کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: بئر معونہ کے دن ، جن حضرات نے جام شہادت نوش کیا ، ان کا بیان
حدیث نمبر: 10133
عَنْ عُرْوَةَ فِي تَسْمِيَةِ مَنِ اسْتُشْهِدَ يَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَوْسُ بْنُ مُعَاذٍ الْأَنْصَارِيُّ ، وَالْحَكَمُ بْنُ كَيْسَانَ الْمَخْزُومِيُّ ، وَالْحَارِثُ بْنُ الصِّمَّةِ ، وَسَهْلُ بْنُ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنُ عَمْرِو بْنِ ثَقَبٍ الْأَنْصَارِيُّ ، وَمِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي تَيْمِ بْنِ مُرَّةَ : عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ . ¤ وَفِي إِسْنَادِهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ إِذَا تُوبِعَ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
عروہ نے ” بئر معونہ “ کے دن جام شہادت نوش کرنے والے صحابہ کرام کے اسماء بیان کیے ہیں ( جو یہ ہیں : ) سیدنا اوس بن معاذ انصاری رضی اللہ عنہ ، سیدنا حکم بن کیسان مخزومی رضی اللہ عنہ ، سیدنا حارث بن صمہ رضی اللہ عنہ ، سیدنا سہل بن عامر بن سعد بن عمرو بن ثقیف انصاری رضی اللہ عنہ قریش کی شاخ بنوتیم بن مرہ سے تعلق رکھنے والے سیدنا عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، جبکہ اُس کی متابعت کی گئی ہے اور اس راوی میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 10134
وَعَنِ ابْنِ شِهَابٍ فِي تَسْمِيَةِ مَنِ اسْتُشْهِدَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ : الْحَارِثُ بْنُ الصِّمَّةِ . ¤ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابن شہاب زہری نے ” بئر معونہ “ کے دن ، جام شہادت کرنے والے مسلمانوں کے ناموں میں ، سیدنا حارث بن صمہ رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ہے ۔ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 10135
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ فِي تَسْمِيَةِ مَنِ اسْتُشْهِدَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ : نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ وَرْقَاءَ الْخُزَاعِيُّ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن اسحاق نے ” بئر معونہ “ کے دن جام شہادت نوش کرنے والے صحابہ کرام کے اسماء میں ، سیدنا نافع بن یزید بن ورقاء خزاعی رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 10136
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : إِيَّاكُمْ وَالشَّهَادَاتِ ، فَإِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ فَاعِلِينَ ، فَاشْهَدُوا لِسَرِيَّةٍ بَعَثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأُصِيبُوا ، فَنَزَلَ فِيهِمُ الْقُرْآنُ : أَنْ أَبْلِغُوا عَنَّا قَوْمَنَا : أَنْ قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا ، فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، وَقَدِ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تم گواہیاں دینے سے بچو ! اگر تم نے ضرور ایسا کرنا ہو ، تو اس مہم کے حق میں گواہی دو ، جن لوگوں کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا تھا ، اور پھر انہیں شہادت نصیب ہوئی ، اُن کے بارے میں قرآن نازل ہوا : ” ( انہوں نے کہا: ) تم ہماری طرف سے ہماری قوم کو یہ پیغام پہنچا دو ! کہ ہم اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہو چکے ہیں ، وہ ہم سے راضی ہے ، اور اس نے ہمیں راضی کر دیا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔