقَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّى عَلَيْهِ ¤ مَلِيكُ النَّاسِ : هَذَا خَيْرُ فِعْلِ لَعًا لَكَ فَاسْتَمَرَّ بِهَا سَوِيًّا ¤ وَكَانَتْ بَعْدَ ذَاكَ أَصَحَّ رِجْلِ . ¤ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ : يُقَالُ إِذَا عَثَرَتِ النَّاقَةُ : لَعًا لَكِ ؛ أَيِ : ارْتَفِعِي وَاسْتَعْلِي ، قَالَ الْأَعْشَى : ¤ بِذَاتِ لَوْثٍ عَقَرْنَاهُ إِذَا عَثَرَتْ فَالنَّعْشُ أَدْنَى لَهَا مِنْ أَنْ يُقَالَ لَعَا ¤ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، میرے بھائی علی بن حکم نے اپنے گھوڑے کے ذریعے خندق کو عبور کرنا چاہا ، تو گھوڑا خندق کی دیوار سے ٹکرایا اور میرے بھائی کی پنڈلی ٹوٹ گئی ، ہم اسے گھوڑے پر سوار کر کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پنڈلی پر ہاتھ پھیرا ، تو وہ گھوڑے پر سے اترنے سے پہلے ہی ٹھیک ہو چکا تھا ، سیدنا معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں ایک قصیدہ کہا: ہے ( جس کے اشعار یہ ہیں : ) ” اس نے اس کو چھلانگ لگوانا چاہی ، تو وہ نیچے آ رہا جس طرح کوئی بھرا ہوا ڈول لٹکانے سے نیچے آتا ہے ، اس نے خندق کو پار کرنا چاہا ، لیکن تاریک صورتحال والی بھنبھناہٹ نے اس کو نیچے گرا دیا ، اس شخص نے اپنی ٹانگ پر پٹی باندھی اور اس پر یوں چلنے لگا جس طرح تیز بارش والے دن شکرا جاتا ہے ، تو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، ان پر درود ہو ، جو لوگوں کے بادشاہ ہیں ، انہوں نے فرمایا : یہ اچھا فعل ہے ، تم اُٹھو اور اس ( ٹانگ ) کو سیدھا کر کے چلو ، تو وہ ٹانگ اس کے بعد سب سے بہتر ٹانگ کی حالت میں تھی “ ۔ محمد بن عبادہ بیان کرتے ہیں : جب اونٹنی کو ٹھوکر لگتی ہے ، تو اس کے لئے یہ لفظ کہا: جاتا ہے : ” لعالک “ یعنی تم اُٹھ جاؤ ، اوپر آ جاؤ ! اعشی نامی شخص نے یہ اشعار کہے ہیں : ” وہ ( اونٹنی ) کمزوری والی تھی ، جب اس کو ٹھوکر لگی تو ہم نے اس کو ذبح کر دیا ، کیونکہ اس کے لیے لاش بن جانا اس سے زیادہ موزوں تھا کہ یہ کہا: جائے : تم اُٹھو ! “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں اور ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن حبان نے اُسے ثقہ کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10147
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مَالِكِ بْنِ وَهْبٍ الْخُزَاعِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ; أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ سَلِيطًا ، وَسُفْيَانَ بْنَ عَوْفٍ الْأَسْلَمِيَّ طَلِيعَةَ يَوْمِ الْأَحْزَابِ ، فَخَرَجَا حَتَّى إِذَا كَانَا بِالْبَيْدَاءِ الْتَفَّتْ عَلَيْهِمْ خَيْلٌ لِأَبِي سُفْيَانَ ، فَقَاتَلَا حَتَّى قُتِلَا ، فَأُتِيَ بِهِمَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدُفِنَا فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ ، فَهُمَا الشَّهِيدَانِ الْقَرِيبَانِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
عبدالعزیز بن ابوبکر بن مالک بن وہب خزاعی ، اپنے والد کے حوالے سے ، اپنے دادا کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سلیط رضی اللہ عنہ اور سیدنا سفیان بن عوف اسلمی رضی اللہ عنہ کو غزوہ احزاب کے موقع پر جاسوسی کے لئے بھیجا ، یہ دونوں حضرات نکلے ، جب یہ ” بیداء “ کے مقام پر پہنچے ، تو ابوسفیان کے کچھ گھڑ سوار انہیں ملے ، ان دونوں نے لڑائی کی ، یہاں تک کہ یہ دونوں شہید ہو گئے ، ان دونوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا ، اور ان دونوں کو ایک قبر میں رکھا گیا ، تو یہ دونوں ساتھ شہید ہونے والے دو افراد تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10148
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1805)»
وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ : قِيلَ لِابْنِ عُمَرَ : أَيْنَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي يَوْمَ الْأَحْزَابِ ؟ قَالَ : كَانَ يُصَلِّي فِي بَطْنِ الشِّعْبِ عِنْدَ خَرِبَةٍ هُنَاكَ ، وَلَقَدْ أَذِنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الِانْصِرَافِ لِلنَّاسِ ، ثُمَّ أَمَرَنِي أَنْ أَدْعُوَهُمْ فَدَعَوْتُهُمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
نافع بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا گیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احزاب کے موقع پر نماز کہاں ادا کرتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نشیبی حصے کے درمیان میں موجود ایک پرانی عمارت کے پاس نماز ادا کرتے تھے ، جو وہاں موجود تھی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو واپس جانے کی اجازت دیدی تھی ، پھر آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں انہیں بلاؤں ، تو میں نے انہیں بلا لیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10149
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13370)»
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : بَعَثَنِي خَالِي عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ لِأَبِيهِ بِلِحَافٍ ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاسْتَأْذَنْتُهُ وَهُوَ بِالْخَنْدَقِ ، فَأَذِنَ لِي وَقَالَ : " مَنْ لَقِيتَ فَقُلْ لَهُمْ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَرْجِعُوا " . ¤ وَكَانَ ذَلِكَ فِي بَرْدٍ شَدِيدٍ ، فَخَرَجْتُ وَلَقِيتُ النَّاسَ فَقُلْتُ لَهُمْ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُكُمْ أَنْ تَرْجِعُوا ، قَالَ : فَلَا وَاللَّهِ مَا عَطَفَ عَلِيَّ مِنْهُمُ اثْنَانِ أَوْ وَاحِدٌ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میرے ماموں سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے ، اپنے والد کے لئے ایک لحاف بھیجا ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، میں نے آپ سے اجازت مانگی ، آپ اس وقت خندق میں موجود تھے ، آپ نے مجھے اجازت دیدی ، آپ نے ارشاد فرمایا : تمہاری جس سے ملاقات ہو ، تم اُس سے یہ کہنا : اللہ کے رسول تمہیں یہ حکم دے رہے ہیں کہ تم لوگ واپس آ جاؤ ۔ راوی کہتے ہیں : یہ شدید سردی کی بات ہے ، میں نکلا ، میری لوگوں سے بات ہوئی ، میں نے اُن سے کہا: اللہ کے رسول تمہیں یہ حکم دے رہے ہیں کہ تم لوگ واپس چلے جاؤ ۔ راوی کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! ان میں سے دو یا ایک فرد نے بھی میری بات کا انکار نہیں کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10150
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13369)»
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : خَفِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْخَنْدَقِ إِلَّا عَلَى سِتَّةِ نَفَرٍ : أَرْبَعَةُ نَفَرٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ : طَلْحَةُ ، وَالزُّبَيْرُ ، وَعَلِيٌّ ، وَسَعْدُ ، وَمِنَ الْأَنْصَارِ : أَبُو دُجَانَةَ ، وَالْحَارِثُ بْنُ الصِّمَّةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : غزوہ خندق کے دن ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ( لوگوں کی نگاہوں سے ) اوجھل ہو گئے ، البتہ چھ افراد کا تعلق مختلف ہے چار افراد کا تعلق مہاجرین سے تھا ، وہ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ ، سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ ہیں ، جبکہ انصار سے تعلق رکھنے والے حضرات سیدنا ابودجانہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا حارث بن صمہ رضی اللہ عنہ تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10151
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13410)»
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ بِالْخَنْدَقِ ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَعَاهَدُ ثَغْرَةً مِنَ الْجَبَلِ يَخَافُ مِنْهَا ، فَيَأْتِي فَيَضْطَجِعُ فِي حِجْرِي ثُمَّ يَقُومُ فَيَتَسَمَّعُ ، فَسَمِعَ حِسَّ إِنْسَانٍ عَلَيْهِ الْحَدِيدُ ، فَانْسَلَّ فِي الْجَبَلِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ هَذَا ؟ " . ¤ قَالَ : أَنَا سَعْدٌ ، جِئْتُكَ لِتَأْمُرَنِي بِأَمْرِكَ ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَبِيتَ فِي تِلْكَ الثَّغْرَةِ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حِجْرِي حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : لَا أَنْسَاهَا لِسَعْدٍ . قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَبِيبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھی ، آپ اس وقت خندق میں موجود تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہاڑ کے شگاف کی دیکھ بھال کر رہے تھے ، آپ کو اس کے حوالے سے اندیشہ تھا ، آپ تشریف لائے اور میری گود میں سر رکھ کے لیٹ گئے پھر آپ اُٹھے اور سن گن لینے لگے ، آپ نے کسی انسان کی آہٹ سنی ، جس نے لوہے کا لباس پہنا ہوا تھا ، اور پہاڑ کی طرف آ رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کون ہے ؟ اس نے جواب دیا : میں سعد ہوں ، میں اس لئے آیا ہوں ، تاکہ آپ مجھے کوئی حکم دیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ حکم دیا کہ وہ اس شگاف میں رات بسر کریں ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری گود میں سو گئے ، یہاں تک کہ میں نے آپ کے خراٹوں کی آواز سنی ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : اس کے بعد میں سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے لئے ( دعا کرنا ) کبھی نہیں بھولی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس روایت کا ایک حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عبداللہ بن شبیب کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10152
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1806)»
وَعَنْ سَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْخَنْدَقِ وَرَجُلٌ يَتَتَرَّسُ ، جَعَلَ يَقُولُ بِالتُّرْسِ هَكَذَا ، فَوَضَعَهُ فَوْقَ أَنْفِهِ ، ثُمَّ يَقُولُ هَكَذَا ، يُسْفِلُهُ بَعْدُ ، قَالَ : فَأَهْوَيْتُ إِلَى كِنَانَتِي فَأَخْرَجْتُ مِنْهَا سَهْمًا مُدْمًى ، فَوَضَعْتُهُ فِي كَبِدِ الْقَوْسِ ، فَلَمَّا قَالَ هَكَذَا - يُسْفِلُ التُّرْسَ - رَمَيْتُ فَمَا نَسِيتُ وَقْعَ الْقَدَحِ عَلَى كَذَا وَكَذَا مِنَ التُّرْسِ قَالَ : وَسَقَطَ فَقَالَ بِرِجْلِهِ هَكَذَا ، فَضَحِكَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَحْسَبُهُ قَالَ : حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ - قَالَ : قُلْتُ : لِمَ فَعَلَ ؟ قَالَ : لِفِعْلِ الرَّجُلِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : كَانَ رَجُلٌ مَعَهُ تُرْسَانِ ، وَكَانَ سَعْدٌ رَامِيًا ، فَكَانَ يَقُولُ كَذَا وَكَذَا بِالتُّرْسَيْنِ يُغَطِّي جَبْهَتَهُ ، فَنَزَعَ لَهُ سَعْدٌ بِسَهْمٍ ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ رَمَاهُ ، فَلَمْ يُخْطِ هَذِهِ مِنْهُ - يَعْنِي : جَبْهَتَهُ - . ¤ وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ خندق کے موقع پر ، ایک شخص اپنی ڈھال کے ذریعے بچ رہا تھا ، اور اپنی ڈھال کے ذریعے اس طرح کر رہا تھا ، وہ اسے اپنی ناک پر رکھتا تھا ، پھر اس طرح کرتا تھا ، اُس سے ذرا نیچے کر لیتا تھا ، میں نے اپنے ترکش کی طرف ہاتھ بڑھایا ، اُس میں سے ایک تیر نکالا ، جس پر خون لگا ہوا تھا ، میں نے وہ کمان میں لگایا ، جب اس نے ، اس طرح کیا اور ڈھال کو ذرا نیچے کیا ، تو میں نے تیر چلا دیا ، میں یہ بات نہیں بھولا تھا کہ وہ اتنی ، اتنی دیر میں ڈھال کو کتنی حرکت دے گا ، راوی کہتے ہیں : تو وہ شخص نیچے گر گیا اور اس کا پاؤں اس طرح ہو گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے ۔ راوی کہتے ہیں : یہاں تک کہ آپ کے اطراف کے دانت بھی نظر آنے لگے ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : آپ نے ایسا کیوں کیا تھا ؟ انہوں نے جواب دیا : اس شخص کے طرز عمل کی وجہ سے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اس شخص کے پاس دو ڈھالیں تھیں اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ تیر انداز تھے ، وہ دونوں ڈھالوں کے ذریعے اس ، اس طرح کرتا تھا ، اپنی پیشانی کو چھپاتا تھا ، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے تیر نکالا ، جب اس نے اپنا سر اٹھایا ، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اسے تیر مار دیا ، تو وہ اس کی پیشانی سے خطا نہیں ہوا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ باقی روایت حسب سابق ہے ، ان دونوں روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن محمد بن اسود کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10153
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1808) اخرجه احمد فى المسند (1620)»
وَعَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ النَّاسَ تَفَرَّقُوا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةَ الْأَحْزَابِ ، فَلَمْ يَبْقَ مَعَهُ إِلَّا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا ، فَأَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا جَاثِمٌ مِنَ النَّوْمِ ، فَقَالَ : " يَا ابْنَ الْيَمَانِ ، قُمْ فَانْطَلِقْ إِلَى عَسْكَرِ الْأَحْزَابِ فَانْظُرْ إِلَى حَالِهِمْ " . ¤ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا قُمْتُ لَكَ إِلَّا حَيَاءً مِنَ الْبَرْدِ قَالَ : " انْطَلِقْ يَا ابْنَ الْيَمَانِ ، فَلَا بَأْسَ عَلَيْكَ مِنْ بَرْدٍ وَلَا حَرٍّ حَتَّى تَرْجِعَ لِي " . ¤ فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَتَيْتُ عَسْكَرَهُمْ فَوَجَدْتُ أَبَا سُفْيَانَ يُوقِدُ النَّارَ فِي عُصْبَةٍ حَوْلَهُ ، وَقَدْ تَفَرَّقَ الْأَحْزَابُ عَنْهُ ، فَجِئْتُ حَتَّى أَجْلِسَ فِيهِمْ ، فَحَسَّ أَبُو سُفْيَانَ أَنَّهُ قَدْ دَخَلَ فِيهِمْ مِنْ غَيْرِهِمْ ، فَقَالَ : لِيَأْخُذْ كُلُّ رَجُلٍ مِنْكُمْ بِيَدِ جَلِيسِهِ قَالَ : فَضَرَبْتُ بِيَدِي عَلَى الَّذِي عَنْ يَمِينِي فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ ، ثُمَّ ضَرَبْتُ بِيَدِي عَلَى الَّذِي عَنْ يَسَارِي فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ ، فَلَبِثْتُ فِيهِمْ هُنَيْهَةً ، ثُمَّ قُمْتُ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي ، فَأَوْمَأَ إِلَيَّ أَنْ أَدْنُوَ فَدَنَوْتُ حَتَّى أَرْسَلَ عَلِيَّ مِنَ الثَّوْبِ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ لِيُدْفِئَنِي . ¤ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ قَالَ : " يَا ابْنَ الْيَمَانِ ، اقْعُدْ ؛ مَا خَبَرُ النَّاسِ ؟ " . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ فَلَمْ يَبْقَ إِلَّا فِي عُصْبَةٍ يُوقِدُ النَّارَ ، وَقَدْ صَبَّ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَيْهِمْ مِنَ الْبَرْدِ مِثْلَ الَّذِي صَبَّ عَلَيْنَا ، وَلَكِنَّا نَرْجُو مِنَ اللَّهِ مَا لَا يَرْجُونَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . وَفِي الصَّحِيحِ لِحُذَيْفَةَ حَدِيثٌ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ احزاب کی رات ، لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر ادھر ادھر ہو گئے ، آپ کے ساتھ صرف بارہ افراد باقی رہ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے ، میں اس وقت نیند کے عالم میں تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابن یمان ! تم اُٹھو اور دشمن کے لشکروں کی طرف جاؤ ، اور ان کی صورت حال کا جائزہ لو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، میں صرف سردی کی وجہ سے اُٹھ کر آپ کی طرف آیا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابن یمان ! تم جاؤ تمہیں سردی یا گرمی کے حوالے سے کوئی پریشانی نہیں ہو گی ، جب تک تم واپس نہیں آ جاتے میں گیا ، میں ان لوگوں کے لشکر کے پاس آیا ، تو میں نے ابوسفیان کو پایا کہ اُس نے آگ جلائی ہوئی ہے اور اس کے ارد گرد کچھ افراد موجود ہیں ، باقی لوگ اسے چھوڑ کر ادھر اُدھر ہو چکے ہیں ، میں آیا اور ان لوگوں کے درمیان بیٹھ گیا ، ابوسفیان نے یہ چیز محسوس کر لی کہ ان کے درمیان کوئی ایسا شخص داخل ہوا ہے ، جو ان میں سے نہیں ہے ، تو اس نے کہا: تم میں سے ہر ایک شخص اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص کا ہاتھ پکڑ لے ، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو میں نے اپنا دایاں ہاتھ دائیں طرف موجود شخص پر مارا اور اس کا ہاتھ پکڑ لیا ، پھر میں نے اپنا ہاتھ اپنے بائیں طرف موجود شخص پر مارا اور اس کا ہاتھ پکڑ لیا ، پھر میں کچھ دیران کے درمیان ٹھہرا رہا ، پھر میں اٹھ گیا ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، آپ اس وقت کھڑے ہوئے نماز ادا کر رہے تھے ، آپ نے میری طرف اشارہ کیا کہ میں قریب ہو جاؤں ، میں قریب ہوا ، تو آپ نے میرے اوپر وہ کپڑا ڈال دیا ، جو آپ کے جسم پر موجود تھا ، تاکہ مجھے اُس سے گرمائش حاصل ہو ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے ، تو آپ نے فرمایا : اے ابن یمان ! تم بیٹھ جاؤ ! لوگوں کا کیا معاملہ ہے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! لوگ ابوسفیان کو چھوڑ کر ادھر اُدھر ہو چکے ہیں ، اس کے ساتھ صرف کچھ افراد تھے جنہوں نے آگ جلائی ہوئی تھی ، اللہ تعالیٰ نے ان پر اسی طرح کی سردی نازل کی ہے ، جس طرح کی ہم پر نازل کی ہے ، لیکن ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس چیز کی امید ہے جس کی امید انہیں نہیں ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ ” صحیح “ میں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک حدیث منقول ہے ، جو اس سیاق کے بغیر ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10154
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1809)»
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : خَرَجْتُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ أَقْفُو آثَارَ النَّاسِ ، فَسَمِعْتُ وَئِيدَ الْأَرْضِ مِنْ وَرَائِي - يَعْنِي : حِسَّ الْأَرْضِ - قَالَتْ : فَإِذَا أَنَا بِسَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ وَمَعَهُ ابْنُ أَخِيهِ الْحَارِثُ بْنُ أَوْسٍ يَحْمِلُ مِجَنَّهُ . ¤ قَالَتْ : فَجَلَسْتُ إِلَى الْأَرْضِ ، فَمَرَّ سَعْدٌ وَعَلَيْهِ دِرْعٌ مِنْ حَدِيدٍ قَدْ خَرَجَتْ مِنْهَا أَطْرَافُهُ ، فَأَنَا أَتَخَوَّفُ عَلَى أَطْرَافِ سَعْدٍ ، قَالَتْ : وَكَانَ سَعْدٌ مِنْ أَعْظَمِ النَّاسِ وَأَطْوَلِهِمْ قَالَتْ : فَمَرَّ وَهُوَ يَرْتَجِزُ وَيَقُولُ . ¤ لَبِثَ قَلِيلًا يُدْرِكُ الْهَيْجَا جَمَلْ مَا أَحْسَنَ الْمَوْتَ إِذَا حَانَ الْأَجَلْ قَالَتْ : [ فَقُمْتُ ] فَاقْتَحَمْتُ حَدِيقَةً فَإِذَا فِيهَا نَفَرٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، وَإِذَا فِيهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، وَفِيهِمْ رَجُلٌ عَلَيْهِ تَسْبِغَةٌ لَهُ - يَعْنِي : الْمِغْفَرَ - فَقَالَ عُمَرُ : مَا جَاءَ بِكِ ، لَعَمْرِي [ وَاللَّهِ ] إِنَّكِ لَجَرِيئَةٌ ، وَمَا يُؤْمِنُكِ أَنْ يَكُونَ بَلَاءً أَوْ يَكُونَ تَحَوُّزٌ ؟ قَالَتْ : فَمَا زَالَ يَلُومُنِي حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنَّ الْأَرْضَ انْشَقَّتْ لِي سَاعَتَئِذٍ فَدَخَلْتُ فِيهَا ! . ¤ قَالَ : فَرَفَعَ الرَّجُلُ التَّسْبِغَةَ عَنْ وَجْهِهِ فَإِذَا طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ : وَيْحَكَ يَا عُمَرُ ، إِنَّكَ قَدْ أَكْثَرْتَ مُنْذُ الْيَوْمِ ، وَأَيْنَ التَّحَوُّزُ أَوِ الْفِرَارُ إِلَّا إِلَى اللَّهِ تَعَالَى ؟ ! . ¤ قَالَتْ : وَيَرْمِي سَعْدًا رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهُ : ابْنُ الْعَرِقَةِ بِسَهْمٍ لَهُ ، فَقَالَ لَهُ : خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الْعَرِقَةِ فَأَصَابَ أَكْحَلَهُ فَقَطَعَهُ فَدَعَا اللَّهَ سَعْدٌ فَقَالَ : اللَّهُمَّ لَا تُمِتْنِي حَتَّى تُقِرَّ عَيْنِي مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ [ قَالَتْ : وَكَانُوا حُلَفَاؤُهُ وَمَوَاليِهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ . قَالَتْ :فَرَقَى كَلِمَهُ، وَبَعَثَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - الرِّيحَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ ، فَكَفَى اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًا ، فَلَحِقَ أَبُو سُفْيَانَ وَمَنْ مَعَهُ بِتِهَامَةَ ،وَلَحِقَ عُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ وَمَنْ مَعَهُ بِنَجْدٍ ، وَرَجَعَتْ بَنُو قُرَيْظَةَ فَتَحَصَّنُوا فِي ] صَيَاصِيهِمْ ، وَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْمَدِينَةِ ، وَأَمَرَ بِقُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ فَضُرِبَتْ عَلَى سَعْدٍ فِي الْمَسْجِدِ . ¤ قَالَتْ : فَجَاءَهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - وَإِنَّ عَلَى ثَنَايَاهُ لَتَقْعُ الْغُبَارِ ، فَقَالَ : لَقَدْ وَضَعْتَ السِّلَاحَ ! لَا وَاللَّهِ مَا وَضَعَتِ الْمَلَائِكَةُ بَعْدُ السِّلَاحَ ، اخْرُجْ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ فَقَاتِلْهُمْ . ¤ قَالَ : فَلَبِسَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَأْمَتَهُ وَأَذَّنَ فِي النَّاسِ بِالرَّحِيلِ أَنْ يَخْرُجُوا ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَرَّ عَلَى بَنِي غَنْمٍ ، وَهُمْ جِيرَانُ الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : " مَنْ مَرَّ بِكُمْ ؟ " . فَقَالُوا : مَرَّ بِنَا دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ ، وَكَانَ دَحْيَةٌ تُشْبِهُ لِحْيَتُهُ [ وَسِنُّهُ ] وَوَجْهُهُ جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - . ¤ قَالَتْ : فَأَتَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَاصَرَهُمْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً ، فَلَمَّا اشْتَدَّ حَصْرُهُمْ ، وَاشْتَدَّ الْبَلَاءُ ، قِيلَ لَهُمُ : انْزِلُوا عَلَى حُكْمِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاسْتَشَارُوا أَبَا لُبَابَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ ، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنَّهُ الذَّبْحُ ، فَقَالُوا : نَنْزِلُ عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ( انْزِلُوا عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ) [ فَنَزَلُوا ] وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَأُتِيَ بِهِ عَلَى حِمَارٍ عَلَيْهِ إِكَافٌ مِنْ لِيفٍ قَدْ حُمِلَ عَلَيْهِ ، وَحَفَّ بِهِ قَوْمُهُ ، وَقَالُوا لَهُ : يَا أَبَا عَمْرٍو حُلَفَاؤُكَ وَمَوَالِيكَ وَأَهْلُ النِّكَايَةِ ، وَمَنْ قَدْ عَلِمْتَ . فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيْهِمْ شَيْئًا ، وَلَا يَلْتَفِتْ إِلَيْهِمْ حَتَّى إِذَا دَنَا مِنْ دُورِهِمُ الْتَفَتَ إِلَى قَوْمِهِ ، فَقَالَ : قَدْ أَنَا لِي أَنْ لَا يَأْخُذَنِي فِي اللَّهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ . ¤ قَالَ : قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : فَلَمَّا طَلَعَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ فَأَنْزِلُوهُ " . قَالَ عُمَرُ : سَيِّدُنَا اللَّهُ . قَالَ : " أَنْزِلُوهُ " . فَأَنْزَلُوهُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " احْكُمْ فِيهِمْ " . قَالَ سَعْدٌ : فَإِنِّي أَحْكُمُ فِيهِمْ أَنْ تُقْتَلَ مُقَاتِلَتُهُمْ ، وَتُسْبَى ذَرَارِيُّهُمْ ، وَتُقَسَّمَ أَمْوَالُهُمْ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَقَدْ حَكَمْتَ فِيهِمْ بِحُكْمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَحُكْمِ رَسُولِهِ " . ¤ قَالَ : ثُمَّ دَعَا سَعْدٌ فَقَالَ : اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ أَبْقَيْتَ عَلَى نَبِيِّكَ مِنْ حَرْبِ قُرَيْشٍ شَيْئًا فَأَبْقِنِي لَهَا ، وَإِنْ كُنْتَ قَطَعْتَ الْحَرْبَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ فَاقْبِضْنِي إِلَيْكَ . ¤ قَالَتْ : فَانْفَجَرَ كَلْمُهُ وَكَانَ قَدْ بَرَأَ إِلَّا مِثْلَ الْخُرْصِ . قَالَتْ : وَرَجَعَ إِلَى قُبَّتِهِ الَّتِي ضَرَبَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قَالَتْ عَائِشَةُ : فَحَضَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ . ¤ قَالَتْ : فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، إِنِّي لَأَعْرِفُ بُكَاءَ عُمَرَ مِنْ بُكَاءِ أَبِي بَكْرٍ وَأَنَا فِي حُجْرَتِي ، وَكَانُوا كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ . ¤ قَالَ عَلْقَمَةُ : فَقُلْتُ : أَيْ أُمَّهْ فَكَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَصْنَعُ ؟ قَالَتْ : كَانَتْ عَيْنُهُ لَا تَدْمَعُ عَلَى أَحَدٍ ، وَلَكِنَّهُ كَانَ إِذَا وَجَدَ فَإِنَّمَا هُوَ آخِذٌ بِلِحْيَتِهِ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : غزوہ خندق کے موقع پر میں لوگوں کے پیچھے چلتی ہوئی نکلی ، میں نے اپنے پیچھے زمین پر کسی کے چلنے کی آہٹ سنی ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے دیکھا تو وہ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ تھے اور ان کے ساتھ ان کے بھتیجے سیدنا حارث بن اوس رضی اللہ عنہ تھے ، جنہوں نے ان کی ڈھال کو اٹھایا ہوا تھا ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں زمین پر بیٹھ گئی ، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ گزرے ان کے جسم پر لوہے کی قمیص ( یعنی زرہ ) تھی ، جس میں سے ان کے اطراف باہر آ رہے تھے ، مجھے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے اطراف کے حوالے سے اندیشہ ہوا ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بڑے لمبے تڑنگے آدمی تھے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب وہ گزرے تو وہ یہ رجز پڑھ رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے : ” تھوڑی ہی دیر میں اونٹ جنگ ( کے میدان ) تک پہنچ جائے گا ، اور جب وقت آ چکا ہو تو ( جنگ میں موت ) کتنی اچھی موت ہے “ ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں اٹھی اور میں ایک باغ میں داخل ہو گئی ، وہاں کچھ مسلمان موجود تھے ، ان میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے ، ان میں ایک ایسا شخص بھی موجود تھا ، جس نے خود پہنا ہوا تھا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم کیوں آئی ہو ؟ مجھے اپنی زندگی کی قسم ہے ، تم بڑی جرات مند ہو اور تمہیں اس بات سے کیا بے خوفی تھی کہ کوئی صورت حال کوئی آزمائش نہ آ جائے ، یا کوئی مشکل صورت حال نہ ہو جائے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : وہ مسلسل مجھے ملامت کرتے رہے ، یہاں تک کہ میں نے یہ آرزو کی کہ وہ زمین میرے لئے اسی وقت شق ہو جائے اور میں اُس میں سما جاؤں ۔ راوی کہتے ہیں : پھر ان صاحب نے اپنے چہرے سے خود کو ہٹایا ، تو وہ سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ تھے ۔ انہوں نے کہا: اے عمر ! تمہارا ستیاناس ہو ، آج تم نے بہت زیادتی کی ہے ، بچاؤ کے لئے اور فرار ہو کر اللہ کی طرف ہی جانا ہے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : مشرکین سے تعلق رکھنے والے ، قریش سے تعلق رکھنے والے ، ایک شخص نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو تیر مارا اس شخص کا نام ابن عرقہ تھا ، اس نے اپنا تیر مارا اور کہا: لو ! اسے سنجالو ! میں ابن عرقہ ہوں ، وہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے بازو پر لگا ، اور اس نے ان کی رگ کو چیر دیا ، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور کہا: تو مجھے اس وقت تک موت نہ دینا ، جب تک بنو قریظہ کے حوالے سے تو میری آنکھیں ٹھنڈی نہیں کر دیتا ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : وہ لوگ ( یعنی بنو قریظہ ) زمانہ جاہلیت میں ان ( یعنی سیدنا سعد بن معاذ ) کے حلیف اور موالی رہے تھے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : پھر ان کا زخم بہنے لگا ، اللہ تعالیٰ نے مشرکین پر ہوا کو بھیج دیا اور اللہ تعالیٰ جنگ کے حوالے سے مومنین کے لئے کفایت عطا کرنے والا ہو گیا ، اللہ تعالیٰ قوت والا اور غلبے والا ہے ، ابوسفیان اور ان کے ساتھی تہامہ چلے گئے ، عینیہ بدر اور اس کے ساتھی نجد چلے گئے ، بنو قریظہ واپس آئے اور اپنے قلعوں کے اندر قلعہ بند ہو گئے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ واپس تشریف لائے ، آپ نے چمڑے کا خیمہ لگانے کا حکم دیا ، وہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے لئے مسجد میں لگا دیا گیا ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : سیدنا جبرائیل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ان کے سامنے کے دانتوں پر غبار موجود تھا ۔ انہوں نے کہا: آپ نے ہتھیار اتار دیے ہیں ؟ اللہ کی قسم ! فرشتوں نے ابھی ہتھیار نہیں اتارے ہیں ، آپ نکل کر بنو قریظہ کی طرف جائیں اور ان کے ساتھ لڑائی کریں ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہتھیار پہن لئے آپ نے لوگوں کو روانگی کا حکم دیا کہ وہ روانہ ہو جائیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی نکلے ، آپ کا گزر ہو غنم کے پاس سے ہوا جو مسجد کے پڑوسی تھے ۔ آپ نے دریافت کیا : تم لوگوں کے پاس سے ابھی کون گزرا ہے ؟ انہوں نے بتایا : ہمارے پاس سے سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ گزرے ہیں ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : داڑھی کے انداز ، عمر اور چہرے کی شکل کے اعتبار سے ، سیدنا دحیہ رضی اللہ عنہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ مشابہت رکھتے تھے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے پاس آئے ، آپ نے پچیس دن تک ان کا محاصرہ کیے رکھا ، جب ان کا محاصرہ شدید ہو گیا اور ان کی آزمائش سخت ہو گئی ، تو ان سے کہا: گیا : تم لوگ اللہ کے رسول کے فیصلے پر تیار ہو جاؤ ! ان لوگوں نے سیدنا ابولبابہ بن عبدالمنذر رضی اللہ عنہ سے مشورہ لیا ، تو انہوں نے انہیں اشارہ کیا کہ ایسی صورت میں انہیں ذبح کر دیا جائے گا ، تو ان لوگوں نے کہا: ہم سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فیصلے کو تسلیم کریں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ سعد بن معاذ کے فیصلے پر طے کر لو ! وہ لوگ نیچے اتر آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو ( لانے کا ) حکم دیا ، انہیں ایک گدھے پر سوار کر کے لایا گیا ، جس پر کھجور کے پتوں سے بنی ہوئی چادر موجود تھی ، ان کی قوم نے انہیں گھیرا ہوا تھا ، اُن کی قوم ان سے کہہ رہی تھی کہ اے ابوعمرو ! یہ آپ کے حلیف ہیں تمہارے موالی ہیں ، تمہارے ساتھی ہیں ، جیسا کہ آپ جانتے ہیں ، سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا اور نہ ہی ان کی طرف توجہ دی ، یہاں تک کہ وہ ان کے علاقے کے قریب ہو گئے تو انہوں نے اپنی قوم کی طرف متوجہ ہو کر یہ ارشاد فرمایا : میرے لئے مناسب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں ، کسی ملامت کرنے والے کی ملامت مجھے اپنی گرفت میں نہ لے ۔ راوی کہتے ہیں : سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب وہ سامنے آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اُٹھ کر اپنے سردار کی طرف جاؤ ، اور اسے نیچے اتارو ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمارا سردار ، اللہ تعالیٰ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے نیچے اتارو ! لوگوں نے انہیں نیچے اتارا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ان کے بارے میں فیصلہ دو ! سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان کے بارے میں یہ فیصلہ دیتا ہوں کہ ان کے جنگجو افراد کو قتل کر دیا جائے ان کے بچوں کو قیدی بنا لیا جائے اور ان کے مال کو تقسیم کر دیا جائے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم نے اُن کے بارے میں اللہ کے فیصلے کے مطابق اور اس کے رسول کے فیصلے کے مطابق فیصلہ دیا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : پھر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے دعا کی اور کہا: اے اللہ ! اگر تو قریش کے ساتھ جنگ کے حوالے سے تیرے نبی کے لئے کوئی چیز باقی ہے ، تو اس جنگ کے لئے مجھے بھی باقی رکھ ، اور اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش کے درمیان جنگ ختم ہو چکی ہے ، تو مجھے اپنی طرف بلا لے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : تو ان کے زخم سے خون جاری ہو گیا ، حالانکہ پہلے وہ ٹھیک ہو کر چھوٹا سا رہ گیا تھا ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : وہ اپنے خیمے کی طرف واپس چلے گئے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے لگوایا تھا ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ان کے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ موجود تھے ( جب اُن کا آخری وقت آیا تھا ) ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے ، میں اپنے حجرے میں موجو درہ کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے رونے کے مقابلے میں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے رونے کو پہچان رہی تھی ، کیونکہ اُن لوگوں کی مثال اسی طرح تھی ، جس طرح اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” وہ لوگ آپس میں رحم دل ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ علقمہ کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : اے امی جان ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز عمل کیا تھا ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو کسی کے لئے جاری نہیں ہوتے تھے ، لیکن جب آپ کو شدید غم لاحق ہوتا تھا ، تو آپ اپنی داڑھی شریف پکڑ لیتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو بن علقمہ ہے اور وہ ” حسن الحدیث “ ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10155
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (141/6)»
وَعَنْ عُرْوَةَ - يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ - أَنَّ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ رُمِيَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ رَمْيَةً فَقَطَعَتِ الْأَكْحَلَ مِنْ عَضُدِهِ ، فَزَعَمُوا أَنَّهُ رَمَاهُ حِبَّانُ بْنُ قَيْسٍ أَحَدُ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ أَحَدُ بَنِي الْعَرِقَةِ ، وَقَالَ آخَرُونَ : رَمَاهُ أَبُو أُسَامَةَ الْجُشَمِيُّ . ¤ فَقَالَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ : رَبِّ اشْفِنِي مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ قَبْلَ الْمَمَاتِ ، فَرَقَأَ الْكَلْمُ بَعْدَ مَا انْفَجَرَ . ¤ قَالَ : وَأَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى بَنِي قُرَيْظَةَ حَتَّى سَأَلُوهُ أَنْ يَجْعَلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ حَكَمًا يَنْزِلُونَ عَلَى حُكْمِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اخْتَارُوا مِنْ أَصْحَابِي مَنْ أَرَدْتُمْ ، فَلْيَسْتَمِعْ لِقَوْلِهِ " . فَاخْتَارُوا سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ ، فَرَضِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِهِ ، وَسَلَّمُوا . ¤ وَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِأَسْلِحَتِهِمْ فَجُعِلَتْ فِي بَيْتٍ ، وَأَمَرَ بِهِمْ فَكُتِّفُوا وَأُوثِقُوا فَجُعِلُوا فِي دَارِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَأَقْبَلَ عَلَى حِمَارِ أَعْرَابِيٍّ ، يَزْعُمُونَ أَنَّ وَطَاءَ بَرْدَعَتِهِ مِنْ لِيفٍ ، وَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ ، فَجَعَلَ يَمْشِي مَعَهُ يُعَظِّمُ حَقَّ بَنِي قُرَيْظَةَ ، وَيُذَكِّرُ حِلْفَهُمْ ، وَالَّذِي أَبْلَوْهُ يَوْمَ بُعَاثٍ ، وَإِنَّهُمُ اخْتَارُوكَ عَلَى مَنْ سِوَاكَ رَجَاءَ عَفْوِكَ وَتَحَنُّنِكَ عَلَيْهِمْ ، فَاسْتَبْقِهِمْ فَإِنَّهُمْ لَكَ جَمَالٌ وَعَدَدٌ ، فَأَكْثَرَ ذَلِكَ الرَّجُلُ وَلَمْ يُحِرْ إِلَيْهِ سَعْدٌ شَيْئًا حَتَّى دَنَوْا ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ : أَلَا تُرْجِعُ إِلَيَّ شَيْئًا ؟ فَقَالَ : وَاللَّهِ لَا أُبَالِي فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ ، فَيُفَارِقُهُ الرَّجُلُ ، فَأَتَى إِلَى قَوْمِهِ قَدْ يَئِسَ مِنْ أَنْ يَسْتَبْقِيهِمْ ، فَأَخْبَرَهُمْ بِالَّذِي كَلَّمَهُ بِهِ ، وَالَّذِي رَجَعَ إِلَيْهِ سَعْدٌ . ¤ وَنَفَذَ سَعْدٌ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا سَعْدُ ، احْكُمْ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ " . فَقَالَ سَعْدٌ : أَحْكُمُ فِيهِمْ بِأَنْ تُقْتَلَ مُقَاتِلَتُهُمْ ، وَيُقَسَّمَ سَبْيُهُمْ ، وَتُؤْخَذَ أَمْوَالُهُمْ ، وَتُسْبَى ذَرَارِيُّهُمْ وَنِسَاؤُهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " حَكَمَ فِيهِمْ سَعْدٌ بِحُكْمِ اللَّهِ " . ¤ وَيَزْعُمُ نَاسٌ أَنَّهُمْ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْحُكْمَ فِيهِمْ إِلَى سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، فَأُخْرِجُوا رُسُلًا رُسُلًا فَضُرِبَتْ أَعْنَاقُهُمْ . ¤ وَأَخْرَجَ حُيَيُّ بْنُ أَخْطَبَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَلْ أَخْزَاكَ اللَّهُ ؟ " قَالَ : قَدْ ظَهَرْتَ عَلَيَّ وَمَا أَلُومُ نَفْسِي فِيكَ ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأُخْرِجَ إِلَى أَحْجَارِ الزَّيْتِ الَّتِي بِالسُّوقِ فَضُرِبَتْ عُنُقُهُ ، كُلُّ ذَلِكَ بِعَيْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ . ¤ وَزَعَمُوا أَنَّهُ كَانَ بَرِئَ كَلْمُ سَعْدٍ وَتَحَجَّرَ بِالثَّرَى ، ثُمَّ إِنَّهُ دَعَا فَقَالَ : اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، فَإِنَّهُ لَمْ يَكُنْ قَوْمٌ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ قَوْمٍ كَذَّبُوا رَسُولَكَ وَأَخْرَجُوهُ ، وَإِنِّي أَظُنُّ أَنْ قَدْ وُضِعَتِ الْحَرْبُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ ، فَإِنْ كَانَ قَدْ بَقِيَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ قِتَالٌ فَأَبْقِنِي أُقَاتِلْهُمْ فِيكَ ، وَإِنْ كُنْتَ قَدْ وَضَعْتَ الْحَرْبَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ ، فَافْجُرْ هَذَا الْمَكَانَ وَاجْعَلْ مَوْتِي فِيهِ ، فَفَجَّرَهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ، وَأَنَّهُ الرَّاقِدُ بَيْنَ ظَهْرَيِ اللَّيْلِ فَمَا دَرَوْا بِهِ حَتَّى مَاتَ ، وَمَا رَقَأَ الْكَلْمُ حَتَّى مَاتَ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ عَنْ عَائِشَةَ مُتَّصِلَ الْإِسْنَادِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو غزوہ خندق کے موقع پر ایک تیر لگا ، جس نے ان کے بازو کی رگ ” اکحل “ کو کاٹ دیا ، لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ جہان بن قیس نے انہیں تیر مارا تھا ، جس کا تعلق بنو عامر بن لؤی کی شاخ بنو عرقہ سے تھا ، دیگر حضرات کا یہ کہنا ہے : ابواسامہ جشمی نے انہیں تیر مارا تھا ۔ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے یہ کہا: تھا : اے میرے پروردگار ! مرنے سے پہلے بنو قریظہ کے حوالے سے مجھے شفاء نصیب کر دے تو اُن کا زخم پھوٹ پڑنے کے بعد رک گیا تھا ( یعنی اس میں سے خون بہنا بند ہو گیا تھا ) ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنو قریظہ کو گھیرے رہے ، یہاں تک کہ انہوں نے آپ سے یہ درخواست کی کہ آپ اپنے اور ان کے درمیان کسی شخص کو ثالث مقرر کر دیں ، وہ لوگ اس کی ثالثی کو تسلیم کر لیں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم میرے ساتھیوں میں سے جسے چاہو اختیار کر لو اس کی بات کو سنا جائے گا ، تو ان لوگوں نے سیدنا سعد بن معاذ کو اختیار کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے راضی ہو گئے ، ان لوگوں نے بھی اس بات کو تسلیم کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ان لوگوں کا اسلحہ ایک گھر میں رکھا جائے ، نبی اکرم نبی اکرم کے حکم کے تحت ان لوگوں کو باندھ دیا گیا اور سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے گھر میں رکھا گیا ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا وہ ایک دیہاتی کے گدھے پر سوار ہو کر آئے ، لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ اس گدھے پر جو چادر بچھی ہوئی تھی ۔ اس میں پتے بھرے ہوئے تھے بنو عبداشہل سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ان کے ساتھ ، ساتھ آ رہا تھا وہ ان کے ساتھ چلتے ہوئے بنو قریظہ کے حق کی بڑائی کو بیان کر رہا تھا ، ان کے اخلاق کا ذکر کر رہا تھا ، جنگ بعاث کے موقع پر ان لوگوں نے جو طرز عمل اختیار تھا اس کا ذکر کر رہا تھا کہ ان لوگوں نے آپ کے علاوہ کے مقابلے میں ، آپ کو اختیار کیا تھا ، یہ امید رکھتے ہوئے کہ آپ مہربانی کریں گے اور ان پر مہربان ہوں گے تو آپ اس چیز کا خیال رکھیں ، کیونکہ آپ کے لئے ان لوگوں میں جمال بھی ہے اور تعداد بھی ہے ، اس شخص نے اس بارے میں زیادہ باتیں کیں ، لیکن سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا ، جب یہ لوگ قریب پہنچ گئے ، تو اس شخص نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ مجھے کوئی جواب کیوں نہیں دیتے ہیں ؟ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کروں گا ، تو وہ شخص ان سے جدا ہو گیا اور اپنی قوم کے پاس گیا وہ اس بات سے مایوس ہو چکا تھا کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ ان لوگوں کو باقی رہنے دیں گے ، اس نے اپنی قوم کو اس بارے میں بتایا ، جو اس نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے ساتھ بات کی تھی اور جو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اسے جواب دیا تھا ۔ پھر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے سعد ! تم ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ دو ! تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان کے بارے میں یہ فیصلہ دیتا ہوں کہ ان کے جنگو افراد کو قتل کروا دیں ، ان کے قیدیوں کو تقسیم کر لیں اور ان کے اموال حاصل کر لیے جائیں ، ان کے بچوں اور عورتوں کو قیدی بنا لیا جائے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سعد نے ان کے بارے میں اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ دیا ہے ۔ بعض لوگوں کا یہ بیان کرنا ہے : وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے پر تیار ہوئے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فیصلہ کی ذمہ داری سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو سونپ دی تھی ، تو ان لوگوں کو گروہ در گروہ کر کے لایا گیا اور ان کی گردنیں اڑا دی گئیں ، جب حیی بن اخطب کو لایا گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا اللہ تعالیٰ نے تمہیں رسوائی کا شکار کر دیا ہے ؟ اس نے کہا: آپ نے مجھ پر غلبہ پا لیا ہے ، اور آپ کے بارے میں ، میں اپنی ذات کو ملامت نہیں کرتا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اسے احجارزیت کی طرف لے جایا گیا جو بازار میں ہے اور وہاں اس کی گردن اڑا دی گئی ، یہ سب کچھ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے سامنے ہوتا رہا ۔ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کا زخم ٹھیک ہو گیا تھا ، اور وہ ٹھیک ہونے کے قریب تھے ، لیکن پھر انہوں نے یہ دعا کی : اے اللہ ! اے آسمانوں اور زمین کے پروردگار ! کوئی بھی قوم میرے نزدیک اُس قوم سے زیادہ ناپسندیدہ نہیں ہے ، جس نے تیرے رسول کو جھٹلایا اور انہیں نکلنے پر مجبور کیا ، میرا یہ خیال ہے کہ تو نے ہمارے اور ان کے درمیان سے جنگ کو اٹھا لیا ہے ، اگر ہمارے اور ان کے درمیان ابھی جنگ باقی ہے ، تو مجھے باقی رکھ ، تاکہ میں تیری راہ میں ان لوگوں کے ساتھ جنگ کروں اور اگر تو نے ہمارے اور ان کے درمیان سے جنگ کو اٹھا لیا ہے ، تو اس جگہ سے ( خون ) بہنا شروع ہو جائے اور میری موت اس زخم کی وجہ سے ہو ، تو اللہ تعالیٰ نے ان کے زخم کو بہایا اور وہ رات بھر سوتے رہے ، لوگوں کو پتہ بھی نہیں چلا ، یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا ، ان کے مرنے تک ان کا زخم بہتا رہا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح“ میں اس کا کچھ حصہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے متصل سند کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10156
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5327)»
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ; أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ وَقَدْ جَمَعُوا لَهُ جُمُوعًا كَثِيرَةً ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَغْزُوكُمْ بَعْدَهَا أَبَدًا ، وَلَكِنْ تَغْزُوهُمْ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ احزاب کے دن ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ، جب دشمن نے آپ کے خلاف بہت سے لشکروں کو اکٹھا کیا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کے بعد یہ کبھی تم پر حملہ نہیں کریں گے ، بلکہ تم ان پر حملہ کرو گے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10157
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1810)»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : أَتَتِ الصَّبَا الشَّمَالُ لَيْلَةَ الْأَحْزَابِ ، فَقَالَ : مُرِّي حَتَّى نَنْصُرَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتِ الشَّمَالُ : إِنَّ الْحُرَّةَ لَا تَسْرِي بِاللَّيْلِ ، فَكَانَتِ الرِّيحُ الَّتِي نُصِرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الصَّبَا . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ” صبا“ ( نامی ہوا ) ” شمال“ ( نامی ہوا ) کے پاس غزوہ احزاب کی رات آئی اور بولی: چلو ! تاکہ ہم اللہ کے رسول کی مدد کریں ، تو شمال نامی ہوا نے کہا: حرہ رات کے وقت نہیں چلتی ہے ، تو وہ ہوا جس کے ذریعے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی گئی ، وہ ” صبا “ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10158
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1811)»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : رَمَى سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرَ فَقُطِعَ أَكْحَلُهُ ، فَحَسَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَعَفَّرَ وَانْتَقَضَ ، فَحَسَمَهُ الثَّانِيَةَ ، فَقَالَ سَعْدٌ : اللَّهُمَّ لَا تَنْزِعْ نَفْسِي حَتَّى تُقِرَّ عَيْنِي مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ أَبُو أُمَيَّةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : غزوہ قریظہ اور غزوہ نصیر کے موقع پر ، سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو تیر لگا ، جس نے ان کی ” اکحل “ نامی رگ کو کاٹ دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں داغ لگوایا اس کی وجہ سے ان کا زخم خراب ہو گیا اور پھول گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری مرتبہ انہیں داغ لگوایا ، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ ! تو میری جان اس وقت تک قبض نہ کرنا ، جب تک بنو قریظہ اور بنو نضیر کے حوالے سے میری آنکھوں کو ٹھنڈا نہیں کر دیتا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم ابوامیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10159
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5326)»
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ قَالَ : لَمَّا حَكَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَنِي قُرَيْظَةَ وَجَدَتِ الْأَوْسُ مِنْ ذَلِكَ ، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى كُلِّ دَارٍ مِنْ دُورِ الْأَوْسِ بِأَسِيرَيْنِ أَسِيرَيْنِ ، وَأَرْسَلَ إِلَى بَنِي حَارِثَةَ بِأَسِيرَيْنِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ذُؤَيْبُ بْنُ عِمَامَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ کے بارے میں فیصلہ دیا ، تو اوس قبیلے کے لوگوں کو اس سے الجھن ہوئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اوس قبیلے کے ہر ایک گھرانے کی طرف دو ، دو قیدی بھیجے ، آپ نے بنو حارثہ کی طرف بھی دو قیدی بھیجے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ذویب بن عمامہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10160
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (231/19)»
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " شَغَلُونَا عَنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ " - وَلَمْ يُصَلِّهَا يَوْمَئِذٍ حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ - " مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ نَارًا ، أَوْ قُلُوبَهُمْ نَارًا ، أَوْ بُيُوتَهُمْ نَارًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ أَحْمَدَ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ان لوگوں نے ہمیں عصر کی نماز ادا نہیں کرنے دی ۔ راوی کہتے ہیں : اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج غروب ہونے تک وہ نماز ادا نہیں کی تھی ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) اللہ تعالیٰ ان کی قبروں کو آگ سے بھر دے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) ان کے دلوں کو آگ سے بھر دے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) ان کے گھروں کو آگ سے بھر دے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد أحمد کے حوالے سے نقل کی ہے ، میں ان سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10161
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ : مَرَّ أَبُو سُفْيَانَ وَمُعَاوِيَةُ خَلْفَهُ - وَكَانَ رَجُلًا مُسْتَمِدًّا - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ عَلَيْكَ بِصَاحِبِ الْأَسْنِمَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوسفیان رضی اللہ عنہ گزرے ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ان کے پیچھے موجود تھے ، وہ ایک نمایاں شخص تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ ! تو اس کو ہان والے شخص کو گرفت میں لے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے اور وہ مدلس ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10162
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ طَلَبِ الْأَحْزَابِ فَنَزَلَ الْمَدِينَةَ ، وَضَعَ لَأْمَتَهُ وَاغْتَسَلَ وَاسْتَجْمَرَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لشکروں کا پیچھا کر کے واپس تشریف لائے اور مدینہ منورہ آئے تو آپ نے اپنے ہتھیار اتارے غسل کیا اور ڈھیلے استعمال کیے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10163
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا رَجَعَ مِنْ طَلَبِ الْأَحْزَابِ ، رَجَعَ فَنَزَعَ لَأْمَتَهُ وَاغْتَسَلَ وَاسْتَجْمَرَ . ¤ زَادَ دُحَيْمٌ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَنَزَلَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَقَالَ : عَذِيرُكَ مِنْ مُحَارِبٍ ، أَلَا أَرَاكَ قَدْ وَضَعْتَ اللَّأْمَةَ وَمَا وَضَعْنَاهَا بَعْدُ " . ¤ فَوَثَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَزِعًا ، فَعَزَمَ عَلَى النَّاسِ أَلَّا يُصَلُّوا الْعَصْرَ إِلَّا فِي بَنِي قُرَيْظَةَ ، فَلَبِسُوا السِّلَاحَ وَخَرَجُوا فَلَمْ يَأْتُوا بَنِي قُرَيْظَةَ حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ . ¤ وَاخْتَصَمَ النَّاسُ فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : صَلُّوا فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يُرِدْ أَنْ تَتْرُكُوا الصَّلَاةَ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : عَزَمَ عَلَيْنَا أَنْ لَا نُصَلِّيَ حَتَّى نَأْتِيَ بَنِي قُرَيْظَةَ ، وَإِنَّمَا نَحْنُ فِي عَزِيمَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَيْسَ عَلَيْنَا إِثْمٌ . ¤ فَصَلَّتْ طَائِفَةٌ الْعَصْرَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا ، وَطَائِفَةٌ لَمْ يُصَلُّوا حَتَّى نَزَلُوا بَنِي قُرَيْظَةَ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّوْهَا إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا ، فَلَمْ يُعَنِّفْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاحِدَةً مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مَرْزُوقِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، لشکروں کا پیچھا کر کے جب واپس تشریف لائے ، تو آپ نے اپنے ہتھیار اتارے غسل کیا اور ڈھیلے استعمال کیے ۔ دحیم نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جبرائیل نازل ہوا اور بولا: جنگجو کی طرف سے آپ کا عذر ، میں آپ کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ نے ہتھیار اتار دیے ہیں ، حالانکہ ہم ( فرشتوں ) نے وہ نہیں اتارے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پریشانی کے عالم میں فوراً کھڑے ہوئے ، آپ نے لوگوں کو یہ ہدایت کی کہ وہ عصر کی نماز بنو قریظہ کے علاقے میں ادا کریں لوگوں نے ہتھیار پہنے اور روانہ ہو گئے ، ان کے بنو قریظہ پہنچنے سے پہلے سورج غروب ہونے کے قریب ہو گیا ، تو عصر کی نماز کے بارے میں لوگوں کے درمیان اختلاف ہو گیا بعض حضرات کا یہ کہنا تھا کہ تم لوگ نماز ادا کر لو ، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ نہیں تھی کہ تم لوگ نماز ترک کر دو ، بعض حضرات کا یہ کہنا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ تاکید کی تھی کہ ہم نماز اس وقت ادا کریں ، جب ہم بنو قریظہ کے علاقے میں پہنچ جائیں ، تو ہم اللہ کے رسول کے حکم کے پابند ہیں ، اس حوالے سے ہم پر کوئی گناہ نہیں ہو گا ، تو ایک گروہ نے ایمان کی حالت میں ثواب کی امید رکھتے ہوئے عصر کی نماز ادا کر لی اور ایک گروہ نے عصر کی نماز اس وقت تک ادا نہیں کی ، جب تک وہ بنو قریظہ کے علاقے میں نہیں پہنچ گئے ، اور وہ سورج غروب ہونے کے بعد وہاں پہنچے تھے ، وہاں پہنچ کر انہوں نے ایمان کی حالت میں ثواب کی امید رکھتے ہوئے ، وہ نماز ادا کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں گروہوں میں سے کسی پر بھی ناراضگی کا اظہار نہیں کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف مرزوق بن ابوہذیل کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10164
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (80/19)»
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَمِعَ صَوْتَ رَجُلٍ فَوَثَبَ وَثْبَةً شَدِيدَةً ، وَخَرَجَ إِلَيْهِ ، فَاتَّبَعْتُهُ فَإِذَا هُوَ مُتَّكِئٌ مُعْتَمٌّ مُرْخٍ عِمَامَتَهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ ، فَلَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُلْتُ : وَثَبْتَ وَثْبَةً وَخَرَجْتَ فَإِذَا هُوَ دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ ، قَالَ : " وَرَأَيْتِهِ ؟ " ، قُلْتُ : نَعَمْ قَالَ : " ذَاكَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - أَمَرَنِي أَنْ أَخْرُجَ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ مِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی آواز سنی ، تو آپ جلدی سے اٹھے اور نکل کر اس کی طرف گئے میں آپ کے پیچھے گئی ، تو وہ ایک ایسا شخص تھا ، جس نے ٹیک لگائی ہوئی تھی ، عمامہ باندھا ہوا تھا اور عمامہ کا شملہ دونوں کندھوں کے درمیان پیچھے لٹکایا ہوا تھا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے ، تو میں نے عرض کی : آپ جلدی سے اُٹھ کر چلے گئے تھے ، جب کہ وہ دحیہ کلبی تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم نے اس کو دیکھا تھا ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ جبرائیل تھے اور انہوں نے مجھے یہ کہا: کہ میں بنوقریظہ کی طرف نکلوں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10165
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَدَا إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ عَلَى حِمَارٍ عَرِيٍّ يُقَالُ لَهُ : يَعْفُورُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنو قریظہ کی طرف ایک دراز گوش ( یعنی گدھے ) پر سوار ہو کر گئے تھے ، جس کے اوپر کچھ ( بچھا ہوا نہیں تھا ) اس کا نام ” یعفور “ تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10166
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ خَرَجَ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ عَلَى حِمَارٍ ، وَمَعَهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - عَلَى بَغْلَةٍ بَيْضَاءَ عَلَيْهَا قَطِيفَةٌ مِنْ إِسْتَبْرَقٍ خَمْلُهَا اللُّؤْلُؤُ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ ، أَمَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ ، لَا أَنْزِلُ عَنْهَا حَتَّى تُفْتَحَ لَكَ ، وَلَأَرُضْهَا كَمَا تُرَضُ الْبَيْضَةُ عَلَى الصَّفْوَانِ . ¤ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَلَمْ يَرْجِعْ حَتَّى فُتِحَتْ عَلَيْهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ الْمِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بنو قریظہ کی طرف روانہ ہوئے ، تو آپ ایک دراز گوش ( یعنی گدھے ) پر سوار ہو کر نکلے ، آپ کے ساتھ سیدنا جبرائیل علیہ السلام ایک سفید خچر پر سوار تھے اور ان کے نیچے استبرق کا بنا ہوا بچھونا تھا ، جس میں موتی لگے ہوئے تھے ۔ انہوں نے کہا: اے سیدنا محمد ! اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، میں وہاں سے اُس وقت تک واپس نہیں جاؤں گا ، جب تک وہ آپ کے لئے فتح نہیں ہو جاتا ، اور میں انہیں اس طرح کچل دوں گا جس طرح انڈے کو پتھر پر پیس دیا جاتا ہے ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : تو وہ اس وقت تک واپس نہیں گئے ، جب تک وہ علاقہ فتح نہیں ہو گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10167
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11062)»
وَعَنِ أَسْلَمَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : جَعَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أَسْرَى قُرَيْظَةَ ، فَكُنْتُ أَنْظُرُ إِلَى فَرْجِ الْغُلَامِ ، فَإِنْ رَأَيْتُهُ قَدْ أَنْبَتَ ضَرَبْتُ عُنُقَهُ ، وَإِنْ لَمْ أَرَهُ قَدْ أَنْبَتَ جَعَلْتُهُ فِي مَغَانِمِ الْمُسْلِمِينَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسلم انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قریظہ کے قیدیوں کا نگران مقرر کیا ، میں لڑکوں کی شرمگاہ کی طرف دیکھتا تھا ، جس کو میں دیکھتا تھا کہ اُس کے زیر ناف ناف بال اگ چکے ہیں ، تو میں اس کی گردن اڑا دیتا تھا ، اور اگر میں یہ دیکھتا تھا کہ ابھی نہیں آگے ہیں ، تو اسے مسلمانوں کے مال غنیمت میں شامل کر دیتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10168
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (181) أخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1608) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1000)»
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ الزُّبَيْرُ رَجُلًا أَعْمَى فَقَالَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِنَّ الزُّبَيْرَ مَنَّ عَلِيَّ يَوْمَ بُعَاثٍ فَأَعْتَقَنِي ، فَهَبْهُ لِي أَجْزِهِ ، فَقَالَ : " هُوَ لَكَ " . ¤ فَقَالَ لِلزُّبَيْرِ : هَلْ تَعْرِفُنِي ؟ قَالَ : نَعَمْ ؛ أَنْتَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ قَالَ : إِنِّي أَمُنَّ عَلَيْكَ كَمَا مَنَنْتَ عَلِيَّ يَوْمَ بُعَاثٍ قَالَ : هَلْ تَنْفَعُنِي ؟ أَيْنَ أَهْلِي ؟ فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : هَبْ لِي أَهْلَهُ قَالَ : فَوَهَبَ لَهُ أَهْلَهُ ، فَأَتَاهُ فَأَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ رَدَّ لَهُ أَهْلَهُ قَالَ : يَا ابْنَ أَخِي ، مَا يَنْفَعُنِي أَنْ نَعِيشَ أَجْسَادًا ؟ أَيْنَ الْمَالُ ؟ فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : هَبْ لِي مَالَهُ قَالَ : " وَلَكَ مَالُهُ " . قَالَ : فَرَجَعَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ رَدَّ عَلَيْكَ مَالَكَ وَقَدْ أَرَادَ اللَّهُ تَعَالَى بِكَ خَيْرًا . ¤ قَالَ : يَا ابْنَ أَخِي ، مَا فَعَلَ حُيَيُّ بْنُ أَخْطَبَ سَيِّدُ الْحَاضِرِ وَالْبَادِ ؟ قَالَ : قَدْ قُتِلَ قَالَ : يَا ابْنَ أَخِي مَا فَعَلَ زَيْدُ بْنُ رُوطَا حَامِيَةُ الْيَهُودِ ؟ قَالَ : قَدْ قُتِلَ ، قَالَ : مَا فَعَلَ كَعْبُ بُنُ أَشْطَا الَّذِي بَطَلَ عَذَارَى الْحَيِّ تَنْغَمِزُ مِنْ حَشْيِهِ ؟ قَالَ : قَدْ قُتِلَ قَالَ : مَا فَعَلَ الْمُحَمَّسَانِ ؟ قَالَ : هُمَا كَأَمْسِ الذَّاهِبِ قَالَ : فَمَا بَيْنِي وَبَيْنَ لِقَاءِ الْأَحِبَّةِ إِلَّا كَإِفْرَاغِ الدَّلْوِ ، أَسْأَلُكَ بِيَدِي عِنْدَكَ إِلَّا أَلْحَقْتَنِي بِالْقَوْمِ قَالَ : فَقَتَلَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : زبیر نامی ایک نابینا شخص تھا ، ثابت بن قیس بن شماس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: زبیر نے جنگ بعاث کے موقع پر مجھ پر ایک احسان کیا تھا اس نے مجھے آزاد کر دیا تھا ، تو آپ وہ مجھے ہبہ کر دیں ، تاکہ میں اسے جزا دے دوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ تمہارا ہوا ، سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ نے زبیر سے دریافت کیا : کیا تم نے مجھے پہچانا ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ۔ تم ثابت بن قیس ہو ، سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تم پر احسان کرنا چاہتا ہوں جس طرح تم نے جنگ بعاث کے موقع پر مجھ پر احسان کیا تھا اس نے کہا: کیا تم مجھے فائدہ دینا چاہتے ہو ؟ میرے گھر والے کہاں ہیں ؟ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے ، اور عرض کی : اُس کے گھر والے بھی مجھے ہبہ کر دیں ۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے گھر والے انہیں ہبہ کر دیے ، وہ زبیر نامی شخص کے پاس آئے اور اسے اس بارے میں بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کے گھر والے واپس کر دیے ہیں ، زبیر نے کہا: اے میرے بھتیجے ! ہمیں کیا فائدہ ہو گا کہ اگر ہمارے جسم زندہ رہیں ، مال کہاں جائے گا ؟ تو سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے ، اور عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کا مال بھی مجھے دیدیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کا مال بھی تمہارا ہوا ، پھر سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ زبیر نامی شخص کے پاس واپس آئے اور بولے : اللہ کے رسول نے تمہارا مال تمہیں واپس کر دیا ہے اللہ تعالیٰ نے تمہارے بارے میں بھلائی کا ارادہ کیا ہے ، زبیر نے کہا: اے میرے بھتیجے ! شہریوں اور دیہاتیوں کے سردار حیی بن اخطب کا کیا بنا ؟ انہوں نے بتایا : وہ قتل ہو گیا ہے ، اس نے دریافت کیا : اے میرے بھتیجے ! زید بن روطا کا کیا بنا ؟ جو یہودیوں کا حامی تھا ، انہوں نے بتایا : وہ بھی قتل ہو گیا ، ہے اس نے دریافت کیا : کعب بن اشطا کا کیا بنا ؟ انہوں نے بتایا : وہ بھی قتل ہو گیا ہے اس نے دریافت کیا : مہمسان کا کیا بنا ؟ انہوں نے بتایا : وہ دونوں گزرے ہوئے کل کی مانند ہیں ، تو اس نے کہا: پھر میرے اور ( میرے ) دوستوں کے ساتھ ملاقات کے درمیان ، صرف اتنا فرق ہے کہ جتنا ڈول ڈالنے کا ہوتا ہے ، میں تم سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ تم مجھ پر یہ مہربانی کرو کہ مجھے ان لوگوں کے ساتھ ملا دو ! تو سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ نے انہیں قتل کر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10169
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف