مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ الْخَنْدَقِ وَقُرَيْظَةَ باب: غزوہ خندق اور غزوہ بنو قریظہ کا بیان
حدیث نمبر: 10168
وَعَنِ أَسْلَمَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : جَعَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أَسْرَى قُرَيْظَةَ ، فَكُنْتُ أَنْظُرُ إِلَى فَرْجِ الْغُلَامِ ، فَإِنْ رَأَيْتُهُ قَدْ أَنْبَتَ ضَرَبْتُ عُنُقَهُ ، وَإِنْ لَمْ أَرَهُ قَدْ أَنْبَتَ جَعَلْتُهُ فِي مَغَانِمِ الْمُسْلِمِينَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤محمد محی الدین
سیدنا اسلم انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قریظہ کے قیدیوں کا نگران مقرر کیا ، میں لڑکوں کی شرمگاہ کی طرف دیکھتا تھا ، جس کو میں دیکھتا تھا کہ اُس کے زیر ناف ناف بال اگ چکے ہیں ، تو میں اس کی گردن اڑا دیتا تھا ، اور اگر میں یہ دیکھتا تھا کہ ابھی نہیں آگے ہیں ، تو اسے مسلمانوں کے مال غنیمت میں شامل کر دیتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔