حدیث نمبر: 10147
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَنْزَى أَخِي عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ فَرَسَهُ خَنْدَقًا ، فَضَرَبَ الْفَرَسَ ، فَدَقَّ جِدَارُ الْخَنْدَقِ سَاقَهُ ، فَأَتَيْنَا بِهِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى فَرَسِهِ ، فَمَسَحَ سَاقَهُ فَمَا نَزَلَ عَنْهَا حَتَّى بَرَأَ . ¤ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ فِي قَصِيدَةٍ لَهُ : ¤ فَأَنْزَاهَا عَلَيَّ فَهْيَ تَهْوِي هَوَى الدَّلْوِ مُتَرَّعَةً بِسُدْلِ صُفُوفَ الْخَنْدَقَيْنِ فَأَهْرَقَتْهُ ¤ هَوِيَّةَ مُظْلِمِ الْحَالَيْنِ عَمْلِ فَعَصَّبَ رِجْلَهُ فَمَشَى عَلَيْهَا ¤ سُمُوَّ الصَّقْرِ صَادَفَ يَوْمَ طَلِّ فَقَالَ مُحَمَّدٌ صَلَّى عَلَيْهِ ¤ مَلِيكُ النَّاسِ : هَذَا خَيْرُ فِعْلِ لَعًا لَكَ فَاسْتَمَرَّ بِهَا سَوِيًّا ¤ وَكَانَتْ بَعْدَ ذَاكَ أَصَحَّ رِجْلِ . ¤ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَادَةَ : يُقَالُ إِذَا عَثَرَتِ النَّاقَةُ : لَعًا لَكِ ؛ أَيِ : ارْتَفِعِي وَاسْتَعْلِي ، قَالَ الْأَعْشَى : ¤ بِذَاتِ لَوْثٍ عَقَرْنَاهُ إِذَا عَثَرَتْ فَالنَّعْشُ أَدْنَى لَهَا مِنْ أَنْ يُقَالَ لَعَا ¤ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، میرے بھائی علی بن حکم نے اپنے گھوڑے کے ذریعے خندق کو عبور کرنا چاہا ، تو گھوڑا خندق کی دیوار سے ٹکرایا اور میرے بھائی کی پنڈلی ٹوٹ گئی ، ہم اسے گھوڑے پر سوار کر کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پنڈلی پر ہاتھ پھیرا ، تو وہ گھوڑے پر سے اترنے سے پہلے ہی ٹھیک ہو چکا تھا ، سیدنا معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں ایک قصیدہ کہا: ہے ( جس کے اشعار یہ ہیں : ) ” اس نے اس کو چھلانگ لگوانا چاہی ، تو وہ نیچے آ رہا جس طرح کوئی بھرا ہوا ڈول لٹکانے سے نیچے آتا ہے ، اس نے خندق کو پار کرنا چاہا ، لیکن تاریک صورتحال والی بھنبھناہٹ نے اس کو نیچے گرا دیا ، اس شخص نے اپنی ٹانگ پر پٹی باندھی اور اس پر یوں چلنے لگا جس طرح تیز بارش والے دن شکرا جاتا ہے ، تو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، ان پر درود ہو ، جو لوگوں کے بادشاہ ہیں ، انہوں نے فرمایا : یہ اچھا فعل ہے ، تم اُٹھو اور اس ( ٹانگ ) کو سیدھا کر کے چلو ، تو وہ ٹانگ اس کے بعد سب سے بہتر ٹانگ کی حالت میں تھی “ ۔ محمد بن عبادہ بیان کرتے ہیں : جب اونٹنی کو ٹھوکر لگتی ہے ، تو اس کے لئے یہ لفظ کہا: جاتا ہے : ” لعالک “ یعنی تم اُٹھ جاؤ ، اوپر آ جاؤ ! اعشی نامی شخص نے یہ اشعار کہے ہیں : ” وہ ( اونٹنی ) کمزوری والی تھی ، جب اس کو ٹھوکر لگی تو ہم نے اس کو ذبح کر دیا ، کیونکہ اس کے لیے لاش بن جانا اس سے زیادہ موزوں تھا کہ یہ کہا: جائے : تم اُٹھو ! “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں اور ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن حبان نے اُسے ثقہ کہا: ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10147
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف