حدیث نمبر: 10155
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : خَرَجْتُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ أَقْفُو آثَارَ النَّاسِ ، فَسَمِعْتُ وَئِيدَ الْأَرْضِ مِنْ وَرَائِي - يَعْنِي : حِسَّ الْأَرْضِ - قَالَتْ : فَإِذَا أَنَا بِسَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ وَمَعَهُ ابْنُ أَخِيهِ الْحَارِثُ بْنُ أَوْسٍ يَحْمِلُ مِجَنَّهُ . ¤ قَالَتْ : فَجَلَسْتُ إِلَى الْأَرْضِ ، فَمَرَّ سَعْدٌ وَعَلَيْهِ دِرْعٌ مِنْ حَدِيدٍ قَدْ خَرَجَتْ مِنْهَا أَطْرَافُهُ ، فَأَنَا أَتَخَوَّفُ عَلَى أَطْرَافِ سَعْدٍ ، قَالَتْ : وَكَانَ سَعْدٌ مِنْ أَعْظَمِ النَّاسِ وَأَطْوَلِهِمْ قَالَتْ : فَمَرَّ وَهُوَ يَرْتَجِزُ وَيَقُولُ . ¤ لَبِثَ قَلِيلًا يُدْرِكُ الْهَيْجَا جَمَلْ مَا أَحْسَنَ الْمَوْتَ إِذَا حَانَ الْأَجَلْ قَالَتْ : [ فَقُمْتُ ] فَاقْتَحَمْتُ حَدِيقَةً فَإِذَا فِيهَا نَفَرٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، وَإِذَا فِيهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، وَفِيهِمْ رَجُلٌ عَلَيْهِ تَسْبِغَةٌ لَهُ - يَعْنِي : الْمِغْفَرَ - فَقَالَ عُمَرُ : مَا جَاءَ بِكِ ، لَعَمْرِي [ وَاللَّهِ ] إِنَّكِ لَجَرِيئَةٌ ، وَمَا يُؤْمِنُكِ أَنْ يَكُونَ بَلَاءً أَوْ يَكُونَ تَحَوُّزٌ ؟ قَالَتْ : فَمَا زَالَ يَلُومُنِي حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنَّ الْأَرْضَ انْشَقَّتْ لِي سَاعَتَئِذٍ فَدَخَلْتُ فِيهَا ! . ¤ قَالَ : فَرَفَعَ الرَّجُلُ التَّسْبِغَةَ عَنْ وَجْهِهِ فَإِذَا طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، فَقَالَ : وَيْحَكَ يَا عُمَرُ ، إِنَّكَ قَدْ أَكْثَرْتَ مُنْذُ الْيَوْمِ ، وَأَيْنَ التَّحَوُّزُ أَوِ الْفِرَارُ إِلَّا إِلَى اللَّهِ تَعَالَى ؟ ! . ¤ قَالَتْ : وَيَرْمِي سَعْدًا رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهُ : ابْنُ الْعَرِقَةِ بِسَهْمٍ لَهُ ، فَقَالَ لَهُ : خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الْعَرِقَةِ فَأَصَابَ أَكْحَلَهُ فَقَطَعَهُ فَدَعَا اللَّهَ سَعْدٌ فَقَالَ : اللَّهُمَّ لَا تُمِتْنِي حَتَّى تُقِرَّ عَيْنِي مِنْ بَنِي قُرَيْظَةَ [ قَالَتْ : وَكَانُوا حُلَفَاؤُهُ وَمَوَاليِهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ . قَالَتْ :فَرَقَى كَلِمَهُ، وَبَعَثَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - الرِّيحَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ ، فَكَفَى اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًا ، فَلَحِقَ أَبُو سُفْيَانَ وَمَنْ مَعَهُ بِتِهَامَةَ ،وَلَحِقَ عُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ وَمَنْ مَعَهُ بِنَجْدٍ ، وَرَجَعَتْ بَنُو قُرَيْظَةَ فَتَحَصَّنُوا فِي ] صَيَاصِيهِمْ ، وَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْمَدِينَةِ ، وَأَمَرَ بِقُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ فَضُرِبَتْ عَلَى سَعْدٍ فِي الْمَسْجِدِ . ¤ قَالَتْ : فَجَاءَهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - وَإِنَّ عَلَى ثَنَايَاهُ لَتَقْعُ الْغُبَارِ ، فَقَالَ : لَقَدْ وَضَعْتَ السِّلَاحَ ! لَا وَاللَّهِ مَا وَضَعَتِ الْمَلَائِكَةُ بَعْدُ السِّلَاحَ ، اخْرُجْ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ فَقَاتِلْهُمْ . ¤ قَالَ : فَلَبِسَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَأْمَتَهُ وَأَذَّنَ فِي النَّاسِ بِالرَّحِيلِ أَنْ يَخْرُجُوا ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَرَّ عَلَى بَنِي غَنْمٍ ، وَهُمْ جِيرَانُ الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : " مَنْ مَرَّ بِكُمْ ؟ " . فَقَالُوا : مَرَّ بِنَا دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ ، وَكَانَ دَحْيَةٌ تُشْبِهُ لِحْيَتُهُ [ وَسِنُّهُ ] وَوَجْهُهُ جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - . ¤ قَالَتْ : فَأَتَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَاصَرَهُمْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً ، فَلَمَّا اشْتَدَّ حَصْرُهُمْ ، وَاشْتَدَّ الْبَلَاءُ ، قِيلَ لَهُمُ : انْزِلُوا عَلَى حُكْمِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاسْتَشَارُوا أَبَا لُبَابَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ ، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنَّهُ الذَّبْحُ ، فَقَالُوا : نَنْزِلُ عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ( انْزِلُوا عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ ) [ فَنَزَلُوا ] وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَأُتِيَ بِهِ عَلَى حِمَارٍ عَلَيْهِ إِكَافٌ مِنْ لِيفٍ قَدْ حُمِلَ عَلَيْهِ ، وَحَفَّ بِهِ قَوْمُهُ ، وَقَالُوا لَهُ : يَا أَبَا عَمْرٍو حُلَفَاؤُكَ وَمَوَالِيكَ وَأَهْلُ النِّكَايَةِ ، وَمَنْ قَدْ عَلِمْتَ . فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيْهِمْ شَيْئًا ، وَلَا يَلْتَفِتْ إِلَيْهِمْ حَتَّى إِذَا دَنَا مِنْ دُورِهِمُ الْتَفَتَ إِلَى قَوْمِهِ ، فَقَالَ : قَدْ أَنَا لِي أَنْ لَا يَأْخُذَنِي فِي اللَّهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ . ¤ قَالَ : قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : فَلَمَّا طَلَعَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ فَأَنْزِلُوهُ " . قَالَ عُمَرُ : سَيِّدُنَا اللَّهُ . قَالَ : " أَنْزِلُوهُ " . فَأَنْزَلُوهُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " احْكُمْ فِيهِمْ " . قَالَ سَعْدٌ : فَإِنِّي أَحْكُمُ فِيهِمْ أَنْ تُقْتَلَ مُقَاتِلَتُهُمْ ، وَتُسْبَى ذَرَارِيُّهُمْ ، وَتُقَسَّمَ أَمْوَالُهُمْ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَقَدْ حَكَمْتَ فِيهِمْ بِحُكْمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَحُكْمِ رَسُولِهِ " . ¤ قَالَ : ثُمَّ دَعَا سَعْدٌ فَقَالَ : اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ أَبْقَيْتَ عَلَى نَبِيِّكَ مِنْ حَرْبِ قُرَيْشٍ شَيْئًا فَأَبْقِنِي لَهَا ، وَإِنْ كُنْتَ قَطَعْتَ الْحَرْبَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ فَاقْبِضْنِي إِلَيْكَ . ¤ قَالَتْ : فَانْفَجَرَ كَلْمُهُ وَكَانَ قَدْ بَرَأَ إِلَّا مِثْلَ الْخُرْصِ . قَالَتْ : وَرَجَعَ إِلَى قُبَّتِهِ الَّتِي ضَرَبَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . قَالَتْ عَائِشَةُ : فَحَضَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ . ¤ قَالَتْ : فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، إِنِّي لَأَعْرِفُ بُكَاءَ عُمَرَ مِنْ بُكَاءِ أَبِي بَكْرٍ وَأَنَا فِي حُجْرَتِي ، وَكَانُوا كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ . ¤ قَالَ عَلْقَمَةُ : فَقُلْتُ : أَيْ أُمَّهْ فَكَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَصْنَعُ ؟ قَالَتْ : كَانَتْ عَيْنُهُ لَا تَدْمَعُ عَلَى أَحَدٍ ، وَلَكِنَّهُ كَانَ إِذَا وَجَدَ فَإِنَّمَا هُوَ آخِذٌ بِلِحْيَتِهِ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : غزوہ خندق کے موقع پر میں لوگوں کے پیچھے چلتی ہوئی نکلی ، میں نے اپنے پیچھے زمین پر کسی کے چلنے کی آہٹ سنی ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے دیکھا تو وہ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ تھے اور ان کے ساتھ ان کے بھتیجے سیدنا حارث بن اوس رضی اللہ عنہ تھے ، جنہوں نے ان کی ڈھال کو اٹھایا ہوا تھا ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں زمین پر بیٹھ گئی ، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ گزرے ان کے جسم پر لوہے کی قمیص ( یعنی زرہ ) تھی ، جس میں سے ان کے اطراف باہر آ رہے تھے ، مجھے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے اطراف کے حوالے سے اندیشہ ہوا ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بڑے لمبے تڑنگے آدمی تھے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب وہ گزرے تو وہ یہ رجز پڑھ رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے : ” تھوڑی ہی دیر میں اونٹ جنگ ( کے میدان ) تک پہنچ جائے گا ، اور جب وقت آ چکا ہو تو ( جنگ میں موت ) کتنی اچھی موت ہے “ ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں اٹھی اور میں ایک باغ میں داخل ہو گئی ، وہاں کچھ مسلمان موجود تھے ، ان میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے ، ان میں ایک ایسا شخص بھی موجود تھا ، جس نے خود پہنا ہوا تھا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم کیوں آئی ہو ؟ مجھے اپنی زندگی کی قسم ہے ، تم بڑی جرات مند ہو اور تمہیں اس بات سے کیا بے خوفی تھی کہ کوئی صورت حال کوئی آزمائش نہ آ جائے ، یا کوئی مشکل صورت حال نہ ہو جائے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : وہ مسلسل مجھے ملامت کرتے رہے ، یہاں تک کہ میں نے یہ آرزو کی کہ وہ زمین میرے لئے اسی وقت شق ہو جائے اور میں اُس میں سما جاؤں ۔ راوی کہتے ہیں : پھر ان صاحب نے اپنے چہرے سے خود کو ہٹایا ، تو وہ سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ تھے ۔ انہوں نے کہا: اے عمر ! تمہارا ستیاناس ہو ، آج تم نے بہت زیادتی کی ہے ، بچاؤ کے لئے اور فرار ہو کر اللہ کی طرف ہی جانا ہے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : مشرکین سے تعلق رکھنے والے ، قریش سے تعلق رکھنے والے ، ایک شخص نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو تیر مارا اس شخص کا نام ابن عرقہ تھا ، اس نے اپنا تیر مارا اور کہا: لو ! اسے سنجالو ! میں ابن عرقہ ہوں ، وہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے بازو پر لگا ، اور اس نے ان کی رگ کو چیر دیا ، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور کہا: تو مجھے اس وقت تک موت نہ دینا ، جب تک بنو قریظہ کے حوالے سے تو میری آنکھیں ٹھنڈی نہیں کر دیتا ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : وہ لوگ ( یعنی بنو قریظہ ) زمانہ جاہلیت میں ان ( یعنی سیدنا سعد بن معاذ ) کے حلیف اور موالی رہے تھے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : پھر ان کا زخم بہنے لگا ، اللہ تعالیٰ نے مشرکین پر ہوا کو بھیج دیا اور اللہ تعالیٰ جنگ کے حوالے سے مومنین کے لئے کفایت عطا کرنے والا ہو گیا ، اللہ تعالیٰ قوت والا اور غلبے والا ہے ، ابوسفیان اور ان کے ساتھی تہامہ چلے گئے ، عینیہ بدر اور اس کے ساتھی نجد چلے گئے ، بنو قریظہ واپس آئے اور اپنے قلعوں کے اندر قلعہ بند ہو گئے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ واپس تشریف لائے ، آپ نے چمڑے کا خیمہ لگانے کا حکم دیا ، وہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے لئے مسجد میں لگا دیا گیا ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : سیدنا جبرائیل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ان کے سامنے کے دانتوں پر غبار موجود تھا ۔ انہوں نے کہا: آپ نے ہتھیار اتار دیے ہیں ؟ اللہ کی قسم ! فرشتوں نے ابھی ہتھیار نہیں اتارے ہیں ، آپ نکل کر بنو قریظہ کی طرف جائیں اور ان کے ساتھ لڑائی کریں ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہتھیار پہن لئے آپ نے لوگوں کو روانگی کا حکم دیا کہ وہ روانہ ہو جائیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی نکلے ، آپ کا گزر ہو غنم کے پاس سے ہوا جو مسجد کے پڑوسی تھے ۔ آپ نے دریافت کیا : تم لوگوں کے پاس سے ابھی کون گزرا ہے ؟ انہوں نے بتایا : ہمارے پاس سے سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ گزرے ہیں ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : داڑھی کے انداز ، عمر اور چہرے کی شکل کے اعتبار سے ، سیدنا دحیہ رضی اللہ عنہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ مشابہت رکھتے تھے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے پاس آئے ، آپ نے پچیس دن تک ان کا محاصرہ کیے رکھا ، جب ان کا محاصرہ شدید ہو گیا اور ان کی آزمائش سخت ہو گئی ، تو ان سے کہا: گیا : تم لوگ اللہ کے رسول کے فیصلے پر تیار ہو جاؤ ! ان لوگوں نے سیدنا ابولبابہ بن عبدالمنذر رضی اللہ عنہ سے مشورہ لیا ، تو انہوں نے انہیں اشارہ کیا کہ ایسی صورت میں انہیں ذبح کر دیا جائے گا ، تو ان لوگوں نے کہا: ہم سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فیصلے کو تسلیم کریں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ سعد بن معاذ کے فیصلے پر طے کر لو ! وہ لوگ نیچے اتر آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو ( لانے کا ) حکم دیا ، انہیں ایک گدھے پر سوار کر کے لایا گیا ، جس پر کھجور کے پتوں سے بنی ہوئی چادر موجود تھی ، ان کی قوم نے انہیں گھیرا ہوا تھا ، اُن کی قوم ان سے کہہ رہی تھی کہ اے ابوعمرو ! یہ آپ کے حلیف ہیں تمہارے موالی ہیں ، تمہارے ساتھی ہیں ، جیسا کہ آپ جانتے ہیں ، سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا اور نہ ہی ان کی طرف توجہ دی ، یہاں تک کہ وہ ان کے علاقے کے قریب ہو گئے تو انہوں نے اپنی قوم کی طرف متوجہ ہو کر یہ ارشاد فرمایا : میرے لئے مناسب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں ، کسی ملامت کرنے والے کی ملامت مجھے اپنی گرفت میں نہ لے ۔ راوی کہتے ہیں : سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب وہ سامنے آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اُٹھ کر اپنے سردار کی طرف جاؤ ، اور اسے نیچے اتارو ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمارا سردار ، اللہ تعالیٰ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے نیچے اتارو ! لوگوں نے انہیں نیچے اتارا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ان کے بارے میں فیصلہ دو ! سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ان کے بارے میں یہ فیصلہ دیتا ہوں کہ ان کے جنگجو افراد کو قتل کر دیا جائے ان کے بچوں کو قیدی بنا لیا جائے اور ان کے مال کو تقسیم کر دیا جائے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم نے اُن کے بارے میں اللہ کے فیصلے کے مطابق اور اس کے رسول کے فیصلے کے مطابق فیصلہ دیا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : پھر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے دعا کی اور کہا: اے اللہ ! اگر تو قریش کے ساتھ جنگ کے حوالے سے تیرے نبی کے لئے کوئی چیز باقی ہے ، تو اس جنگ کے لئے مجھے بھی باقی رکھ ، اور اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش کے درمیان جنگ ختم ہو چکی ہے ، تو مجھے اپنی طرف بلا لے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : تو ان کے زخم سے خون جاری ہو گیا ، حالانکہ پہلے وہ ٹھیک ہو کر چھوٹا سا رہ گیا تھا ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : وہ اپنے خیمے کی طرف واپس چلے گئے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے لگوایا تھا ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ان کے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ موجود تھے ( جب اُن کا آخری وقت آیا تھا ) ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے ، میں اپنے حجرے میں موجو درہ کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے رونے کے مقابلے میں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے رونے کو پہچان رہی تھی ، کیونکہ اُن لوگوں کی مثال اسی طرح تھی ، جس طرح اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” وہ لوگ آپس میں رحم دل ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ علقمہ کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : اے امی جان ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز عمل کیا تھا ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو کسی کے لئے جاری نہیں ہوتے تھے ، لیکن جب آپ کو شدید غم لاحق ہوتا تھا ، تو آپ اپنی داڑھی شریف پکڑ لیتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو بن علقمہ ہے اور وہ ” حسن الحدیث “ ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10155
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (141/6)»