مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ الْخَنْدَقِ وَقُرَيْظَةَ باب: غزوہ خندق اور غزوہ بنو قریظہ کا بیان
وَعَنْ سَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْخَنْدَقِ وَرَجُلٌ يَتَتَرَّسُ ، جَعَلَ يَقُولُ بِالتُّرْسِ هَكَذَا ، فَوَضَعَهُ فَوْقَ أَنْفِهِ ، ثُمَّ يَقُولُ هَكَذَا ، يُسْفِلُهُ بَعْدُ ، قَالَ : فَأَهْوَيْتُ إِلَى كِنَانَتِي فَأَخْرَجْتُ مِنْهَا سَهْمًا مُدْمًى ، فَوَضَعْتُهُ فِي كَبِدِ الْقَوْسِ ، فَلَمَّا قَالَ هَكَذَا - يُسْفِلُ التُّرْسَ - رَمَيْتُ فَمَا نَسِيتُ وَقْعَ الْقَدَحِ عَلَى كَذَا وَكَذَا مِنَ التُّرْسِ قَالَ : وَسَقَطَ فَقَالَ بِرِجْلِهِ هَكَذَا ، فَضَحِكَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَحْسَبُهُ قَالَ : حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ - قَالَ : قُلْتُ : لِمَ فَعَلَ ؟ قَالَ : لِفِعْلِ الرَّجُلِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : كَانَ رَجُلٌ مَعَهُ تُرْسَانِ ، وَكَانَ سَعْدٌ رَامِيًا ، فَكَانَ يَقُولُ كَذَا وَكَذَا بِالتُّرْسَيْنِ يُغَطِّي جَبْهَتَهُ ، فَنَزَعَ لَهُ سَعْدٌ بِسَهْمٍ ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ رَمَاهُ ، فَلَمْ يُخْطِ هَذِهِ مِنْهُ - يَعْنِي : جَبْهَتَهُ - . ¤ وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ خندق کے موقع پر ، ایک شخص اپنی ڈھال کے ذریعے بچ رہا تھا ، اور اپنی ڈھال کے ذریعے اس طرح کر رہا تھا ، وہ اسے اپنی ناک پر رکھتا تھا ، پھر اس طرح کرتا تھا ، اُس سے ذرا نیچے کر لیتا تھا ، میں نے اپنے ترکش کی طرف ہاتھ بڑھایا ، اُس میں سے ایک تیر نکالا ، جس پر خون لگا ہوا تھا ، میں نے وہ کمان میں لگایا ، جب اس نے ، اس طرح کیا اور ڈھال کو ذرا نیچے کیا ، تو میں نے تیر چلا دیا ، میں یہ بات نہیں بھولا تھا کہ وہ اتنی ، اتنی دیر میں ڈھال کو کتنی حرکت دے گا ، راوی کہتے ہیں : تو وہ شخص نیچے گر گیا اور اس کا پاؤں اس طرح ہو گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے ۔ راوی کہتے ہیں : یہاں تک کہ آپ کے اطراف کے دانت بھی نظر آنے لگے ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : آپ نے ایسا کیوں کیا تھا ؟ انہوں نے جواب دیا : اس شخص کے طرز عمل کی وجہ سے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اس شخص کے پاس دو ڈھالیں تھیں اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ تیر انداز تھے ، وہ دونوں ڈھالوں کے ذریعے اس ، اس طرح کرتا تھا ، اپنی پیشانی کو چھپاتا تھا ، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے تیر نکالا ، جب اس نے اپنا سر اٹھایا ، تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اسے تیر مار دیا ، تو وہ اس کی پیشانی سے خطا نہیں ہوا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ باقی روایت حسب سابق ہے ، ان دونوں روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن محمد بن اسود کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔