حدیث نمبر: 10164
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا رَجَعَ مِنْ طَلَبِ الْأَحْزَابِ ، رَجَعَ فَنَزَعَ لَأْمَتَهُ وَاغْتَسَلَ وَاسْتَجْمَرَ . ¤ زَادَ دُحَيْمٌ فِي حَدِيثِهِ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَنَزَلَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَقَالَ : عَذِيرُكَ مِنْ مُحَارِبٍ ، أَلَا أَرَاكَ قَدْ وَضَعْتَ اللَّأْمَةَ وَمَا وَضَعْنَاهَا بَعْدُ " . ¤ فَوَثَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَزِعًا ، فَعَزَمَ عَلَى النَّاسِ أَلَّا يُصَلُّوا الْعَصْرَ إِلَّا فِي بَنِي قُرَيْظَةَ ، فَلَبِسُوا السِّلَاحَ وَخَرَجُوا فَلَمْ يَأْتُوا بَنِي قُرَيْظَةَ حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ . ¤ وَاخْتَصَمَ النَّاسُ فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : صَلُّوا فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يُرِدْ أَنْ تَتْرُكُوا الصَّلَاةَ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : عَزَمَ عَلَيْنَا أَنْ لَا نُصَلِّيَ حَتَّى نَأْتِيَ بَنِي قُرَيْظَةَ ، وَإِنَّمَا نَحْنُ فِي عَزِيمَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَيْسَ عَلَيْنَا إِثْمٌ . ¤ فَصَلَّتْ طَائِفَةٌ الْعَصْرَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا ، وَطَائِفَةٌ لَمْ يُصَلُّوا حَتَّى نَزَلُوا بَنِي قُرَيْظَةَ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّوْهَا إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا ، فَلَمْ يُعَنِّفْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاحِدَةً مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مَرْزُوقِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، لشکروں کا پیچھا کر کے جب واپس تشریف لائے ، تو آپ نے اپنے ہتھیار اتارے غسل کیا اور ڈھیلے استعمال کیے ۔ دحیم نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جبرائیل نازل ہوا اور بولا: جنگجو کی طرف سے آپ کا عذر ، میں آپ کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ نے ہتھیار اتار دیے ہیں ، حالانکہ ہم ( فرشتوں ) نے وہ نہیں اتارے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پریشانی کے عالم میں فوراً کھڑے ہوئے ، آپ نے لوگوں کو یہ ہدایت کی کہ وہ عصر کی نماز بنو قریظہ کے علاقے میں ادا کریں لوگوں نے ہتھیار پہنے اور روانہ ہو گئے ، ان کے بنو قریظہ پہنچنے سے پہلے سورج غروب ہونے کے قریب ہو گیا ، تو عصر کی نماز کے بارے میں لوگوں کے درمیان اختلاف ہو گیا بعض حضرات کا یہ کہنا تھا کہ تم لوگ نماز ادا کر لو ، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ نہیں تھی کہ تم لوگ نماز ترک کر دو ، بعض حضرات کا یہ کہنا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ تاکید کی تھی کہ ہم نماز اس وقت ادا کریں ، جب ہم بنو قریظہ کے علاقے میں پہنچ جائیں ، تو ہم اللہ کے رسول کے حکم کے پابند ہیں ، اس حوالے سے ہم پر کوئی گناہ نہیں ہو گا ، تو ایک گروہ نے ایمان کی حالت میں ثواب کی امید رکھتے ہوئے عصر کی نماز ادا کر لی اور ایک گروہ نے عصر کی نماز اس وقت تک ادا نہیں کی ، جب تک وہ بنو قریظہ کے علاقے میں نہیں پہنچ گئے ، اور وہ سورج غروب ہونے کے بعد وہاں پہنچے تھے ، وہاں پہنچ کر انہوں نے ایمان کی حالت میں ثواب کی امید رکھتے ہوئے ، وہ نماز ادا کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں گروہوں میں سے کسی پر بھی ناراضگی کا اظہار نہیں کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف مرزوق بن ابوہذیل کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10164
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (80/19)»