حدیث نمبر: 10165
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَمِعَ صَوْتَ رَجُلٍ فَوَثَبَ وَثْبَةً شَدِيدَةً ، وَخَرَجَ إِلَيْهِ ، فَاتَّبَعْتُهُ فَإِذَا هُوَ مُتَّكِئٌ مُعْتَمٌّ مُرْخٍ عِمَامَتَهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ ، فَلَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُلْتُ : وَثَبْتَ وَثْبَةً وَخَرَجْتَ فَإِذَا هُوَ دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ ، قَالَ : " وَرَأَيْتِهِ ؟ " ، قُلْتُ : نَعَمْ قَالَ : " ذَاكَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - أَمَرَنِي أَنْ أَخْرُجَ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ مِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی آواز سنی ، تو آپ جلدی سے اٹھے اور نکل کر اس کی طرف گئے میں آپ کے پیچھے گئی ، تو وہ ایک ایسا شخص تھا ، جس نے ٹیک لگائی ہوئی تھی ، عمامہ باندھا ہوا تھا اور عمامہ کا شملہ دونوں کندھوں کے درمیان پیچھے لٹکایا ہوا تھا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے ، تو میں نے عرض کی : آپ جلدی سے اُٹھ کر چلے گئے تھے ، جب کہ وہ دحیہ کلبی تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم نے اس کو دیکھا تھا ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ جبرائیل تھے اور انہوں نے مجھے یہ کہا: کہ میں بنوقریظہ کی طرف نکلوں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10165
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف