حدیث نمبر: 10146
وَعَنْ عُرْوَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَدْخَلَ نِسَاءَهُ يَوْمَ الْأَحْزَابِ أُطُمًا مِنْ آطَامِ الْمَدِينَةِ ، وَكَانَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ رَجُلًا جَبَانًا ; فَأَدْخَلَهُ مَعَ النِّسَاءِ ، فَأَغْلَقَ الْبَابَ ، فَجَاءَ يَهُودِيٌّ فَقَعَدَ عَلَى بَابِ الْأُطُمِ ، فَقَالَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ : انْزِلْ يَا حَسَّانُ إِلَى هَذَا الْعِلْجِ فَاقْتُلْهُ ، فَقَالَ : مَا كُنْتُ لِأَجْعَلَ نَفْسِي خَطَرًا لِهَذَا الْعِلْجِ ، فَأْتَزَرَتْ بِكِسَاءٍ وَأَخَذَتْ فِهْرًا ، فَنَزَلَتْ إِلَيْهِ فَقَطَعَتْ رَأْسَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ إِلَى عُرْوَةَ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَلَكِنَّهُ مُرْسَلٌ . ¤
محمد محی الدین

عروہ بیان کرتے ہیں : غزوہ احزاب کے موقع پر ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو مدینہ منورہ کی ، ایک بلند عمارت میں داخل کروا دیا ، سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ ایک کمزور دل کے شخص تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی خواتین کے ساتھ رکھا ، انہوں نے دروازہ بند کر دیا ، ایک یہودی آیا اور اس عمارت کے دروازے پر بیٹھ گیا ، سیدہ صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا نے کہا: اے حسان ! اُتر کر اس نالائق کی طرف جاؤ ، اور اسے قتل کر دو ، انہوں نے کہا: میں اس نالائق کو قتل کرنے کے قابل نہیں ہوں ، تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے چادر اوڑھی ، فہر ( دوا پیسنے کا پتھر ) لیا ، اتر کر اس کے پاس گئیں اور اس کا سر کاٹ دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور عروہ تک اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، تاہم
یہ روایت ” مرسل “ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10146
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ مرسل
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (319/24)»