مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ الْخَنْدَقِ وَقُرَيْظَةَ باب: غزوہ خندق اور غزوہ بنو قریظہ کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : رَمَى سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرَ فَقُطِعَ أَكْحَلُهُ ، فَحَسَمَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَعَفَّرَ وَانْتَقَضَ ، فَحَسَمَهُ الثَّانِيَةَ ، فَقَالَ سَعْدٌ : اللَّهُمَّ لَا تَنْزِعْ نَفْسِي حَتَّى تُقِرَّ عَيْنِي مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ وَالنَّضِيرِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ أَبُو أُمَيَّةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : غزوہ قریظہ اور غزوہ نصیر کے موقع پر ، سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو تیر لگا ، جس نے ان کی ” اکحل “ نامی رگ کو کاٹ دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں داغ لگوایا اس کی وجہ سے ان کا زخم خراب ہو گیا اور پھول گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری مرتبہ انہیں داغ لگوایا ، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ ! تو میری جان اس وقت تک قبض نہ کرنا ، جب تک بنو قریظہ اور بنو نضیر کے حوالے سے میری آنکھوں کو ٹھنڈا نہیں کر دیتا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم ابوامیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔