حدیث نمبر: 10154
وَعَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ النَّاسَ تَفَرَّقُوا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةَ الْأَحْزَابِ ، فَلَمْ يَبْقَ مَعَهُ إِلَّا اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا ، فَأَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا جَاثِمٌ مِنَ النَّوْمِ ، فَقَالَ : " يَا ابْنَ الْيَمَانِ ، قُمْ فَانْطَلِقْ إِلَى عَسْكَرِ الْأَحْزَابِ فَانْظُرْ إِلَى حَالِهِمْ " . ¤ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا قُمْتُ لَكَ إِلَّا حَيَاءً مِنَ الْبَرْدِ قَالَ : " انْطَلِقْ يَا ابْنَ الْيَمَانِ ، فَلَا بَأْسَ عَلَيْكَ مِنْ بَرْدٍ وَلَا حَرٍّ حَتَّى تَرْجِعَ لِي " . ¤ فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَتَيْتُ عَسْكَرَهُمْ فَوَجَدْتُ أَبَا سُفْيَانَ يُوقِدُ النَّارَ فِي عُصْبَةٍ حَوْلَهُ ، وَقَدْ تَفَرَّقَ الْأَحْزَابُ عَنْهُ ، فَجِئْتُ حَتَّى أَجْلِسَ فِيهِمْ ، فَحَسَّ أَبُو سُفْيَانَ أَنَّهُ قَدْ دَخَلَ فِيهِمْ مِنْ غَيْرِهِمْ ، فَقَالَ : لِيَأْخُذْ كُلُّ رَجُلٍ مِنْكُمْ بِيَدِ جَلِيسِهِ قَالَ : فَضَرَبْتُ بِيَدِي عَلَى الَّذِي عَنْ يَمِينِي فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ ، ثُمَّ ضَرَبْتُ بِيَدِي عَلَى الَّذِي عَنْ يَسَارِي فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ ، فَلَبِثْتُ فِيهِمْ هُنَيْهَةً ، ثُمَّ قُمْتُ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي ، فَأَوْمَأَ إِلَيَّ أَنْ أَدْنُوَ فَدَنَوْتُ حَتَّى أَرْسَلَ عَلِيَّ مِنَ الثَّوْبِ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ لِيُدْفِئَنِي . ¤ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ قَالَ : " يَا ابْنَ الْيَمَانِ ، اقْعُدْ ؛ مَا خَبَرُ النَّاسِ ؟ " . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ فَلَمْ يَبْقَ إِلَّا فِي عُصْبَةٍ يُوقِدُ النَّارَ ، وَقَدْ صَبَّ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَيْهِمْ مِنَ الْبَرْدِ مِثْلَ الَّذِي صَبَّ عَلَيْنَا ، وَلَكِنَّا نَرْجُو مِنَ اللَّهِ مَا لَا يَرْجُونَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . وَفِي الصَّحِيحِ لِحُذَيْفَةَ حَدِيثٌ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ احزاب کی رات ، لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر ادھر ادھر ہو گئے ، آپ کے ساتھ صرف بارہ افراد باقی رہ گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے ، میں اس وقت نیند کے عالم میں تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابن یمان ! تم اُٹھو اور دشمن کے لشکروں کی طرف جاؤ ، اور ان کی صورت حال کا جائزہ لو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، میں صرف سردی کی وجہ سے اُٹھ کر آپ کی طرف آیا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابن یمان ! تم جاؤ تمہیں سردی یا گرمی کے حوالے سے کوئی پریشانی نہیں ہو گی ، جب تک تم واپس نہیں آ جاتے میں گیا ، میں ان لوگوں کے لشکر کے پاس آیا ، تو میں نے ابوسفیان کو پایا کہ اُس نے آگ جلائی ہوئی ہے اور اس کے ارد گرد کچھ افراد موجود ہیں ، باقی لوگ اسے چھوڑ کر ادھر اُدھر ہو چکے ہیں ، میں آیا اور ان لوگوں کے درمیان بیٹھ گیا ، ابوسفیان نے یہ چیز محسوس کر لی کہ ان کے درمیان کوئی ایسا شخص داخل ہوا ہے ، جو ان میں سے نہیں ہے ، تو اس نے کہا: تم میں سے ہر ایک شخص اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص کا ہاتھ پکڑ لے ، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو میں نے اپنا دایاں ہاتھ دائیں طرف موجود شخص پر مارا اور اس کا ہاتھ پکڑ لیا ، پھر میں نے اپنا ہاتھ اپنے بائیں طرف موجود شخص پر مارا اور اس کا ہاتھ پکڑ لیا ، پھر میں کچھ دیران کے درمیان ٹھہرا رہا ، پھر میں اٹھ گیا ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، آپ اس وقت کھڑے ہوئے نماز ادا کر رہے تھے ، آپ نے میری طرف اشارہ کیا کہ میں قریب ہو جاؤں ، میں قریب ہوا ، تو آپ نے میرے اوپر وہ کپڑا ڈال دیا ، جو آپ کے جسم پر موجود تھا ، تاکہ مجھے اُس سے گرمائش حاصل ہو ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے ، تو آپ نے فرمایا : اے ابن یمان ! تم بیٹھ جاؤ ! لوگوں کا کیا معاملہ ہے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! لوگ ابوسفیان کو چھوڑ کر ادھر اُدھر ہو چکے ہیں ، اس کے ساتھ صرف کچھ افراد تھے جنہوں نے آگ جلائی ہوئی تھی ، اللہ تعالیٰ نے ان پر اسی طرح کی سردی نازل کی ہے ، جس طرح کی ہم پر نازل کی ہے ، لیکن ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس چیز کی امید ہے جس کی امید انہیں نہیں ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ ” صحیح “ میں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک حدیث منقول ہے ، جو اس سیاق کے بغیر ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10154
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1809)»