مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ الْخَنْدَقِ وَقُرَيْظَةَ باب: غزوہ خندق اور غزوہ بنو قریظہ کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : احْتَفَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْخَنْدَقَ وَأَصْحَابُهُ قَدْ شَدُّوا الْحِجَارَةَ عَلَى بُطُونِهِمْ مِنَ الْجُوعِ ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " هَلْ دُلِلْتُمْ عَلَى أَحَدٍ يُطْعِمُنَا أَكَلَةً ؟ " ، قَالَ رَجُلٌ : نَعَمْ ، قَالَ : " أَمَّا لَا فَتَقَدَّمْ ، فَدُلَّنَا عَلَيْهِ " ، فَانْطَلَقُوا إِلَى رَجُلٍ فَإِذَا هُوَ فِي الْخَنْدَقِ يُعَالِجُ نَصِيبَهُ مِنْهُ ، فَأَرْسَلَتِ امْرَأَتُهُ أَنْ جِئْ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ أَتَانَا ، فَجَاءَ الرَّجُلُ يَسْعَى فَقَالَ : بِأَبِي وَأُمِّي وَلَهُ مَعْزَةٌ وَمَعَهَا جَدْيُهَا ، فَوَثَبَ إِلَيْهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْجَدْيُ مِنْ وَرَائِنَا " فَذَبَحَ الْجَدْيَ ، وَعَمَدَتِ امْرَأَتُهُ إِلَى طَحِينَةٍ لَهَا فَعَجَنَتْهَا وَخَبَزَتْ وَأَدْرَكَتِ الْقِدْرَ وَثَرَدَتْ قَصْعَتَهَا ، فَقَرَّبَتْهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابِهِ ، فَوَضَعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِصْبَعَهُ فِيهَا ، فَقَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ ، اللَّهُمَّ بَارِكْ فِيهَا ، اللَّهُمَّ بَارِكْ فِيهَا ، اطَّعِمُوا " ، فَأَكَلُوا مِنْهَا حَتَّى صَدَرُوا ، وَلَمْ يَأْكُلُوا مِنْهَا إِلَّا ثُلُثَهَا وَبَقِيَ ثُلُثَاهَا ، فَسَرَحَ أُولَئِكَ الْعَشَرَةُ الَّذِينَ كَانُوا مَعَهُ : أَنِ اذْهَبُوا وَسَرِّحُوا إِلَيْنَا نُغَدِّيكُمْ ، فَذَهَبُوا وَجَاءَ أُولَئِكَ الْعَشْرَةُ مَكَانَهُ فَأَكَلُوا مِنْهَا حَتَّى شَبِعُوا ، ثُمَّ قَامَ وَدَعَا لِرَبَّةِ الْبَيْتِ وَشَمَتَ عَلَيْهَا وَعَلَى أَهْلِهَا ، ثُمَّ مَشَوْا إِلَى الْخَنْدَقِ ، فَقَالَ : " اذْهَبُوا بِنَا إِلَى سَلْمَانَ " ، وَإِذَا صَخْرَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ قَدْ ضَعُفَ عَنْهَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَصْحَابِهِ " دَعُونِي فَأَكُونَ أَوَّلَ مَنْ ضَرَبَهَا " ، فَقَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ " فَضَرَبَهَا فَوَقَعَتْ فِلْقَةُ ثُلُثِهَا ، فَقَالَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ ، قُصُورُ الرُّومِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ " ، ثُمَّ ضَرَبَ أُخْرَى فَوَقَعَتْ فِلْقَةٌ ، فَقَالَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ قُصُورُ فَارِسَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ " ، فَقَالَ عِنْدَهَا الْمُنَافِقُونَ : نَحْنُ بِخَنْدَقٍ عَلَى أَنْفُسِنَا ] وَهُوَ يَعِدُنَا قُصُورَ فَارِسَ وَالرُّومِ ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ، وَنُعَيْمٍ الْعَنْبَرِيِّ ، وَهُمَا ثِقَتَانِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب خندق کھود رہے تھے ، اُن حضرات نے بھوک کی شدت کی وجہ سے پتھر باندھے ہوئے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ملاحظہ فرمائی ، تو آپ نے فرمایا : کیا تمہاری رہنمائی کسی ایسے شخص کی طرف کی جا سکتی ہے ؟ جو ہمیں کھانا کھلا دے ؟ ایک صاحب نے کہا: جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہے ، تم آگے آؤ اور اس کے بارے میں ہماری رہنمائی کر دو ، پھر وہ لوگ اس شخص کے پاس گئے ، وہ خندق میں موجود تھا ، اور اپنے حصے کا کام کر رہا تھا ، اُس نے اپنی بیوی کو پیغام بھیجا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائیں گے ، پھر وہ شخص دوڑتا ہوا آیا اور بولا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، میرے پاس ایک بکری ہے اور ایک بکیر کا بچہ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بکری کا بچہ ہمارے پیچھے ہے ، تو اس نے بکری کے بچے کو ذبح کر دیا ، پھر اس کی بیوی آٹا گوندھنے لگی اس نے گوندھ لیا اور روٹی پکا لی ، اسی دوران ہنڈیا تیار ہو گئی ، تو اس نے ثرید تیار کیا اُسے پیالے میں رکھا اور اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اور آپ کے اصحاب کے سامنے پیش کر دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں اس میں ڈالیں اور فرمایا : اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، اے اللہ ! اس میں برکت رکھ دے ، اے اللہ ! اس میں برکت رکھ دے ! ( پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا : ) تم لوگ کھاؤ ! ان لوگوں نے اس میں سے کھایا اور جب وہ لوگ اُٹھ کر واپس گئے تو وہ اس کا صرف ایک تہائی حصہ کھا سکے تھے ، اس کا دو تہائی حصہ باقی تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن دس افراد کو جو آپ کے ساتھ تھے انہیں رخصت کیا اور فرمایا : تم لوگ جاؤ ، اور اپنے جتنی تعداد کے افراد ہماری طرف بھجوا دو ! وہ لوگ گئے ، اور ان کی جگہ دوسرے دس افراد آ گئے انہوں نے بھی کھانا کھایا ، یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے ، اور اُٹھ گئے ، انہوں نے گھر کے مالک کے لئے دعا کی ، اُسے اور اس کی بیوی کو دعائیں دیں ، پھر وہ لوگ خندق کی طرف چلے گئے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہمارے ساتھ سلمان کی طرف چلو ! وہاں آپ کے سامنے ایک چٹان موجود تھی ، جسے وہ توڑ نہیں پائے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا : مجھے موقع دو ! تاکہ میں اس پر ضرب لگاؤں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ضرب لگائی ، تو اس کا ایک تہائی حصہ ٹوٹ گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ اکبر ! رب کعبہ کی قسم ! روم کے محلات ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اور ضرب لگائی ، تو اس کا ایک اور حصہ ٹوٹ گیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ اکبر ! رب کعبہ کی قسم ! فارس کے محلات ، اُس وقت منافقین نے کہا: ہم خندق خود کھود رہے ہیں ، اور یہ ہمارے ساتھ فارس اور روم کے محلات کا وعدہ کر رہے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن أحمد بن حنبل اور نعیم عنبری کا معاملہ مختلف ہے اور یہ دونوں ثقہ ہیں ۔