حدیث نمبر: 10145
وَعَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ إِلَى الْخَنْدَقِ ، فَجَعَلَ نِسَاءَهُ وَعَمَّتَهُ صَفِيَّةَ فِي أُطُمٍ يُقَالُ لَهُ : فَارِعٌ ، وَجَعَلَ مَعَهُمْ حَسَّانَ بْنَ ثَابِتٍ ، وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى أُحُدٍ ، فَرَقِيَ يَهُودِيٌّ حَتَّى أَشْرَفَ عَلَى نِسَاءِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَى عَمَّتِهِ ، فَقَالَتْ صَفِيَّةُ : يَا حَسَّانُ ، قُمْ إِلَيْهِ حَتَّى تَقْتُلَهُ قَالَ : وَاللَّهِ مَا ذَاكَ فِيَّ ، وَلَوْ كَانَ ذَاكَ فِيَّ لَخَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ صَفِيَّةُ : فَارْبُطِ السَّيْفَ عَلَى ذِرَاعِي قَالَ : ثُمَّ تَقَدَّمَتْ إِلَيْهِ حَتَّى قَتَلَتْهُ وَقَطَعَتْ رَأْسَهُ ، فَقَالَتْ لَهُ : خُذِ الرَّأْسَ فَارْمِ بِهِ عَلَى الْيَهُودِ قَالَ : مَا ذَاكَ فِيَّ ، فَأَخَذَتْ هِيَ الرَّأْسَ فَرَمَتْ بِهِ عَلَى الْيَهُودِ ، فَقَالَتِ الْيَهُودُ : قَدْ عَلِمْنَا أَنَّ مُحَمَّدًا لَمْ يَكُنْ يَتْرُكُ أَهْلَهُ خُلُوفًا لَيْسَ مَعَهُمْ أَحَدٌ ، فَتَفَرَّقُوا وَذَهَبُوا ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَمَرَّ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ وَهُوَ يَقُولُ : ¤ مَهْلًا قَلِيلًا يُدْرِكُ الْهَيْجَا جَمَلْ لَا بَأْسَ بِالْمَوْتِ إِذَا حَانَ الْأَجَلْ قَالَتْ : وَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَجْمَلَ مِنْهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ ، وَكَانَ عَلَيْهِ أَثَرُ صُفْرَةٍ ، وَكَانَ عَلَيْهِ دِرْعٌ مُقَلَّصَةٌ ، وَقَدْ تَزَوَّجَ فَبَنَى بِأَهْلِهِ قَبْلَ ذَلِكَ فَعَلَيْهِ أَثَرُ زَعْفَرَانَ . ¤ قَالَ : وَكَانَ حَسَّانُ إِذَا شَدَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْكُفَّارِ يَفْتَحُ الْأُطُمَ ، وَإِذَا كَرُّوا رَجَعَ مَعَهُمْ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ ، وَقَالَ : فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَضَرَبَ لِصَفِيَّةَ بِسَهْمٍ كَمَا كَانَ يَضْرِبُ لِلرِّجَالِ . وَإِسْنَادُهُمَا ضَعِيفٌ ، وَقَدْ تَقَدَّمَ الْحَدِيثُ مِنْ رِوَايَةِ صَفِيَّةَ فِي وَقْعَةِ أُحُدٍ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خندق کی طرف تشریف لے گئے ، آپ نے اپنی ازواج ، اپنی پھوپھی سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو ایک بلند عمارت میں رکھا ، جس کا نام ” فارع “ تھا ، آپ نے ان کے ساتھ سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو رکھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم احد کی طرف تشریف لے گئے ، ایک یہودی چڑھ کر خواتین کے پاس اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی کے پاس پہنچنے لگا ، تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے حسان ! تم اٹھ کر اس کے پاس جاؤ ، اور اسے قتل کر دو ، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم ! میرے اندر یہ ہمت نہیں ہے اگر میرے اندر یہ چیز ہوتی ، تو میں اللہ کے رسول کے ساتھ چلا جاتا ، سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے کہا: پھر تم تلوار مجھے دو ۔ راوی کہتے ہیں : پھر سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا اس کے پاس گئیں اور اسے قتل کر دیا ، انہوں نے اس کا سر کاٹا اور سیدنا حسان رضی اللہ عنہ سے کہا: تم یہ سر لو ، اور اسے یہودیوں پر پھینک دو ، انہوں نے کہا: یہ میں کیسے کر سکتا ہوں ؟ تو سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے وہ سر لیا اور اسے خود یہودیوں پر پھینک دیا ، تو یہودیوں نے کہا: ہمیں یہ پتہ ہے کہ سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنے اہل خانہ کو ایسے نہیں چھوڑیں گے کہ ان کے ساتھ کوئی نہ ہو ، تو وہ لوگ ادھر ادھر بکھر گئے ، اور چلے گئے ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا گزر ہوا وہ یہ کہہ رہے تھے : ” تھوڑا سا وقت رہ گیا ہے ، پھر اونٹ جنگ تک پہنچ جائے گا ، اور جب ( آخری ) وقت آ جائے تو موت میں کوئی حرج نہیں ہے “ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : اس دن ، میں نے ان سے زیادہ تیار شخص کوئی نہیں دیکھا ، ان پر زرد رنگ کا نشان موجود تھا ، اور انہوں نے عمدہ قمیص پہنی ہوئی تھی ، ان کی شادی ہوئی تھی ، کچھ عرصہ پہلے انہوں نے رخصتی کروائی تھی ، تو ان پر زعفران کا نشان موجود تھا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کفار پر حملہ آور ہوئے ، تو سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے عمارت کا دروازہ کھول دیا اور جب وہ لوگ پلٹ گئے ، تو وہ ان کے ساتھ واپس آ گئے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں پتہ چلا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے لئے بھی ایک حصہ مقرر کیا ، جس طرح آپ نے مردوں کے لئے حصہ مقرر کیا تھا ۔ ان دونوں روایات کی سند ضعیف ہے ۔ اس سے پہلے واقعہ احد سے متعلق باب میں ، سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی نقل کردہ روایت پہلے گزر چکی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10145
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1807)»