مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ الْخَنْدَقِ وَقُرَيْظَةَ باب: غزوہ خندق اور غزوہ بنو قریظہ کا بیان
وَعَنْ عُرْوَةَ - يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ - أَنَّ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ رُمِيَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ رَمْيَةً فَقَطَعَتِ الْأَكْحَلَ مِنْ عَضُدِهِ ، فَزَعَمُوا أَنَّهُ رَمَاهُ حِبَّانُ بْنُ قَيْسٍ أَحَدُ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ أَحَدُ بَنِي الْعَرِقَةِ ، وَقَالَ آخَرُونَ : رَمَاهُ أَبُو أُسَامَةَ الْجُشَمِيُّ . ¤ فَقَالَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ : رَبِّ اشْفِنِي مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ قَبْلَ الْمَمَاتِ ، فَرَقَأَ الْكَلْمُ بَعْدَ مَا انْفَجَرَ . ¤ قَالَ : وَأَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى بَنِي قُرَيْظَةَ حَتَّى سَأَلُوهُ أَنْ يَجْعَلَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ حَكَمًا يَنْزِلُونَ عَلَى حُكْمِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اخْتَارُوا مِنْ أَصْحَابِي مَنْ أَرَدْتُمْ ، فَلْيَسْتَمِعْ لِقَوْلِهِ " . فَاخْتَارُوا سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ ، فَرَضِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِهِ ، وَسَلَّمُوا . ¤ وَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِأَسْلِحَتِهِمْ فَجُعِلَتْ فِي بَيْتٍ ، وَأَمَرَ بِهِمْ فَكُتِّفُوا وَأُوثِقُوا فَجُعِلُوا فِي دَارِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَأَقْبَلَ عَلَى حِمَارِ أَعْرَابِيٍّ ، يَزْعُمُونَ أَنَّ وَطَاءَ بَرْدَعَتِهِ مِنْ لِيفٍ ، وَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ ، فَجَعَلَ يَمْشِي مَعَهُ يُعَظِّمُ حَقَّ بَنِي قُرَيْظَةَ ، وَيُذَكِّرُ حِلْفَهُمْ ، وَالَّذِي أَبْلَوْهُ يَوْمَ بُعَاثٍ ، وَإِنَّهُمُ اخْتَارُوكَ عَلَى مَنْ سِوَاكَ رَجَاءَ عَفْوِكَ وَتَحَنُّنِكَ عَلَيْهِمْ ، فَاسْتَبْقِهِمْ فَإِنَّهُمْ لَكَ جَمَالٌ وَعَدَدٌ ، فَأَكْثَرَ ذَلِكَ الرَّجُلُ وَلَمْ يُحِرْ إِلَيْهِ سَعْدٌ شَيْئًا حَتَّى دَنَوْا ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ : أَلَا تُرْجِعُ إِلَيَّ شَيْئًا ؟ فَقَالَ : وَاللَّهِ لَا أُبَالِي فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ ، فَيُفَارِقُهُ الرَّجُلُ ، فَأَتَى إِلَى قَوْمِهِ قَدْ يَئِسَ مِنْ أَنْ يَسْتَبْقِيهِمْ ، فَأَخْبَرَهُمْ بِالَّذِي كَلَّمَهُ بِهِ ، وَالَّذِي رَجَعَ إِلَيْهِ سَعْدٌ . ¤ وَنَفَذَ سَعْدٌ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَا سَعْدُ ، احْكُمْ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ " . فَقَالَ سَعْدٌ : أَحْكُمُ فِيهِمْ بِأَنْ تُقْتَلَ مُقَاتِلَتُهُمْ ، وَيُقَسَّمَ سَبْيُهُمْ ، وَتُؤْخَذَ أَمْوَالُهُمْ ، وَتُسْبَى ذَرَارِيُّهُمْ وَنِسَاؤُهُمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " حَكَمَ فِيهِمْ سَعْدٌ بِحُكْمِ اللَّهِ " . ¤ وَيَزْعُمُ نَاسٌ أَنَّهُمْ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْحُكْمَ فِيهِمْ إِلَى سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، فَأُخْرِجُوا رُسُلًا رُسُلًا فَضُرِبَتْ أَعْنَاقُهُمْ . ¤ وَأَخْرَجَ حُيَيُّ بْنُ أَخْطَبَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَلْ أَخْزَاكَ اللَّهُ ؟ " قَالَ : قَدْ ظَهَرْتَ عَلَيَّ وَمَا أَلُومُ نَفْسِي فِيكَ ، فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأُخْرِجَ إِلَى أَحْجَارِ الزَّيْتِ الَّتِي بِالسُّوقِ فَضُرِبَتْ عُنُقُهُ ، كُلُّ ذَلِكَ بِعَيْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ . ¤ وَزَعَمُوا أَنَّهُ كَانَ بَرِئَ كَلْمُ سَعْدٍ وَتَحَجَّرَ بِالثَّرَى ، ثُمَّ إِنَّهُ دَعَا فَقَالَ : اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ، فَإِنَّهُ لَمْ يَكُنْ قَوْمٌ أَبْغَضَ إِلَيَّ مِنْ قَوْمٍ كَذَّبُوا رَسُولَكَ وَأَخْرَجُوهُ ، وَإِنِّي أَظُنُّ أَنْ قَدْ وُضِعَتِ الْحَرْبُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ ، فَإِنْ كَانَ قَدْ بَقِيَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ قِتَالٌ فَأَبْقِنِي أُقَاتِلْهُمْ فِيكَ ، وَإِنْ كُنْتَ قَدْ وَضَعْتَ الْحَرْبَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ ، فَافْجُرْ هَذَا الْمَكَانَ وَاجْعَلْ مَوْتِي فِيهِ ، فَفَجَّرَهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ، وَأَنَّهُ الرَّاقِدُ بَيْنَ ظَهْرَيِ اللَّيْلِ فَمَا دَرَوْا بِهِ حَتَّى مَاتَ ، وَمَا رَقَأَ الْكَلْمُ حَتَّى مَاتَ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ عَنْ عَائِشَةَ مُتَّصِلَ الْإِسْنَادِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو غزوہ خندق کے موقع پر ایک تیر لگا ، جس نے ان کے بازو کی رگ ” اکحل “ کو کاٹ دیا ، لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ جہان بن قیس نے انہیں تیر مارا تھا ، جس کا تعلق بنو عامر بن لؤی کی شاخ بنو عرقہ سے تھا ، دیگر حضرات کا یہ کہنا ہے : ابواسامہ جشمی نے انہیں تیر مارا تھا ۔ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے یہ کہا: تھا : اے میرے پروردگار ! مرنے سے پہلے بنو قریظہ کے حوالے سے مجھے شفاء نصیب کر دے تو اُن کا زخم پھوٹ پڑنے کے بعد رک گیا تھا ( یعنی اس میں سے خون بہنا بند ہو گیا تھا ) ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنو قریظہ کو گھیرے رہے ، یہاں تک کہ انہوں نے آپ سے یہ درخواست کی کہ آپ اپنے اور ان کے درمیان کسی شخص کو ثالث مقرر کر دیں ، وہ لوگ اس کی ثالثی کو تسلیم کر لیں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم میرے ساتھیوں میں سے جسے چاہو اختیار کر لو اس کی بات کو سنا جائے گا ، تو ان لوگوں نے سیدنا سعد بن معاذ کو اختیار کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے راضی ہو گئے ، ان لوگوں نے بھی اس بات کو تسلیم کیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ان لوگوں کا اسلحہ ایک گھر میں رکھا جائے ، نبی اکرم نبی اکرم کے حکم کے تحت ان لوگوں کو باندھ دیا گیا اور سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے گھر میں رکھا گیا ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا وہ ایک دیہاتی کے گدھے پر سوار ہو کر آئے ، لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ اس گدھے پر جو چادر بچھی ہوئی تھی ۔ اس میں پتے بھرے ہوئے تھے بنو عبداشہل سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ان کے ساتھ ، ساتھ آ رہا تھا وہ ان کے ساتھ چلتے ہوئے بنو قریظہ کے حق کی بڑائی کو بیان کر رہا تھا ، ان کے اخلاق کا ذکر کر رہا تھا ، جنگ بعاث کے موقع پر ان لوگوں نے جو طرز عمل اختیار تھا اس کا ذکر کر رہا تھا کہ ان لوگوں نے آپ کے علاوہ کے مقابلے میں ، آپ کو اختیار کیا تھا ، یہ امید رکھتے ہوئے کہ آپ مہربانی کریں گے اور ان پر مہربان ہوں گے تو آپ اس چیز کا خیال رکھیں ، کیونکہ آپ کے لئے ان لوگوں میں جمال بھی ہے اور تعداد بھی ہے ، اس شخص نے اس بارے میں زیادہ باتیں کیں ، لیکن سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا ، جب یہ لوگ قریب پہنچ گئے ، تو اس شخص نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ مجھے کوئی جواب کیوں نہیں دیتے ہیں ؟ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کروں گا ، تو وہ شخص ان سے جدا ہو گیا اور اپنی قوم کے پاس گیا وہ اس بات سے مایوس ہو چکا تھا کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ ان لوگوں کو باقی رہنے دیں گے ، اس نے اپنی قوم کو اس بارے میں بتایا ، جو اس نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے ساتھ بات کی تھی اور جو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اسے جواب دیا تھا ۔ پھر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے سعد ! تم ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ دو ! تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان کے بارے میں یہ فیصلہ دیتا ہوں کہ ان کے جنگو افراد کو قتل کروا دیں ، ان کے قیدیوں کو تقسیم کر لیں اور ان کے اموال حاصل کر لیے جائیں ، ان کے بچوں اور عورتوں کو قیدی بنا لیا جائے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سعد نے ان کے بارے میں اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ دیا ہے ۔ بعض لوگوں کا یہ بیان کرنا ہے : وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے پر تیار ہوئے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فیصلہ کی ذمہ داری سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو سونپ دی تھی ، تو ان لوگوں کو گروہ در گروہ کر کے لایا گیا اور ان کی گردنیں اڑا دی گئیں ، جب حیی بن اخطب کو لایا گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا اللہ تعالیٰ نے تمہیں رسوائی کا شکار کر دیا ہے ؟ اس نے کہا: آپ نے مجھ پر غلبہ پا لیا ہے ، اور آپ کے بارے میں ، میں اپنی ذات کو ملامت نہیں کرتا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اسے احجارزیت کی طرف لے جایا گیا جو بازار میں ہے اور وہاں اس کی گردن اڑا دی گئی ، یہ سب کچھ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے سامنے ہوتا رہا ۔ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کا زخم ٹھیک ہو گیا تھا ، اور وہ ٹھیک ہونے کے قریب تھے ، لیکن پھر انہوں نے یہ دعا کی : اے اللہ ! اے آسمانوں اور زمین کے پروردگار ! کوئی بھی قوم میرے نزدیک اُس قوم سے زیادہ ناپسندیدہ نہیں ہے ، جس نے تیرے رسول کو جھٹلایا اور انہیں نکلنے پر مجبور کیا ، میرا یہ خیال ہے کہ تو نے ہمارے اور ان کے درمیان سے جنگ کو اٹھا لیا ہے ، اگر ہمارے اور ان کے درمیان ابھی جنگ باقی ہے ، تو مجھے باقی رکھ ، تاکہ میں تیری راہ میں ان لوگوں کے ساتھ جنگ کروں اور اگر تو نے ہمارے اور ان کے درمیان سے جنگ کو اٹھا لیا ہے ، تو اس جگہ سے ( خون ) بہنا شروع ہو جائے اور میری موت اس زخم کی وجہ سے ہو ، تو اللہ تعالیٰ نے ان کے زخم کو بہایا اور وہ رات بھر سوتے رہے ، لوگوں کو پتہ بھی نہیں چلا ، یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا ، ان کے مرنے تک ان کا زخم بہتا رہا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح“ میں اس کا کچھ حصہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے متصل سند کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔