حدیث نمبر: 10144
وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ : لَمْ يَكُنْ حِصْنٌ أَحْصَنَ مِنْ حِصْنِ بَنِي حَارِثَةَ ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - النِّسَاءَ وَالصِّبْيَانَ وَالذَّرَارِيَ فِيهِ ، وَقَالَ : إِنْ أَلَمَّ بِكُنَّ أَحَدٌ فَالْمَعْنَ بِالسَّيْفِ " . ¤ فَجَاءَهُنَّ رَجُلٌ مِنْ بَنِي ثَعْلَبَةَ بْنِ سَعْدٍ يُقَالُ لَهُ : نَجْدَانُ ، أَحَدُ بَنِي حَشَّاشٍ عَلَى فَرَسٍ حَتَّى كَانَ فِي أَصْلِ الْحِصْنِ ، ثُمَّ جَعَلَ يَقُولُ لِلنِّسَاءِ : انْزِلْنَ إِلَيَّ خَيْرٌ لَكُنَّ ، فَحَرَّكْنَ السَّيْفَ فَأَبْصَرَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَابْتَدَرَ الْحِصْنَ قَوْمٌ فِيهِمْ رَجُلٌ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ ، يُقَالُ لَهُ : ظُهَيْرُ بْنُ رَافِعٍ ، فَقَالَ : يَا نَجْدَانُ ، ابْرُزْ فَبَرَزَ إِلَيْهِ ، فَحَمَلَ عَلَيْهِ فَرَسَهُ فَقَتَلَهُ ، وَأَخَذَ رَأْسَهُ فَذَهَبَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بنو حارثہ کے قلعے سے زیادہ مضبوط قلعہ اور کوئی نہیں تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین ، بچوں اور قیدیوں کو اس میں رکھا اور ارشاد فرمایا : اگر کوئی تمہاری طرف آنے کی کوشش کرے ، تو اسے تلوار کے ذریعے روکنا ، بنو ثعلبہ بن سعد سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ، جس کا نام نجدان تھا ، وہ ان خواتین کی طرف آیا ، وہ گھوڑے پر سوار ہو کے آیا تھا ، یہاں تک کہ جب وہ قلعے کی بنیاد کے پاس پہنچا ، تو اس نے خواتین سے کہنا شروع کیا کہ تم اُتر کر میری طرف آ جاؤ ، ان خواتین نے تلوار کو حرکت دی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے اُسے دیکھ لیا ، وہ تیزی سے قلعے کی طرف گئے ، اُن لوگوں میں بنو حارثہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص بھی تھا ، جس کا نام ظہیر بن رافع تھا ، اس نے کہا: اے نجدان ! سامنے آؤ ، وہ نکل کر اس کے سامنے آیا ، اس نے اپنے گھوڑے کے ذریعے اس پر حملہ کر کے اسے قتل کیا ، اُس کا سر پکڑا اور اُسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10144
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4378)»