حدیث نمبر: 10138
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ : أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِحَفْرِ الْخَنْدَقِ ، وَعَرَضَ لَنَا صَخْرَةٌ فِي مَكَانٍ مِنَ الْخَنْدَقِ لَا تَأْخُذُ فِيهَا الْمَعَاوِلُ ، فَشَكَوْهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - - وَأَحْسَبُهُ قَالَ : وَضَعَ ثَوْبَهُ - ثُمَّ هَبَطَ إِلَى الصَّخْرَةِ فَأَخَذَ الْمِعْوَلَ ، فَقَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ " فَضَرَبَ ضَرْبَةً فَكَسَرَ ثُلُثَ الْحَجَرِ ، وَقَالَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ ، أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ الشَّامِ ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأُبْصِرُ قُصُورَهَا الْحُمْرَ مِنْ مَكَانِي هَذَا " ، ثُمَّ قَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ " وَضَرَبَ أُخْرَى ، فَكَسَرَ ثُلُثَ الْحَجَرِ ، فَقَالَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ ، أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ فَارِسَ ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأُبْصِرُ الْمَدَائِنَ ، وَأُبْصِرُ قَصْرَهَا الْأَبْيَضَ مِنْ مَكَانِي هَذَا " ، ثُمَّ قَالَ : " بِسْمِ اللَّهِ " وَضَرَبَ ضَرْبَةً أُخْرَى فَقَطَعَ بَقِيَّةَ الْحَجَرِ ، فَقَالَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ ، أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ الْيَمَنِ ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأُبْصِرُ أَبْوَابَ صَنْعَاءَ مِنْ مَكَانِي هَذَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مَيْمُونُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خندق کھودنے کا حکم دیا ، خندق میں ایک جگہ ایک چٹان ہمارے سامنے آئی ، جس پر پھاؤڑے کا اثر نہیں ہوتا تھا ، لوگوں نے اس کی شکایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ۔ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ، روایت میں یہ الفاظ ہیں : آپ نے اپنا کپڑا رکھا اور آپ چٹان پر چڑھ گئے ، آپ نے پھاؤڑا پکڑا اور پھر فرمایا : اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، پھر آپ نے ایک ضرب لگائی ، تو پتھر ( یعنی چٹان ) کا ایک تہائی حصہ ٹوٹ گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ اکبر ! مجھے شام کی کنجیاں عطا کر دی گئی ہیں ۔ اللہ کی قسم ! میں اپنی اس جگہ سے وہاں کے سرخ محلات دیکھ رہا ہوں ، پھر آپ نے فرمایا : اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، اور آپ نے دوسری ضرب لگائی ، تو اس کا مزید ایک تہائی حصہ ٹوٹ گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ اکبر ! مجھے فارس کی چابیاں عطا کر دی گئی ہیں ، اور میں مختلف شہروں کو ( یا مدائن نامی شہر کو ) دیکھ رہا ہوں ، اور میں اپنی اس جگہ سے ، وہاں کے سفید محل کو دیکھ رہا ہوں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، پھر آپ نے ایک اور ضرب لگائی اور بقیہ پتھر کو بھی توڑ دیا ، آپ نے فرمایا : اللہ اکبر ! مجھے یمن کی چابیاں عطا کر دی گئی ہیں ، اور میں اپنی اس جگہ پر کھڑا ہوا صنعاء کے دروازوں کو دیکھ رہا ہوں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی میمون ابوعبداللہ ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10138
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1685) اخرجه احمد فى المسند (303/4)»